نظام تعلیم کو بہتر کیسے بنایا جائے؟

نظام تعلیم کو بہتر کیسے بنایا جائے؟
 نظام تعلیم کو بہتر کیسے بنایا جائے؟

  


جب نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے تواس سلسلے میں ہمارے ذہن میں یہ باتیں ہوتی ہیں:

(1)تعلیمی اداروں میں تعلیم و تدریس اور تحقیق بامقصد، بہتر اور معیاری ہو۔

(2) ایسی کہ جس سے طلبہ و طالبات کے علم و شعور، صلاحیت کار اور فن میں اضافہ ہو۔

(3)ان کی ہر طرح کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے انہیں ضروری رہنمائی اور ماحول میسر آئے۔

(4)نئی نسل زمانے کے جدید تقاضوں اور علوم وفنون سے آگاہ ہوکر قوم و ملک کی بہتر خدمت کی راہوں کو پہنچان سکے۔

(5) تعلیمی اداروں کی تعلیم و تربیت نوجوانوں کے لئے روزگار کے بہتر مواقع تلاش کرنے میں معاون ہو سکے۔

(6) بہتر اخلاقی اقدار اور نظم و ضبط سے شناسائی کے بعد نوجوانوں میں اپنی زندگی کے بہتر نصب العین کے تعین کی صلاحیت پیدا ہوسکے۔

تعلیمی اداروں سے باہر بھی انسان ساری عمر بہت کچھ سیکھتا ہے۔ زندگی کے تجربات اور دوسرے لوگوں سے لین دین اور تعلقات میں اسے بہت سے زمینی حقائق کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ عملی زندگی اکثر و بیشتر نصابی باتوں سے کافی مختلف ہوتی ہے، لیکن تعلیمی اداروں میں داخل ہوکر سماجی اور سائنسی علوم کے مختلف شعبوں پر دسترس حاصل کرنے کا بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک طے شدہ نصاب کے مطابق کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ علم اور مہارت حاصل کرلے۔ اس کے لئے اس کو ماہر اساتذہ کی رہنمائی میسر ہوتی ہے، ضروری لیبارٹریز کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں کے مواقع میسر ہوتے ہیں ایک معینہ مدت میں مقررہ مطالعہ اور تجربات اور تحقیق وغیرہ کے مراحل سے گذرنا ہوتا ہے۔ امتحانات میں ناکامی اور کامیابی اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مقابلہ و مسابقت کی فضا ایک طالبعلم کو سیکھنے اور سمجھنے کے عمل پر توجہ دینے اور محنت کرنے پر مجبور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے نتائج حاصل کرلئے جاتے ہیں۔خاص طور پر جب ایک انسان اپنے باقی سب معاملات کو چھوڑ کر حصول علم کی راہ میں نکلتا اور ایک کل وقتی طالبعلم کے طور پر نظری علم اور فنی مہارت حاصل کرتا ہے تو اس کے سیکھنے اور سمجھنے کا عمل یقینا بہت وسیع، موثراور تیز تر ہو جاتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں ایک کلاس کے طالبعلموں کے لئے نصاب سے متعلق باہم بحث مباحثہ اور مذاکرات کرنے ا ور اساتذہ سے سوالات پوچھنے کے وسیع مواقع میسر ہوتے ہیں،جس سے ان کو ہر طرح کے ذہنی الجھاؤ سے نجات پانے اور اپنے نصاب کی باریکیوں کو سمجھنے میں آسانی رہتی ہے۔

جہاں تک نظام تعلیم کا تعلق ہے اس میں ابتدائی تعلیم، پرائمری اور مڈل کے بعد ہائی سکول اور کالج اور یونیورسٹی سطح تک کی تعلیم کے لئے الگ الگ پالیسیاں الگ نصاب اور الگ تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح عمومی عمرانی اور سائنسی تعلیم کے علاوہ فنی تعلیم، میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم کے لئے الگ ادارے قائم کئے جاتے ہیں۔ اب تک اقوام عالم پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ دُنیا میں ترقی کرنے اور مقابلہ و مسابقت کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے ہر طرح کی اعلی تعلیم و تحقیق کے علاوہ ہر سطح پر افراد قوم کی معیاری تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔

دراصل کسی بھی پیشے اور شعبہ زندگی میں وقت گذارنے یا کام کرنے کے لئے تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ کام اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ملکی معاملات کو کامیابی سے چلانے یا قوم کو خوشحال اور ملک کو مضبوط بنانے کا کام۔دُنیا میں ہر کہیں تعلیمی نظام قائم کرنے ادر اس کے لئے پالیسی سازی کا کام حکومتیں کرتی ہیں۔ پاکستان کو قدرت نے جہاں بے پناہ معدنی و زرعی وسائل، پانی اور اچھے موسموں سے نوازا ہے وہاں بہترین صلاحیتوں کے مالک کروڑوں انسانوں کا سرمایہ بھی ملک کے پاس ہے۔ اسے ہیومن ریسورس یعنی افرادی قوت (انسانی وسائل) کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ماضی کی حکومتوں کی طرف سے اس وسیلے کو ترقی دینے پر توجہ نہیں دی جاتی رہی، ہمارے کروڑوں بچے کبھی سکول ہی نہیں جاتے۔

بہت بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہوتی ہے، جو غیر معیاری سرکاری و نیم سرکاری سکولوں میں جاتے ہیں لیکن اساتذہ کے تشدد اور ناقابل برداشت رویہ کی وجہ سے ابتدائی کلاسوں کے بعد ہی سکول چھوڑ جاتے ہیں۔ اعلی سطحی حکومتی تعلیمی اداروں کے معیار کا معاملہ بھی افسوسناک ہے۔ اکثر وبیشتر صورتوں میں ایسے اداروں کے طلبہ و طالبات بھی اپنے علم، مہارت اور شعور میں اضافے کے بجائے محض کاغذ کے ایک ٹکڑے ڈگری کے حصول پرہی توجہ مرکوز کئے رکھتے ہیں۔

ملکی تعلیمی نظام میں یہ باتیں شامل سمجھی جاسکتی ہیں:

(1) ملک میں مختلف سطح پرمختلف قسم کی تعلیم کا نظم و نسق کون سے ادارے چلائیں گے۔

(2)سرکاری اور نجی سطح پر تعلیمی ادارے قائم کرنے اور اس کی اجازت دینے اور ا ن کے اخراجات پورے کرنے یا مالی اعانت کا انتظام کیا ہوگا۔

(3)مختلف سطح پر امتحانا ت لینے اور ڈگریاں جاری کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا اور اس سلسلے میں کسے کیا اختیار دیا جائے ہوگا۔

(4) میٹرک تک تعلیم کا حصول ہر کسی کے لئے لازم قرار دینے کے ضروری انتظامات اور قوانین کیا ہوں گے۔

(5) اعلیٰ سطح کی ڈگریوں کے جانچنے کے یکساں پیمانے کیا ہوں گے۔

(6) نصاب کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینے کا کام کون کرے گا او ر وقت کے نئے تقاضون کے مطابق اس میں مسلسل تبدیلی کس طرح لائی جائے گی۔

(7) تعلیمی اداروں کے معیار اور تعلیمی عمل کے کام کی نگرانی کون کرے گا۔

(8) مختلف علاقوں کی مخصوص ضرورتوں کے مطابق مخصوص کورسز تیار کرنے کے علاوہ قومی ہم آہنگی اور یگانگت پیدا کرنے کے لئے نصاب میں یکسانیت کس سطح پر کس طرح پیدا کی جائے گی۔

(9) کس طرح ہماری یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق کو اپنی قومی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

(10)کس طرح مختلف سطح پر درکار ماہر افرادی قوت تیار کی جائے گی ، تعلیم یافتہ افراد کی تعداد اور ان کے لئے میسر روزگارکے مواقع میں توازن کس طرح پیدا کیا جائے گا۔

(11)غریب اور امیر سب کے بچوں کو کس طرح یکساں اور معیاری تعلیم مہیا کی جائے گی۔

(12) کس طرح بجٹ میں تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم مخصوص کی جائے گی۔

(13) کس طرح مختلف سطح پر تعلیمی اداروں کی تعلیمی سرگرمیوں کے معیار کو پرکھا اور اس کی نگرانی کی جائے گی۔

(14)دوسرے ملکوں کے بہتر تعلیمی نظاموں سے ہم کس طرح اپنے نظام کی بہتری کے لئے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔

(15)طلبہ کی فیسوں اور وظائف میں توازن کس طرح قائم کیا جائے گا۔

نظام تعلیم میں بہتری کی تجاویز:

تعلیم کے معیاری اور بامقصد ہونے کا سب سے زیادہ انحصار خود طالبعلموں پر ہے، جنہوں نے کہ تعلیم حاصل کرنا ہے۔ اگر وہ خود حصول تعلیم کے سلسلے میں مخلص نہیں ہوں گے، ان میں اخلاص اور لگن کے ساتھ، ایک جذبے اور شوق سے تعلیم اورتربیت حاصل کرنے کا ذوق پیدا نہیں ہو گا تو پھر انہیں کسی طرح کا لالچ اور خوف حقیقی علم حاصل کرنے پر مائل نہیں کرسکے گا۔ دنیا کی اقوام سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے بڑھ رہی ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینئر اور سائنس دانوں کی حیثیت سے بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں نے اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں سے بہت نام کمایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اگر پاکستانی نوجوان زندگی کے اعلیٰ نصب العین لئے ہوئے اخلاص کے ساتھ محنت کریں تو یہ کوئی سی منزل بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

آج دُنیا بھر میں بڑے بڑے کام کرنے والے پاکستانی ہمارے اسی موجودہ نظام ہی، لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ صرف دو فیصد کے قریب طلبہ و طالبات ہی نصاب پر توجہ دینے اور محنت کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اکثریت کی نظر صرف کاغذ کے اس ٹکڑے پر ہوتی ہے جسے ڈگری کانام دیا جاتا ہے۔ تاہم تعلیمی میدان میں انقلاب لانے اور قومی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے یونیورسٹی سطح پر نظام تعلیم میں بہتر ی کے لئے یہ تجاویز پیش کی جاتی ہیں:

(1)تعلیم کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر موجودہ بجٹ فی الفور کم از کم دوگنا کردیا جائے۔

(2) ایف اے/ایف ایس سی سطح تک مفت معیاری تعلیم غریب امیر سب کے بچوں کے لئے لازمی قرار دی جائے اور اس کے تمام ضروری انتظامات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں۔

(3) قومی بجٹ کے متوازی تعلیم کے لئے الگ تعلیمی بجٹ منظور کیا جائے اور یہ ساری رقم صرف تعلیم پر خرچ کی جائے۔

(4)باہر جانے والی لیبر سو فیصد ابتدائی فنی تعلیم سے بہرہ مند ہو، ان کی بیرون ملک رہتے ہوئے قوم کی نیک نامی کے سلسلے میں بھی تربیت کی جائے۔

(5)جب تک ہماری قوم میں بددیانت لوگوں کی موجودہ بھاری اکثریتی موجود ہے اس وقت تک ہماری یونیورسٹیوں کا موجودہ سمیسٹر سسٹم قطعی طور پر نامناسب ہے،) جس میں طلبہ کو گریڈ دینے کا قطعی اختیار ان کے اساتذہ کو دے دیا گیا ہے اور ان کی مارکنگ کے خلاف کسی طرح کی اپیل کا بھی کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔ اس سے بہت سے سنگین مسائل یونیورسٹیوں میں مسلسل پیدا ہورہے ہیں)۔

(6)یونیورسٹی سطح پر پڑھائے جائے والے تمام کورسز میں اگر ہر سال نہیں تو زیادہ سے زیادہ دو سال بعد وقت کے تقاضوں کے مطابق کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور لائی جانی چاہئے۔ اس کے ذمہ دار متعلقہ ٹیچرز کو بنایا جائے کہ وہ مطالعہ کے لئے نصاب میں مندرجات، مطالعہ اور عملی کام کے ضمن میں تبدیلیاں تجویز کریں اور انہیں متعلقہ اداروں سے منظور کرائیں۔

(7) ہر ٹیچر اپنے کورس کا لرننگ ٹیچنگ فارمیٹ تیار کرے۔ یعنی کو رس کے مقاصد اور مندرجات بتانے کے بعد پورے سمیسٹر کے دوران کورس میں دئیے جانے والے لیکچرز، عملی کام، اسائن منٹس،مباحث اور امتحانات کے متعلق ہر ہفتے کا پروگرام بتائے۔ امتحان کی نوعیت کیا ہو گی اور کن تواریخ کو ہوں گے۔ طلبہ کو کون سا مواد کہاں سے پڑھنا ہوگا؟ اس سب کچھ کے متعلق تفصیل سمیسٹر کے آغاز ہی میں طلبہ و طالبات کو بتا دینی چاہئے اور پھر اس کے عین مطابق کام کرایا جائے۔ اس کی نگرانی انتظامیہ کرے کہ تدریس کا یہ کام اس دئیے گئے شیڈول کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں۔

(8) ہر ٹیچر کو کورس کے اختتام پر اپنی کارکردگی اور طلبہ کے اطمینان کی سطح جاننے کے لئے ایک سوالنامہ دینا چاہئے، جس سے وہ خود اپنے لیکچرز، کلاس مینجمنٹ اور طلبہ کی شرکت کے متعلق طلبہ کی رائے حاصل کر کے اپنی کامیابی کا اندازہ کر سکتا ہے،اور آئندہ کے لئے اپنی کمزوریوں پر قابو پا سکتا ہے۔

(9) یونیورسٹی اساتذہ کی دورا ان ملازمت ٹریننگ کا مسلسل انتظام کیا جائے، جس میں انہیں ان کے فیلڈ کے نئے چیلنجز سے روشناس کرایا جائے۔

(10) یونیورسٹی سطح کی تحقیق کے عملی زندگی میں اطلاق کے لئے مربوط سسٹم تشکیل دیا جائے تاکہ اہم قسم کی تحقیق پر کی گئی محنت رائیگاں نہ جائے۔

مزید : رائے /کالم