شام کے اہم ترین شہر پر دوبارہ قبضہ کرتے ہی داعش نے ایسا کام کردیا کہ ہر ایک انسان کا دل دہل جائے

شام کے اہم ترین شہر پر دوبارہ قبضہ کرتے ہی داعش نے ایسا کام کردیا کہ ہر ایک ...
شام کے اہم ترین شہر پر دوبارہ قبضہ کرتے ہی داعش نے ایسا کام کردیا کہ ہر ایک انسان کا دل دہل جائے

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک)شدت پسند تنظیم داعش کے دہشت گردوں نے شام کے سرحدی شہر کوبانی پر دوبارہ قبضہ کرلیا جہاں دہشت گردوں کی فائرنگ اور راکٹ حملوں سے خواتین اور بچوں سمیت240سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کئی لوگ اپنے گھروں میں موجود تھے جب حملہ ہوا اور وہ وہیں راکٹ یا نشانہ بازوں کے حملے کا شکا ہوگئے۔

Syrian Observatory for Human Rightsکے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ اب تک کے ہونے والے حملوں میں داعش کا یہ سب سےسفاکانہ حملہ تھا جس میں انہوں شہر میں داخل ہونے کے بعد عمارات میں پوزیشنیں سنبھال لیں اور ہر اس چیز کو گولی کا نشانہ بنایا جس میں ہلکی سی حرکت بھی نظر آرہی تھی۔

داعش کے دہشت گردوں نے شہر پر قبضے کے لیے حملوں کا آغاز شام اور ترکی کی سرحد پر واقع شہر کے قریب ایک خودکش کار بم دھماکے سے کیا۔شام ایک تنظیم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ کوبانی کے مرکزی علاقے میں داعش اور کرد فورسز کے جنگجوؤں کے مابین شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ داعش کے دہشت گرد شمال مشرقی شام میں حصاکہ نامی شہر میں بھی داخل ہوئے ہیں اور حکومتی افواج سے شہر کے دو اہم حصوں کا کنٹرول چھین لیا ہے۔دی سیریئن آبزرویٹر فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ کوبانی میں جاری شدید لڑائی میں 240سے زائد افراد مارے گئے ہیں اور شہر کی گلیاں لاشوں سے اٹی پڑی ہیں۔

کرد جنگجوو¿ں نے امریکی فضائیہ کے حملوں کی مدد سے چار ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد رواں برس جنوری میں کوبانی سے داعش کے دہشت گردوں کو مار بھگایا تھا۔کوبانی سے دہشت گردوں کے انخلا کو ان کی ایک علامتی شکست کے طور پر دیکھا گیا تھا اور کوبانی سے نکلنے کے بعد انہیں کرد جنگجوو¿ں کے ہاتھوں کئی دیگر محاذوں پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شام اور ترکی کی سرحد پر واقع شہرکوبانی جنگ کے نتیجے میں تباہ ہو چکا ہے۔رواں ہفتے ہی کرردش پاپولر پروٹیکشن یونٹس کی افواج نے داعش کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے رقہ کے نزدیک واقع اہم قصبے عین العیسیٰ اورداعش کے اہم اڈے پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔اس سے پہلے کرد افواج نے تل ابیض پر قبضہ کر کے داعش کی فوج کی رسد بھی بند کر دی تھی۔

سیریئن آبزرویٹر فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گردوں نے سرحدی راستے کے نزدیک ایک خودکش حملہ کیا جس میں پانچ افراد مارے گئے۔رمی عبدالرحمان کے مطابق اس دھماکے کے بعد بدھ کو کوبانی شہر کے مرکزی علاقوں میں شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں اور گلیاں لاشوں سے اٹ گئیں۔انھوں نے کہا کہ جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔تنظیم نے شمال مشرقی شام میں کوبانی سے270 کلومیٹر دور واقع قصبے حصاکہ میں بھی جھڑپوں میں بھاری جانی نقصان کی خبر دی ہے۔کوبانی کی جنگ کو امریکہ کی سربراہی میں اتحادیوں کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اتحادی طیارے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر کے اسے پسپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید : انسانی حقوق