عوام الناس کی سہولت کے لئے دبئی پولیس نے ”سمارٹ پولیس سٹیشن“ قائم کردئیے

عوام الناس کی سہولت کے لئے دبئی پولیس نے ”سمارٹ پولیس سٹیشن“ قائم کردئیے
عوام الناس کی سہولت کے لئے دبئی پولیس نے ”سمارٹ پولیس سٹیشن“ قائم کردئیے

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) دبئی پولیس نے 24 گھنٹے اور ہفتہ میں ساتوں دن عوام الناس کی سہولت کے لئے ”سمارٹ پولیس ٹیشن“ متعارف کروادئیے ہیں۔ اس وقت دبئی میں مختلف جگہوں پر چار عدد ”سمارٹ پولیس ٹیشن“ کامیابی سے چل رہے ہیں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ عوام الناس کو دبئی پولیس کی فراہم کردہ خدمات سے آگاہی کے لئے قونصلیٹ آف پاکستان دبئی کی طرف سے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں زیادہ تر پاکستانیوں کو مدعو کیا گیا تھا۔

تقریب ہذا میں زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے قونصلیٹ نے وعدہ کیا تھا لیکن زیادہ لوگوں کی شراکت کو یقینی نہیں بنایا جاسکا۔ دبئی پولیس کے ساتھ براہ راست تعلق اور بات چیت کا یہ ایک اہم موقع تھا جسے گنوادیا گیا۔ دبئی کریمنل سیکشن کے انچارج لیفٹیننٹ خالد محمد نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد پاکستانیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا اور انہیں دبئی پولیس کی خدمات کے بارے بتانا ہے۔

پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ”سمارٹ پولیس ٹیشن“ کے ذریعے 27 مختلف قسم کی خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ”سمارٹ پولیس ٹیشن“ میں فراہم کئے گئے پرائیویٹ کیبن میں بیٹھ کر الیکٹرانک ڈیش بورڈ کو کلک کرنے سے آپ کا رابطہ ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر سے آن لائن ہوجائے گا۔ وہ آپ کی بات سنے گا اور مسئلے کا فوری حل نکالا جائے گا۔ پولیس چیف نے کہا کہ ہم مسائل کو جلدی حل کرکے کمیونٹی کو سروسز کی تیز ترین فراہمی کرسکتے ہیں۔

اس موقع پر قونصلیٹ آف پاکستان دبئی کے قونصل جنرل احمد امجد علی نے کہا کہ دبئی پولیس کی طرف سے سمارٹ پولیس سروس اور عوام الناس کے لئے آگاہی کی یہ مہم قابل تعریف ہے جس میں ہم دبئی پولیس کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس کو اس سروس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس موقع پر احمد امجد علی نے کہا کہ دبئی قونصلیٹ نے معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لئے دبئی پولیس کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی قائم کی ہے جس کے تحت ہم نے 50 قیدیوں کی شناکت کی ہے جس میں 25کو جیلوں سے چھڑوا کر ان کے گھر بھیج دیا گیا ہے جبکہ باقی قیدیوں کی رہائی کے لئے کام جاری ہے۔

قونصل جنرل نے بتایا کہ تقریباً 1500 پاکستانی قیدی موجود ہیں جن کی رہائی کے لئے کام کیا جارہا ہے جبکہ ایمنسٹی سکیم کے تحت بھی ہزاروں پاکستانی باعزت اپنے گھروں میں واپس جاچکے ہیں جبکہ بہت سے لوگوں نے ویزا کی حیثیت کو لیگل کرلیا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -