قرآن مجید اور کورونا

قرآن مجید اور کورونا
 قرآن مجید اور کورونا

  



دوستوں کی آگاہی کے لئے کچھ ڈاکٹرز دوستوں سے بات ھوئی اور چونکہ خود بھی سائنس کا طالب علم رہا ہوں اس لئے عام فہم انداز میں گوش گزار کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ عرض ہے کہ مختلف جانور چائنیز اس کو پچھلی کئی دبائیوں سے کھا رہے ہیں اور یہ ڈِش ان کے شہرووھان wuhan میں کثرت سے کھائی جاتی ہے۔ پیتھالوجی میں اس کرونا وائرس کا زکر ہے اور civet اس کا carrier ہے اس کے علاوہ bat چمگادڑ اس وائرس کی life دو دن یعنی 48 گھنٹے ہے اور اس کا ھوسٹ host انسان ہے جبکہ ڈینگی اور طاعون کی صورت میں مچھر اور چوہا hosts ہوتے ہیں اب مچھر اور چوہے کو مارنا آسان ہے۔ جبکہ انسان کی جان لینا بہت مشکل کام ہے، لیکن مختلف ممالک جو کہ کرونا کی زد میں آئے انہوں نے یہ کیا میری ناقص عقل کے مطابق میں اس بات کو خارج از امکان نہیں سمجھتا کہ آج کا دور ہتھیاروں کی جنگ کا دور نہیں بلکہ economic balance of power کا دور ہے، اور اب دنیا strategic balance of power سے نکل آتی ہے آج کے دور میں کسی کو تباہ کرنا ہو تو اس ملک کی معشیت کو تباہ کر دو اور معاشی بد حالی کا شکار کر دو۔

آقائے دو جہاں سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ کی احادیث کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو آپ نے فقر کو چہرے کی کالک کھا ہے اور یہ کہ افلاس انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اس بات کے قوی امکانات ھیں کہ China کی بڑہتی ہوئی اور پھلتی پھولتی معیشت کے پیچہے عالمی قوتیں ہاتھ دہو کر پڑی تھیں اور ان قوتوں نے China کی vulnerability کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی Achilles heel یعنی دکھتی رگ کو قابو کرے اس کی اکانومی کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے اس ناچیز نے تو شروع میں ہی اس بات کا نہ صرف عندیہ دیا بلکہ کھل کر اظہار رائے دی اور آج میرے حلقہ احباب جن میں intelligentsia بھی شامل ہے میری اس رائے سے نہ صرف متفق ہے بلکہ خود اس زاویہ نگاہ سے دیکھنا شروع کردیا ہے آیئے اب اس کرونا وائرس کی بات کرتے ہیں یہ ہے کیا بلا اور مصیبت جب اس وائرس کا دخول ایک انسان سے دوسرے انسان میں ھوتا ہے تو یہ replicate کرتا ہے یعنی اپنی شکل تبدیل کرتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو handle کرنا نہ صرف complicated ہے بلکہ مشکل بھی لیکن نا ممکن ہرگز نہیں hybrid war اور fifth generation war کو مد نظر رکھتے ہوئے biological اور chemical war tactics کی طرف غور کرنا ھوگا اور سوچنا ھو گا کہ ان حربوں کے خلاف کیسے مثبت اور ٹھوس اقدامات کرنے ہیں اور پھر کیسے مقابلہ کرنا ہے اور پیش قدمی کرنی ہے۔

چائنہ جو کہ کئی دہائیوں سے civet cat اور bats اور پتہ نہیں کیا کیا کھا رہا ہے لیکن آج بھی اس وائرس نے اس کو اور باقی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا تھا بڑی عالمی طاقتوں کے تھنک ٹینکس پتہ نھی کب سے اس کی پلاننگ کررہے ہوں گے اور آخر ایک دن اپنی اس پلاننگ سے ہر شے تہ و بالا کردی اور انسانیت کو ایک کڑی آزمائش اور امتحان میں ڈال دیا۔ اگلا مر حلہ اب اس کی میڈیسن اور ویکسینیشن کا ہے جس سے کھربوں ڈالر کمائے جایئں گے اور کمزور معیشت والے ممالک کا خون نچوڑا جائے گا۔ میرا گمان ہے کہ چائنہ نے اندر ھی اندر اس کے treatment اور cure کے لئے کام شروع کردیا ہوگا اور اچانک جلد ہی ایک دن اس کی سستی اور موثر ویکسینیشن لے آئے گا۔ ایک دن یہ خدشات سچ ثابت ھوں گے اور ھر چال عیاں ھو جائیگی صرف چند ایام کے لئے انتظار کیجئے ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے اللہ پر یقین کامل رکھتے ہوئے اسی سے مدد مانگنی چاہئے اور شب معراج جیسے مقدس اور قیمتی تحفے کے صدقے اس بات پر توکل اور ایمان رکھنا چاہئے کہ انشاء اللہ اس پروردگار کی مدد آے گی اور وہی رب ھماری راہنمائی فرمائے گا۔ شھد، کلونجی، لیمن، ادرک، لہسن،گوار کندل، دار چینی اور نیم گرم پانی کا استعمال کریں، اس کے علاوہ نوافل ادا کریں چاروں قل، آیت الکرسی، سورہ نشرح کثرت سے پڑہیں اپنا اپنے اہل خانہ اور عزیزو اقارب کا خیال رکھیں۔

ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف ینگ ڈاکٹرز کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جو اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے مریضوں کی صحت یابی کے لئے دن رات سر گرم ہیں ہم اپنے قومی ہیرو شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی قربانی کو تاریخ ہمیشہ یاد رکہے گی اور سنھری حروف میں لکہے گی۔ اچھی خبر یہ بھی ہے کرونا وائرس کے علاج اور اس مہلک بیماری کی بیخ کنی کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں مثال کے طور پر رضاکارانہ طور پر isolation / quarantine centre۔8اس میں تھوڑا اضافہ کردیں ہمارے لئے اچھی خبر silver lining یہ ہے کہ ہمارے قومی نجی ادارے قومی سطح پر عوامی اور انفرادی سطح پر اور خیراتی ادارے سول انتظامیہ پاک فوج سپہ سالار سے لیکر انسان دوست اور دفاع عامہ کی تنظیمیں سپاہی تک اسی طرح پولیس اوپر سے نیچے تک تمام لوگ اس مصمم ارادے سے لبریز ہیں کہ اس مہلک وائرس کو شکست دینی ہے ہمارے وزیر اعظم تمام وزراء اور اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر دکھائی دیتی ہیں اگرچہ تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے جو کہ قدرتی عمل ہے اور نارمل بات ہے اور یہ کہنا بجا ہو گا کہ اس قدرتی آفت نے ہمیں یکجا کر دیا ہے اور ایک مضبوط قوم بنا دیا ہے خاص طور میں اپنے جدید طریقہ علاج جیسا کہ بیماری کے بعد صحت پانے والے مریضوں کے plasma یعنی liquid part کو استعمال کرکے patients کا علاج کیا جائے گا اس بات کی تصدیق ملک کے نامور طبی ماہرین کر چکے ہیں اور اس طریقہ علاج کو اپنائیں گے جس سے صحت پانے والے مریضوں کی شرح تیز ی سے بڑہے گی۔

مزید : رائے /کالم