اکتالیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

اکتالیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے ...
اکتالیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

  

خواجہ موید الدین یا خوجہ معین الدین

شہاب الدین کے قتل ہونے کے بعد امراء لشکر اور وزیر سلطنت خواجہ موید الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سب کے سب اس پر متفق ہوئے کہ جب تک خاندان شاہی میں سے کوئی شخص تخت کا مالک نہ ہو اس وقت تک شاہی خزانوں کی کامل طور سے حفاظت کی جائے۔ چنانچہ وزیر سلطنت نے سپہ سالار کو طلب کرکے لشکریوں میں امن و امان قائم رکھنے اور نظام حکومت کا پابند رہنے کی ہدایت و تاکید کی درنعد کو ایک تابوت میں رکھ کر اور شاہی خزانے کے ساتھ غزنین کی طرف روانہ ہوا۔ خزانہ شاہی دو ہزار دو سو اونٹوں پر لدا ہوا تھا ۔۔۔اور ان سب لشکریوں کو ہندوستان کی طرف واپس کر دیا جن کے وظائف اور جاگیریں قطب الدین ایبک کے قبضہ میں ہندوستان میں تھیں۔ القصہ شعبان ۲۰۶ھ میں شہاب الدین کا تابوت غزنین پہنچا اور بمقام مدرسہ شاہی بائیسویں تاریخ ماہ مذکورہ میں مدفون ہوا۔(تاریخ ابن خلدون حصہ ششم ص ۳۴۲) آگے لکھتا ہے

چالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تاج الدین ایلدوز کا لاہور پر قبضہ

ایلدو زیادز غزنین سے نکل کر ایک ہزار پانچ سو سواروں کی جمعیت کے ساتھ لاہور پہنچا اس وقت لاہور پر شہاب الدین کا غلام ناصر الدین قباچہ حکمرانی کر رہا تھا۔ لاہور کے علاوہ(جنوب میں) ملتان، آجر اور دیبل ٹھٹہ کے ساحل سمندر تک اس کے قبضہ میں تھے ۔ پندرہ ہزار جنگجو سواروں کو لے کر میدان جنگ میں آیا ابازار کار زار گرم ہوگیا۔ فریقین کے ساتھ ہاتھیوں کا بھی جھنڈ تھا۔ دز کو پہلے حملہ میں شکست ہوئی۔ ہاتھیوں کا جھنڈ پکڑ لیا گیا۔ دز نے پلٹ کر پھر حملہ کیا۔ اس حملہ میں دز کو کامیابی ہوئی۔ دز کے ہاتھ سوار نے قباچہ کے جھنڈے پر حملہ کیا۔ اتفاق یہ کہ جھنڈا گر گیا۔ قباچہ کا لشکر بھاگ کھڑا ہوا دز نے شہر لاہور پر قبضہ کر لیا۔ اس کامیابی کے بعد دز نے ہندوستان کی طرف قدم بڑھائے تاکہ دہلی وغیرہ پر بھی جو مسلمانوں کے قبضہ میں قابض ہو جائے اس وقت دہلی میں قطلب الدین ابیک کا انتقال ہو چکا تھا۔ اور اسکا غلام شمس الدین حکومت کر رہا تھا۔ شہر سمایا کے قریب مڈ بھیڑ ہوئی۔ تاج الدین دز شکست کھا کر بھاگا۔ سارا لشکر تتر بتر ہوگیا اور اثناء جنگ میں اسے بھی مار ڈالا گیا۔ (تاریخ ابن خلدون ص ۳۵۷)

تجزیہ

لاہور سے بعض جگہ صوبہ لاہور بھی مراد ہے جس کی حدیں اس وقت پشاور سے لے کر دریائے جہلم تک واقع تھیں۔ (جیساکہ پٹھانوں میں اس زمانے سے ایک مقولہ چلا آرہاہے۔ دہرات نہ تر جہلم پنبتون آبد دے۔‘‘ یعنی ہرات کے علاقہ سے لے کر جہلم تک قوم پختون آباد اور رہائش پذیر ہے ۔یہاں ایک افغان قبیلہ کانسی کی نسبت سے کانسی نالہ اب بھی موسوم ہے۔ اور جہلم سے مشرق کی طرف پنجاب کا علاقہ جس کا مرکزی شہر سیالکوٹ تھا۔ دہلی کے ماتحت اور قطب الدین ایبک کے زیر حکومت تھا۔ قطب الدین ایبک مندکو ہوریا کوہارو میں جو اس کے بعد لاہو کے نام سے موسوم ہوا وفات پا چکا تھا۔ جو دہلی کے صوبہ میں واقع تھا لہٰذا اسی سبب سے یہی مذکورہ مورخ اسی کتاب کے ص ۳۵۷ پر لکھتا ہے کہ

’’اس وقت دہلی میں قطب الدین ایبک کا انتقال ہو چکا تھا اس کا غلام شمس الدین حکومت کر رہا تھا۔

اور اس سے پہلے یہ بھی لکھتا ہے کہ

’’لاہور میں ناصر الدین قباچہ شہاب الدین کا غلام حکمرانی کر رہا تھا۔ اور لاہور کے علاوہ ملتان ، آجر اور دیبل ٹھٹہ کے ساحل سمندر تک اس کے قبضہ میں تھے۔

حالانکہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قطب الدین ایبک کا انتقال شہر دہلی میں نہیں بلکہ پنجاب کے موجودہ شہر لاہور میں ہوا تھا جس کا انار کلی بازارمیں مزار ہے چونکہ یہ مقام جہاں اب لاہور شہر ہے دہلی کی حکومت اور صوبہ میں واقع تھااس وقت یہ ایک غیر مشہور مقام تھا اور لاہور کے نام سے اسے شہرت بھی حاصل نہیں تھی۔ مورخ نے اسی بناء پر قطب الدین ایبک کی وفات کے حادثے کا دہلی میں واقع ہونا بتایا ہے جس سے مراد صوبہ دہلی ہے نہ کہ شہر دہلی۔ بعینہ اوپر کی تحریر میں جہاں قتل شہاب الدین کی جائے وقوع کے سلسلے میں لاہور کا نام لیا گیا ہے تو وہ مقام پشاور یا گندھارا والے لاہور کی حکومت اور صوبہ میں واقع تھا۔ اس قسم کی مثالیں بکثرت ہیں کہ ایک شہر کے نام سے کبھی کبھی پورا علاقہ مراد ہوتاہے۔(جاری ہے)

بتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید :

شجاع قوم پٹھان -