آبادی میں اضافے کی روشنی میں نئی منصوبہ بندی

آبادی میں اضافے کی روشنی میں نئی منصوبہ بندی

  

پاکستان کی مجموعی آبادی20کروڑ77لاکھ74ہزار620افراد تک پہنچ گئی ہے، اُنیس برسوں میں آبادی کی شرح میں57فیصد اضافہ ہوا، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ عبوری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی11کروڑ10ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جبکہ سالانہ شرح نمو2.13فیصد ہے۔سندھ کی آبادی4کروڑ78 لاکھ 90ہزار نفوس پر پہنچ گئی ہے اِس بنیاد پر سالانہ شرح نمو2.41فیصد ہے۔ خیبرپختونخوا کی آبادی 3کروڑ پانچ لاکھ20ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ شرح نمو2.81 فیصد ہے۔بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ23لاکھ نفوس، جبکہ شرح نمو3.37 فیصد ہے۔مُلک کی مجموعی آبادی کے اعداد و شمار کے مطابق مردوں کی تعداد خواتین سے بڑھ گئی ہے،اب مُلک میں مرد10 کروڑ 64لاکھ 49ہزار 322، عورتیں 10کروڑ 13لاکھ14ہزار780 اور خواجہ سرا10ہزار418ہیں، جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق شہری آبادی میں اضافے کا رجحان36.38فیصد بڑھا ہے۔

وزیراعظم نے مردم شماری کے جن عبوری اعداد و شمار سے مشترکہ مفادات کونسل کو آگاہ کیا اس کا انعقاد سپریم کورٹ کے حکم سے ہوا تھا۔اگرچہ آئین کے مطابق ہر دس سال بعد باقاعدگی سے مردم شماری ہونی چاہئے،لیکن اس آئینی شق کی کسی بھی حکومت نے پاسداری نہیں کی اِسی لئے یہ مردم شماری بھی اُنیس سال بعد ہوئی۔اگر وقت پر مردم شماری ہوتی رہتی تو اس عرصے میں دو بار مردم شماری ہو سکتی تھی۔ اب جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اُنہیں مُلک کی نئی منصوبہ بندی کی بنیاد بننا چاہئے۔یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ لوگ دیہی علاقوں کو چھوڑ کر شہروں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ دیہات میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے،کہیں بجلی نہیں ہے تو کہیں گیس کی سپلائی نہیں، تعلیمی اداروں کی بھی کمی ہے،پرائمری سکول بھی ہر گاؤں یا ہر بستی میں موجود نہیں ہے،بچوں کو کئی کئی میل پیدل چل کر سکول جانا پڑتا ہے،وہاں بھی بہت سے سکولوں میں بجلی، صاف پانی، فرنیچر، بیت الخلاء اور اساتذہ کی کمی کے مسائل درپیش ہوتے ہیں،ہائی سکول پرائمری سکولوں سے بھی زیادہ فاصلے پر ہیں،جہاں تک اعلیٰ تعلیمی اداروں کا تعلق ہے یہ بھی درجہ بدرجہ کم ہیں،کالج جانے کے لئے طالب علموں کو روزانہ اپنے دیہات یا قصبات سے بڑے شہروں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جو طالب علم کالجوں کی تعلیم مکمل کر لیتے ہیں اور یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتے ہیں اُن کو یا تو اپنے علاقے چھوڑ کر شہروں کی جانب عارضی نقل مکانی کرنا پڑتی ہے یا پھر ہوسٹلوں میں رہائش رکھنا پڑتی ہے،لیکن یہ سہولتیں بھی سو فیصد طلبا کے لئے دستیاب نہیں ہوتیں،اِس لئے طالب علم یا طالبات پرائیویٹ ہوسٹلوں میں رہتے ہیں یا پھر اپنے نجی انتظامات کے تحت کہیں نہ کہیں رہائش پذیر ہو جاتے ہیں، آخری چارۂ کار کے طور پر ایک حل یہ بھی نکالا جاتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر اپنے آبائی علاقوں ہی کو خیر باد کہہ کر اُس جگہ رہائش اختیار کر لیتے ہیں جہاں بچے زیر تعلیم ہوں۔

تعلیم کی تکمیل کے بعد ایک دوسری طرز کی نقل مکانی کا آغاز ہوتا ہے، ظاہر ہے جو لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیتے ہیں اُنہیں ملازمتوں کے لئے شہروں ہی میں رہنا پڑتا ہے اِس لئے وہ تعلیم مکمل کر لینے کے بعد انہی شہروں کے مستقل رہائشی بن جاتے ہیں۔دیہات میں وہی لوگ رہنا پسند کرتے ہیں، جن کا اپنا ذاتی روزگار اپنے گاؤں میں ہو، جو یا تو کھیتی باڑی سے منسلک ہوں یا پھر کسی وجہ سے اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں ایسے لوگ سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں،خاص طور پر ایسے والدین کی اولادیں جن کے پاس مطلوبہ وسائل نہیں ہوتے اور وہ بڑے شہروں کے اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔

حالیہ مردم شماری سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ شہری آبادیوں پر دباؤ بڑھا ہے۔گزشتہ دو تین عشروں سے بڑے شہروں مثلاً کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد،پشاور،حیدر آباد سے باہر نئے شہر بسانے کی منصوبہ بندی تو ہوتی رہی،کیونکہ نئے شہروں کی ضرورت محسوس کی گئی، لیکن عملی کام نہ ہوا، البتہ غیر منظم اور غیر فطری انداز میں آبادیوں کے پھیلاؤ سے بڑے شہروں کے مسائل میں اضافہ ہوگیا۔اگر نئے شہر بسائے جاتے رہتے تو شہریوں کو درپیش مسائل میں کمی ہوتی اور حکمرانوں پر بھی دباؤ زیادہ نہ ہوتا۔اب بھی وقت ہے کہ اِس جانب خصوصی توجہ دے کر آنے والے برسوں میں پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔اب اگر آبادی کے تازہ اعداد و شمار جمع کر لئے گئے ہیں تو جو رجحانات سامنے آئے ہیں اُن کو پیشِ نظر رکھ کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نئی منصوبہ بندی کرنی چاہئے،جہاں تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے وہاں تعلیمی ادارے بنائے جائیں،جہاں ہسپتالوں کی تعمیر ہونی چاہئے وہاں نئے ہسپتال بنانے چاہئیں اِسی طرح باقی مدنی سہولتوں کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے،جہاں جہاں آبادی کی شرح میں جوہری تبدیلی آئی ہے وہاں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کی شرح کا بھی از سر نو تعین ہونا ضروری ہے،جن صوبوں کی آبادی بڑھی ہے اُن کی نشستوں میں بھی اضافہ ناگزیر ہو جائے گا،کیونکہ اس وقت جس شرح کے حساب سے حلقہ بندیاں کی گئی ہیں اگر وہی شرح برقرار رہے تو بھی اضافہ شدہ آبادی کے حساب سے نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہوں گی۔

اگلے عام انتخابات اگر شیڈول کے مطابق ہوتے ہیں تو جون2018ء میں ہوں گے اِس لئے نئی حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز فوری طور پر ضروری ہو گا تاکہ بروقت اس کام کی تکمیل ہو سکے اور صوبوں کو اپنی آبادی کے مطابق قومی اسمبلی میں نمائندگی کا حق مل سکے اور شہری بھی اپنی تعداد کے مطابق منتخب اداروں میں نمائندگی حاصل کر سکیں،حکومت کو اِس پہلو سے بھی غور کر لینا چاہئے کہ ہر دس سال بعد مردم شماری کا باقاعدگی سے اہتمام ہو اور جو بھی حکومت ہو وہ اس کام کو ترجیحی بنیاد پر کرے اور کسی کو اس مقصد کے لئے نہ تو عدالت سے رجوع کرنا پڑے اور نہ ہی عدالتوں کو کئی کئی ماہ تک اپنا قیمتی وقت لگا کر ایسے مقدمات سننے پڑیں، جن کا بظاہر کوئی جواز بھی نہیں بنتا،آئینی ضرورت کے مطابق طے شدہ شیڈول کے مطابق مردم شماری بھی ہو جانی چاہئے اور انتخابات بھی، بعض سیاست دان یہ خبریں دے رہے ہیں کہ اُنہیں اگلے انتخابات وقت پر ہوتے نظر نہیں آتے۔ اگر کسی جگہ ایسی پخت و پَز ہو رہی ہے تو اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے، جو باتیں طے شدہ ہیں انہیں ازسر نو متنازعہ بنانا کسی باشعور انسان کو زیبا نہیں اِس لئے جو سیاست دان انتخابات کے التوا میں اپنا مستقبل روشن دیکھ رہے ہیں اُنہیں چاہئے کہ وہ قومی مفاد کو سامنے رکھیں، وقت پر انتخابات سے سسٹم مضبوط ہوگا، اس لئے ہر سیاستدان کو اس کے حق میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ مردم شماری سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئی اگر یہ معاملہ عدالت میں نہ جاتا تو عین ممکن تھا کہ حکومت کسی ایک یا دوسرے عذر کی بنیاد پر اِس معاملے کو مزید ٹالتی رہتی، جو کسی طرح بھی مستحسن نہ ہوتا۔اب نئے اعداد و شمار کی روشنی میں نئی منصوبہ بندی ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آئیں۔

مزید :

اداریہ -