اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 155

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 155
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 155

  


حضرت اویس قرنیؒ کو راہ چلتے ہوئے لڑکے پتھر مارا کرتے تھے اور آپ اُن سے صرف یہ کہا کرتے تھے کہ ذرا چھوٹے پتھر مارا کرو تاکہ میری پنڈلی نہ ٹوٹ جائے اور میں کھڑا ہوکر نماز پڑھنے کی سعادت سے عاجز آجاﺅں۔

٭٭٭

حضرت احنفؒ بن قیس کو ایک شخص گالیاں دینے لگا۔ آپ چپ رہے لیکن وہ نہ شرمایا اور گالیاں بکتا ہوا آپ کے ساتھ چلا جاتا تھا۔

جب آپ اپنے اہل قبیلے کے گھروں کے نزدیک پہنچے تو وہیں کچھ فاصلے پر رُک گئے اور اس سے فرمایا کہ اگر کچھ گالیاں باقی رہ گئی ہوں تو یہیں پر سنا لے کیونکہ اگر میرے قبیلے والوں نے تجھے گالیاں دیتے ہوئے سن لیا تو تجھے تکلیف پہنچائیں گے۔“

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 154 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک بزرگ نے خلیفہ ہارون الرشید کو میدان عرفات میںدیکھا کہ ننگے سر اور ننگے پاﺅں گرم ریت اور پتھروں پر ہاتھ اوپر اُٹھائے کھڑا ہے اور گڑ گڑا کر یہ کہہ رہا ہے کہ خدایا ! تو تو ہے اور مَیں مَیں ہوں۔ میرا کام یہ ہے کہ ہر وقت برسرگناہ رہوں اور تیرا کام ہمہ وقت عغو و بخشش ہے۔ اے رحمان و رحیم! مجھ پر رحم فرمایا۔“

اس بزرگ نے کہا ”دیکھئے یہ جبار زمیں اس جبار آسماں کے سامنے کس طرح رو رو کر فریاد کررہا ہے۔

٭٭٭

ایک دن حضرت شاہ نظام الدینؒ اورنگ آبادی کی خانقاہ میں عرس کی تقریبات ہورہی تھیں۔ قوال عربی کے اشعار گارہے تھے۔ اتنے میں ایک اجنبی شخص آیا۔ اس نے ایک شعر پر بحث و مباحثہ کرنا شروع کردیا۔

دو ایک جواب دے کر آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ یہ وقت بحث کا نہیں ہے سماع سننے کا ہے۔ جب آپ نے اس کا نام دریافت کیا تو اس شخص نے اپنا نام عبدالغنی بتایا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا ”فقیروں سے جھوٹ بولنا اچھی بات نہیں۔ دوبارہ اس نے اپنا نام عبداللہ بتایا۔ تھوڑی دیر بیٹھ کر وہ شخص چلا گیا۔

کچھ دنوں بعد وہ شخص پھر آیا۔ آپ نے اس سے فرمای کہ پچھلی مرتبہ جب وہ آیا تھا۔ تو سماع ہورہا تھا اور اس وجہ سے اس کی تسلی و تشقی نہ ہوسکی۔ اب جو کچھ اس کے شک و شبہات ہوں بیان کرے۔“

اس شخص نے عرض کیا کہ اس کی تسلی اسی دن ہوگئی تھی او راب تو وہ معافی مانگنے کے لیے آیا ہے۔

آپ مسکرائے اور فرمایا کہ نہ تو تمہارا نام عبداللہ ہے اور نہ عبدالغنی۔ پھر آپ نے اس کا اصل نام اور اس کی جائے رہائش اور اس کی تعلیم کے متعلق جو فرمایا تو وہ شخص سن کر شرمندہ اور حیران ہوا اور آپ کا ہمیشہ کے لیے معتقد ہوگیا۔

٭٭٭

ابو جعفر خلیفہ تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک زانی کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ حضرت مبارک بن فقالہؒ بھی وہاں موجود تھے۔ خلیفہ سے کہا ”اے امیر المومنین! پیشتر اس کے کہ اس حکم پر عملدرآمد ہو۔ رسول اکرم ﷺ کے ار شادات عالیہ میں سے بھی کچھ سن لیجئے۔“

خلیفہ کے استفسار پر آپ نے کہا ”حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کہ تمام لوگ ایک صحرا میں جمع کئے جائیں گے۔ مناوی والا آواز دے گا کہ جس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کی ہمت ہو۔ وہ اُٹھ کھڑا ہوجائے اور یہ حوصلہ انہی کو نصیب ہوسکے گا جنہوں نے اس دنیا میں عفوودرگزر سے کام لیا ہوگا۔“

یہ سن کر خلیفہ نے اس شخص کی رہائی کا حکم دے دیا اور اسے معاف بھی کردیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 156 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے