اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 145

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 145
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 145

  

حضرت حاتم اصمؒ فرماتے ہیں کہ جہاد کی تین قسمیں ہیں۔ اول ابلیس سے ایسا جہاد جس سے وہ زچ ہوجائے۔ دوم اعلانیہ جہاد یعنی فرض کی ادائیگی کے لئے، سوم کفار سے اس طرح جہاد کرو کہ یا تو خود ختم ہوجاﺅ یا انہیں ختم کردو۔“

کسی شخص نے آپ سے کہا ”فلاح شخص نے بہت دولت جمع کرلی ہے۔“

آپ نے فرمایا کہ کیا اس نے زندگی کا بھی ذخیرہ کرلیا ہے؟ کیونکہ مردوں کا دولت جمع کرنا قطعاً بے سود ہے۔“

٭٭٭

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 144 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک شخص حضرت سلمانؒ کے ہاں وارد ہوا۔ انہوں نے جو کی روٹی اور نمک اس کے سامنے رکھا۔ اس شخص نے کہا کہ ”اگر اس کے ساتھ سقہ (ایک خاص قسم کی پتی) ہوتی تو اس نمک سے بہتر رہتی۔“

سلمانؒ کے پلے میں اس وقت کچھ بھی نہ تھا لیکن اس کی دلداری بہر حال لازم تھی اس لیے آفتابہ گروی رکھ کر اس کی فرمائش پوری کردی۔

اس شخص نے کھانا کھا کر کہا ”شکر ہے حق تعالیٰ کا جس نے مجھے دئیے ہوئے رزق پر قناعت عطا فرمائی۔“

حضرت سلمانؒ نے کہا ”اگر تو قانع ہوتا تو مجھے آفتابہ گروی رکھنے کی ضرورت نہ ہوتی۔

٭٭٭

حضرت میاں میرؒ کے ایک خادم غیاث الدین کے ہاں بچہ نہیں ہوتا تھا۔ اس نے دوسری شادی کرنا چاہی۔ آپ نے منع فرمایا اور اس کو یہ خوشخبری دی کہ اس کے یہاں کئی لڑکے پید اہوں گے۔ چنانچہ اسی بیوی سے دس بچے ہوئے۔

٭٭٭

حضرت یحییٰ بن معینؒ نے حضرت احمد بن حنبلؒ سے کہا کہ میں کسی سے کوئی چیز لینے کا روادار نہیں ہوں لیکن ا گربادشاہ مجھے کچھ دے تو کیا لے لوں؟“

اس پر آپ سخت ناراض ہوئے اور یحییٰ سے بول چال بھی ترک کردی۔ یہاں تک کہ انہوں نے معافی مانگی اور کہا کہ میں نے تو یوں ہی مذاق میں کہہ دیا تھا۔ آپ نے فرمایا ”حلال روزی حاصل کرنا امور دین میں شامل ہے اور دین سے ہنسی مذاق تو نہ کیا کرو۔“

٭٭٭

ایک دن حضرت شاہ امیر ابوالعلی کی ملاقات جمنا کے پار ایک جوگی سے ہوئی۔ اس جوگی نے ایک ڈبیہ آپ کو پیش کی۔

آپ نے جوگی سے دریافت کیا کہ ڈبیہ میں کیا ہے؟“

جوگی نے جواب دیا کہ اکسیر ہے اور اکسیر کی صفت، یہ ہے کہ ایک رتی بھرتانبے پر ملنے سے تانبا سونا ہوجاتا ہے۔

آپ نے وہ ڈبیا دریائے جمنا میں پھینک دی اور جوگی سے فرمایا ”کہ انسان تو خود اکسیر ہے ایسی صورت میں دوسری اکسیر کی تدبیر کرنا انسان کی تحقیر ہے۔“

جوگی کو اس بات سے رنج ہوا۔ آپ سے کہنے لگا ”افسوس میری ساری عمر کی کمائی جمنا میں لٹادی۔“

آپ نے اس جوگی سے پوچھا کہ اچھا یہ بتاﺅ۔ اکسیر کیسی ہوتی ہے؟“

جوگی نے جواب دیا ”خاک سی۔“

آپ نے جوگی سے فرمایا ”خاک کی یہ دھاک۔ یہ افسوس اور یہ ملال۔ ادھر دیکھو جمنا کی یہ ریت سب خاک ہے۔ جتنی چاہے تو وہ تو ایک چھوٹی سی ڈبیہ تھی۔ بڑے شوق سے ڈبے بھر لو اور بے تکلف اس سے سونا بنالو۔“

سادھو کو یقین نہ آیا پھر بھی اس نے تھوڑی سی ریت بطور آزمائش لے کر تانبے پر ملی۔ تانبا زر خالص ہوگیا۔ سادھو آپ کی یہ کرامت دیکھ کر آپ کے پیروکار ہوگیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 146 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے