انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 46

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 46
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 46

  

جنو ب مغر بی یورپین ممالک میں مجر مو ں کے گڑھ ہیں جہاں سمگلنگ کے شکا ر افراد کو وصو ل کیا جا تا ہے ۔ استحصال کے مقصد سے منظم گر وپس لیبرین جزیرے سے یو رپی یو نین کی ما ر کیٹ میں طلب کے مطا بق ایسے افراد کو تقسیم کر تے ہیں ۔ چینی با شندوں کو خا ص طو ر پر مشر قی یو رپ میں زراعت اور ٹیکسٹا ئل کے شعبوں میں بھیجا جا تا ہے جہا ں ان کااستحصال کیا جا تا ہے۔ جنوبی امر یکہ کے با شندو ں کو سیکس انڈسٹر ی جبکہ رومانیہ کے بچوں کو چو ری اور بھیک ما نگنے پر لگا دیا جا تا ہے۔ نا ئیجیر ین عو رتیں ہو ائی کے بجا ئے زمینی راستوں کے ذریعے سپین داخل کی جا تی ہیں ۔کم سن انگلوبا شندوں کو امیر پر تگا لیوں کے ہا ں گھر یلوملا زمین کے طو ر پر کا م میں لگا یا جا تا ہے۔ شما لی اطراف جرائم کے گٹر ھ، ایک راہداری اور زریعے کا ٹھکا نہ خیال کیے جاتے ہیں ۔ مغر بی اور شما لی افریقی باشندے ، مشر قی یو رپین ، با لکن اور چینی سمگلنگ کے شکا ر افراد کا جسم فروشی ،زراعت ، تعمیر ،ٹیکسٹا ئل اور صحت کے شعبوں میں استحصا ل کیا جا تا ہے ۔ شمال او ر جنو ب مشرقی مر اکز تا ریخی طو ر پر خو شحال ریا ستوں کو غلام یا خادم مہیا کرتے ہیں ۔ یونین سے باہر سمگلنگ کے راستوں اور شکار افراد کی تقسیم کا کام بھی یہاں سے ہوتا ہے ۔ شما لی مغر بی مراکز میں یونین کے رکن ممالک سے ہونے والی انسانی سمگلنگ کو کنٹر ول کیا جا تا ہے ۔جن رکن ممالک میں جسم فروشی قانونی طو رپر جا ئز ہے وہا ں سمگل شدہ لڑکیوں اور عو رتوں کو ا س مر کز سے بھیجا جا تا ہے مثلاً نیدر لینڈ میں ان کی کا فی کھپت ہے جو یونین کے اند ر رہ کر پیسے کما نا چاہتے ہیں ۔ 

نظر و ں سے او جھل سمگلنگ کے شکا ر افراد ،بین الاقوامی گینگز۔ 

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سمگل شدہ عو رتیں جب اپنی منزل کے ملک پہنچتی ہیں تو ان کی اکثر یت پر و اضح ہوجاتا ہے کہ وہ کتنا غلط قدم اٹھا چکی ہیں ۔ اس صورتحال کو ذیل میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ ان سے پیشگی اطلا ع کے بغیر اس کاپا سپو رٹ ، رقم اور دیگر اشیا ء ضبط کر لی جاتی ہیں اور اس کے بعد اسے سفری اخرا جا ت کے لیے لیا گیا قر ض چکا نے تک گلی ،محلوں میں جسم فروشی کرنے پر مجبو ر کیا جاتا ہے ۔ اس عو رت کو کسی قحبہ خا نے ، با ر یا کلب میں بطو ر سیکس ور کر فر و خت بھی جا سکتا ہے ۔ جو نہی وہ اپنی اس ابتر حا لت کو دیکھتی ہے تو سمگلر یا دلا ل اس پر تشدد کر تے ہیں اور اسے تکلیف پہنچا نے کے لیے بد سلو کی سے پیش آتے ہیں تا کہ وہ قا بومیں رہے اور چپ چا پ ان کا حکم بجا لا ئے ۔ عمو ماً ایسی عو رتوں کے ساتھ پہلے اجتما عی زیا د تی کی جا تی ہے اور پھر انہیں تشد دکا نشا نہ بنا یا جا تا ہے ، ان کو تنہا ئی میں قید اور بھو کا رکھا جا تا ہے ۔ حتیٰ کہ چا قو سے ان کے جسموں پر زخم لگا ئے جا تے ہیں اور سیگر یٹ سے بھی دا غا جا تا ہے ۔ اس کے بعددلا ل یا سمگلر ان کی مر ضی کے مطا بق کام کر نے کی یقین دہا نی کے لیے ان پر کئی طر یقے آز ما تے ہیں ۔ ان طر یقوں میں جنسی تشدد اور جسما نی ایذ را سانی شامل ہو تی ہے ۔ الا سٹر یڈا ایک جگہ لکھتی ہیں کہ ایک دفعہ پو لینڈ میں سمگل کر کے لا ئی گئی عو رتوں کے ایک گر و پ کو ایک ایسی ویڈیو دیکھنے پر مجبو ر کیا گیا جس میں ایک لڑ کی کو حکم عدولی پر گھٹنوں پر زخم لگا ئے گئے تھے ۔ اس طر ح کے تشددکا نتیجہ نہا یت وا ضح ہو تا ہے ، جس کے معنی ہیں کہ ظلم کے شکا ر افراد کی انا ختم کر کے اسے مکمل اطا عت پذیر ی پر مجبو ر کیا جا ئے ۔ اس صو ر تحا ل سے دو چا ر عو رتیں ذلت کی تما م علا ما ت کو جانتے ہوئے مہما ن نو ازی سے سمجھو تہ کر لیتی ہیں اور ان میں مشقت ،احساسات کی تبدیلی اور اپنے ما لک پر مکمل انحصا ر کی عا دت کو پختہ کیا جا تا ہے تا کہ وہ کسی دو سرے کی طر ف سے مدد کی پیشکش کو نفر ت سے ٹھکر ادیں ۔ سمگلر ز یا دلا ل اپنے شکا ر کر دہ افرا د کو اس نکتے تک لا نے میں ہر حر بہ استعما ل کر تے ہیں ۔ وا قعی انسان کے لیے یہ منظر انسانی سمگلنگ کے جر م کے نکتہ عرو ج کے ا لمیا تی تنا قص کی عکا سی کر تا ہے ۔ بہتر زندگی کی تلا ش میں اس جرم کے شکا ر افرا د کی امید یں چکنا چو ر ہو جا تی ہیں اور و ہ اپنے آپ کو ایک ایسی بد ترین صو ر ت میں پا تے ہیں جو ان کے تصو ر سے بھی با ہر ہو تی ہے۔ پو لش معا شرے میں سمگلنگ شدہ افراد اور جان لیو ا آزما ئشوں میں مبتلا ہونے والوں کو بے وقو ف ، سا دہ لو ح او راخلا ق با ختہ تصو ر کیا جا تا ہے ۔ حا لا نکہ وہ ایک ایسے جرم کا شکا ر ہو ئے جس سے بچنا ان کی دستر س سے با ہر تھا ۔ یہ تصو ر خا ص طو ر پر وسیع پیما نے پر ا س لیے پھیلا کیو نکہ ان عو رتوں کے متعلق مفر و ضے تراشے جا تے ہیں کہ استحصا ل سے قبل بطو ر جسم فر وش یا غیر قانو نی طو ر پر کا م کر نے کے متعلق ایسی عو رتوں کو پہلے سے معلوم ہو تا ہے ۔ نتیجے کو طور پر پو لش با شند و ں کی اکثر یت ان افراد کو بد سلو کی کا مستحق محسو س کر تے ہیں۔ مزید یہ کہ پو لینڈ میں کیتھو لک عیسا ئیت کے اثر ا ت معاشرے میں بہت گہرے ہیں ۔ یہا ں پر سمگل شدہ جنسی زیا دتی کی شکا ر عو رتوں کو رو ایتی اخلا قی تو قعا ت پر پو ر انہ کر نے پر ایک ا خلا ق با ختہ شخص کی بد نا می بر دا شت کر نا پڑ تی ہے ۔ ایسی عو رتوں میں سے کچھ سمگلر ز کے چنگل سے فرا ر ہونے میں کا میا ب ہو جا تی ہیں لیکن پو لیس یا دیگر قانون نا فذ کر نے وا لے ادا روں کے سامنے اپنی شنا خت ثا بت نہ کر نے کے خو ف سے وہ مزید بد تر حا لا ت کا شکا ر ہو جا تی ہیں ۔ ان کے پا س پا سپو رٹ یا دیگر شنا ختی کا غذا ت نہیں ہو تے ہیں ۔ حا لانکہ دیگر کئی یو رپی مما لک کی طر ح پو لینڈ نے بھی ایسے افرا دکو تحفظ دینے کے لیے کئی ادا رے قائم کر رکھے ہیں۔ پو لینڈ میں انسانی سمگلنگ کے بڑھنے کی تین اہم وجو ہا ت پا ئی جا تی ہیں ۔ او ل سمگلنگ کے شکا ر افرا د اور غیر قانو نی طو ر پر د اخل ہونے و الوں میں فر ق رو ا نہیں رکھا جا تا اور نہ ہی ایسا کو ئی انفراسٹرکچر ملک میں مو جو د ہے ۔ دو م ایک سے زیا دہ محکمو ں کو ا س جر م کی رو ک تھا م کے اختیا ر ات حا صل ہیں ۔ سو م کسی خا ص قانون کو ایسے مقد ما ت کی تفتیش کرنے اور عد التوں تک لے جا نے کے لیے استعما ل نہیں کیا جا تا ہے ۔

اس تما م صو ر تحا ل کے علا وہ یو رپی مما لک میں ہونے والے کھیلوں کے ایو نٹس انسانی سمگلنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں ۔ او لمپک کے مقا بلے ہو ں یا فٹ با ل کا ور لڈ کپ لو گو ں کی بڑ ی تعداد یو رپ میں د اخل ہو تی ہے ۔ ایسے مو قعوں پر چو نکہ متعلقہ ملک اپنی ویزہ پا لیسی میں نر می کر دیتا ہے اس لیے سمگلر زاور ایجنٹ ما فیا ز بھا ری رقوم کے بد لے لو گوں کو ویزے مہیا کر تے ہیں ۔ یو رپ میں کئی ایک ایسے ممالک ہیں جو انسانی سمگلنگ کے لیے را ہدا ری ، منزل اورزریعہ بھی ہیں ۔بعض مما لک صر ف راہداری کا کا م دیتے ہیں جن میں سے گز ر کر انسانی سمگلنگ کے شکا رافرا د کسی دو سرے ملک جا تے ہیں ۔ ایسے مما لک میں عا رضی طو ر پر قیام بھی کیا جا تا ہے۔جیسا کہ یو نا ن جا نے والے تر کی میں کئی ما ہ تک قیام کر تے ہیں یا مشر قی یو رپ جانے والے یو کرا ئن یا بیلہ رو س اور البا نیہ میں قیا م کر تے ہیں ۔ یو رپ خصو صاً مغر بی یو رپی مما لک میں غیر قانونی طو رپر دا خل ہو نے کے را ستوں کو اس با ب کے آخر میں بیا ن کیا گیا ہے۔

ہنگری ایک ایسا ملک ہے جو راہداری ، ذریعہ اور انسانی سمگلنگ کے شکا ر افراد کی منزل بھی ہے ۔ جہا ں عو رتوں اور لڑکیوں کو جبری جسم فر وشی کے لیے سمگل کر کے لا یا جا تا ہے ۔ ہنگری سے مر دوں کو جبری مشقت کے لیے دیگر ممالک میں لا یا جا تا ہے ۔ ہنگر ی عو رتوں اور لڑ کیوں کو جبری جسم فرو شی کے لیے امر یکہ ، یو نا ن ، آئر لینڈ ، سپین ، اٹلی ، آسٹر یلیا ، ڈ نما رک ، جر منی ، بر طا نیہ ، سو ئزر لینڈ اور نید ر لینڈ سمگل کیا جا تا ہے ۔ مشر قی ہنگری کے اور آسٹریا کے سر حدی علا قو ں میں عو رتوں کو جنسی بد سلو کی کا سامنا کر نا پڑ تا ہے ۔ رو ما اقلیت سے تعلق رکھنے والی یتیم لڑ کیوں کو اندرون ملک جبری جسم فرو شی کے اذیت نا ک حا لا ت کا سامنا کر نا پڑ تا ہے ۔ مغر بی یو رپ کے مر د بڈا پیسٹ کی طر ف سیا حت کے شعبے میں با لغ لڑ کیوں سے جنسی تعلقا ت کی خاطر سفر کر تے ہیں ۔ ان میں سے کچھ کو سمگل کر کے ان کا استحصا ل کیا جا تا ہے ۔ ہنگری میں مر دوں کو جبری مشقت کا سا منا کر نا پڑ تا ہے ۔ یو کر ائن اور رو ما نیہ کی عو رتوں کو ہنگری کے راستے نیدر لینڈ ، بر طا نیہ ، جرمنی ، ڈنما رک ، آسٹریا اور سو سٹر ز لینڈ سمگل کیا جا تا ہے جہا ں ان کو با لآ خر جبری جسم فرو شی کی دلدل میں اترنا پڑ تا ہے ۔ ان میں متعدد عو رتوں کو اپنی منزل کے ملک پہنچنے سے قبل سمگل ہونے کی ’’قیمت ‘‘چکا نا پڑ تی ہے ۔ حکو مت کی طر ف سے انسانی سمگلنگ کے جرم کے خا تمے کے لیے مو ثر کو ششیں نہیں کی جا رہی ہیں ، تا ہم ظا ہر ی طو ر پر ہنگری ایسے اقدا ما ت کر تا کھا ئی دیتا ہے جو بین الا قو امی بر ا در ی کی آنکھوں میں دھو ل جھونکنے کے مترا دف ہیں ۔ البتہ 12 سال سے کم عمر بچوں کی سمگلنگ روکنے اور سمگلر ز کو زیا دہ سے زیادہ سزائیں دینے کے لیے اس نے اپنے فو جداری قانون کریمنل کو ڈ میں تر میم کی ہے۔ ما رچ 2010 سے ایک غیر سر کا ری تنظیم کو سمگلنگ کے شکا ر افراد کی پنا ہ کی تعمیر او راسے چلا نے کے لیے حکومت نے فنڈ ز دینا شرو ع کیے ہیں ۔ ان پناہ گھر وں میں صر ف ہنگری کے شہری امداد اور دیگر سہو لیا ت حا صل کر سکتے ہیں ۔ غیر ملکیوں کو یہ سہو لت میسر نہیں ہے۔ ہنگری میں بین الا قوامی سمگلنگ کے غیر ملکی شکا ر افراد کو امدا دنہ ہونے کے بر ابر دی جا تی ہے ۔ اگر وہ قانون نا فذ کرنے وا لے اد ا روں کی مدد کرنے کو تیا ر ہو ں تو ان کو 6 ما ہ کا عا رضی ویزہ دیا جا تا ہے ۔ ہنگری قانون کے تحت بچوں کی سمگلنگ میں ملو ث سمگلر ز کو ایک سا ل سے کم عمر قید کی سزا تک مقر ر کی گئی ہے ۔ اس کے علا وہ جنسی زیا دتی کی سز ا بھی اتنی ہی مقرر کی گئی ہے۔ گذ شتہ 5برسوں میں ایک سو کے قریب مقد مات عدا لتوں میں لا ئے گئے جوکہ ہنگری میں پا ئے جا نے والے اس جرم کی صخا مت کی نسبت حکو متی اقدامات بہت کم ہیں۔ حکومت نے انسا نی سمگلنگ کے شکار افرا د کے متعلق اور اس جر م کی رو ک تھا م کے لیے عوامی آگا ہی کی مہم بھی کا میابی سے کبھی نہیں چلا ئی ۔ البتہ جسم فروشی کی ما ر کیٹ سے وا بستہ صا رفین کو سا منے رکھتے ہو ئے کا روبا ر ی جنسی سرگر میو ں میں کمی لا نے کا ایک پر و گر ام جا ری کیا گیا ۔اس پرو گرا م کے تحت ذرائع ابلا غ میں حکومت کی طر ف سے اشتہا را ت کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا جو 3ما ہ تک جا ری رہا ۔ اس کے علا وہ ہنگری کی حکو مت نے ایک غیر سر کا ری تنظیم کورقم فرا ہم کی تا کہ انسا نی سمگلنگ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سر کا ری اہل کا روں کو تر بیت فرا ہم کی جا ئے اور ان بچوں کو تحفظ فرا ہم کیا جا ئے جو سمگلنگ کے بعد بے یا رو مد د گا ر اور تنہا ئی کا شکا ر ہو ئے ۔

19ویں صدی کے وسط میں اٹلی میں ظہو ر پذیر ہونے والے منظم جر ائم اور جر ائم پیشہ تنظیمو ں نے شما لی اٹلی کے بہت سے علاقوں کے با سیوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ۔ ان میں سب سے بد نا م زما نہ ’’سسلی ما فیا ‘‘ہے جو بعد از ں امر یکہ سمیت کئی مما لک میں پھیل گیا ۔ اس کے علا وہ دیگر 6بڑے اور خطر نا ک ما فیا ز بھی ملک میں مختلف قسم کے سنگین جرائم میں ملو ث ہیں ۔اٹلی میں اس کے 4 ہز ار تر بیت یا فتہ ار کان صر ف پیلر مو میں سر گرم ہیں جو جعلی دستا ویزات اور بسوں کے ذریعے لو گوں کو مختلف ممالک سمگل کر نے کے ما ہرہیں ۔ یہ سمگلر جسم فرو شی کے لیے عو رتوں کو دیگر مما لک بھیجنے اور منشیات کی غیر قانونی تجا رت میں ملوث ہیں ۔ اس گروپ کے سر غنے ’پر و ونیزانو‘ کو اشتہاری قرار دےئے جانے کے 43 سال بعد گر فتا ر کیا گیا ۔ یہ گینگ سسلی سمیت متعدد مما لک میں چو ری اور قتل کے جرائم میں ملو ث ہے۔ جسم فر و شی 1958ء کے قانون کے تحت قانونی قرار دی گئی ہے لیکن پو لیس اسے غیر قانونی ہتھیا ر کے طو ر پر استعمال کر تی ہے۔ گر فتا ر ہونے والے جسم فر وشوں کو ان کے آبائی ممالک بھیج دیا جا تا ہے ۔(جاری ہے )

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 47 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ