اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 156

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 156
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 156

  


حضرت ابن عطاؒ فرماتے ہیں ”خدا کے سوا اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے سکون حاصل کرتا ہے تو آخر کار وہی دوسرا اس کے لیے ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔ وسائل پر اعتماد کرنے سے تکبر جنم لیتا ہے۔“

٭٭٭

ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت فضیل بن عیاضؒ کو بتایا کہ حضرت سفیان یمنیہؒ بادشاہ سے خلعت لیتے ہیں۔

آپ نے فرمایا ”کوئی بات نہیں۔ ان کا حق بھی تو بیت المال پر زیادہ ہے۔“

لیکن بعدمیں جب تنہائی میں سفیان سے ملاقات ہوئی تو ان سے سخت ناراض ہوئے اور ملامت کی۔

سفیانؒ نے کہا ”اے اباعلی! مَیں صالحین میں سے بے شک نہیں ہوں لیکن صالحین سے محبت ضرور رکھتا ہوں۔“

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 155 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہشام بن ملک نے ایک مرتبہ حضرت ابو حازمؒ سے سوال کیا کہ اس کار حکمرانی سے پوری طرح عہدہ برآہونے کا کیا طریقہ ہے۔

حضرت ابو حازمؒ نے کہا ”ہر درہم جو تم کسی سے وصول کرو اور پھر اسے ایسی جگہ خرچ کرو جہاں خرچ کرنے کا حق ہو۔“

خلیفہ نے کہا ”اس طرح کون خرچ کرسکتا ہے؟“

آپ نے فرمایا ”وہ جسے عذاب دوزخ کی طاقت نہ ہو اور بہشت کو دوست رکھتاہو۔“

٭٭٭

حضرت میران سید شاہ کے پیرو مرشد کے حجرے کی چھت خراب ہوگئی۔ سب مریدوں نے چھت کی مرمت کی لیکن چھت ٹھیک نہیں ہوئی۔

آپ کے پیرو مرشد نے مسکرا کر فرمایا کہ میراں جی سے چھت درست ہوگئی۔

حضرت میراں سید شاہؒ اس زمانہ میں چلہ میں تھے۔ آپ کو بلایا گیا، آپ چلہ سے باہر آئے اور چھت درست کرنے میں مصروف ہوئے۔ آپ نے گھاس اُکھاڑی پھر مٹی اور پانی ڈال کر چھت کو لوٹنا شروع کیا۔ جتنی بار کوٹتے تھے۔ ہر بار ہر ضرب پر ایک مقام ظاہر ہوتا تھا۔

٭٭٭

سلیمان بن عبدالملک خلیفہ تھا۔ ایک دن اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ اس دنیا میں جو اتنے عیش و عشرت سے زندگی گزار رہا ہوں تو آخر قیامت میں میرا کیا حال ہوگا۔ پس اسی وقت اپنے کسی آدمی کو حضرت ابو حازمؒ کے پاس بھیجا اور انہیں کہلوا بھیجا کہ جس چیز سے آپ روزہ افطار کرتے ہیں وہ تھوڑی سی مجھے بھی بھجوادیجئے گا۔ آپ کے گیہوں کے آٹے کا تھوڑا چھان بھون کر اُسے بھیج دیا اور کہلوا بھیجا کہ میں تو رات کو یہی کچھ کھاتا ہوں۔“

سلیمان نے جو دیکھا تو بہت رویا اور اس چیز نے اس کے دل پر اتنا گہرااثر کیا کہ تین دل مسلسل روزہ رکھا اور کچھ نہ کھایا اور تیسری شام کو روزہ اسی چھان سےافطار کیا۔ کہتے ہیں کہ اسی رات کو اپنی اہلیہ صحبت کی جس سے اس کے ہاں عبدالعزیز پیدا ہوئے اور یہ وہی عبدالعزیز ہیں جن کے گھر میں عمر پیدا ہوئے اور جو بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے نام سے چاروانگ عالم میں مشہور ہوئے کہ عدل و انصاف میں حضرت عمرؓ بن خطاب کے عہد زریں کی یاد تازہ کردی اور کہتے ہیں کہ یہ اُسی نیک نیتی اور اسی طعام کی برکت تھی۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 157 پڑھنے  کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے