بھارتی انتہاپسندی کیخلاف جاپان و جنوبی کوریا میں پاکستانیوں کا مظاہروں کا اعلان

بھارتی انتہاپسندی کیخلاف جاپان و جنوبی کوریا میں پاکستانیوں کا مظاہروں کا ...

  

ٹوکیو (این این آئی)بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر پاکستانی سیاسی سماجی اور کاروباری تنظیموں نے جاپان اور جنوبی کوریا میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔اس حوالے سے پاک جاپان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی اس اشتعال انگیزی کے خلاف پاک فوج کو پوری اجازت کی جائے کہ وہ جس طرح چاہیں بھارت سے اس فضائی حملے کا بدلہ لیں اور بھارت کی اس فضائی خلاف ورزی کو کھلی جنگ تصور کیا جائے۔جنوبی کوریا میں پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کوریا کے صدر مدثر چیمہ نے بھارتی فضائی حملے کو بھارت کی بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رات کی تاریکی میں چند کلومیٹر اندر آئے اور پاکستانی ایئر فورس کے جواب سے پہلے ہی بزدلوں کی طرح بھاگ جانے کو حملہ نہیں بلکہ گیدڑ بھبکیاں ہی کہا جاسکتا ہے تاہم پاکستان بھارت کے اس اقدام کا سختی سے جواب دے تاکہ آئندہ بھارت کو ایسی کسی کارروائی کی جرات نہ ہوسکے۔مسلم لیگ ن جاپان کے صدر ملک نور اعوان نے کہا کہ بھارت اس طرح کی جھوٹی اور بزدلانہ کارروائی کرکے پاکستان کی طاقت کو چیک کرنا چاہ رہا ہے اور قوم یقین رکھے کہ بھارت اس دفعہ بھی ماضی کی طرح منہ کی کھائے گا۔ن لیگ جاپان کے سینئر نائب صدر ملک یونس نے کہا کہ شیطان نریندر مودی اپنی سیاست چمکانے کی خاطر پاکستان اور بھارت کو جنگ کی جانب جھونک رہے ہیں جو بہت بڑی غلطی ہے بھارت کو اب سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے دنیا بھر میں مقیم پاکستانی پاک فوج کے ساتھ ہیں اوراس وقت حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے جس میں میاں نواز شریف اہم ترین سیاسی قیدی ہیں اس اقدام سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔کشمیر یکجہتی فورم کے صدر شاہد مجید نے کہا کہ بھارت کی بزدلانہ اور رات کی تاریکی میں کیے جانے والے حملے سے پاکستانی اور کشمیری قوم ڈرے گی نہیں بلکہ جذبہ شہادت اور مضبوط ہوگا، بھارت کو اس کی زبان میں سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔شاہد مجید نے کہا کہ وہ جلدہی ٹوکیو میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے مظاہرے کا اعلان کریں گے جس میں کشمیری اور پاکستانی بھائیوں کیس آٹھ ساتھ جاپانی انسانی حقوق کے کارکن بھی بڑی تعداد میں شریک ہونگے۔

مزید :

صفحہ آخر -