سابق گورنر جنرل ریٹائرڈ فضل حق کی برسی آج ہو گی

سابق گورنر جنرل ریٹائرڈ فضل حق کی برسی آج ہو گی

پشاور (سٹاف رپورٹر) فضل حق کی 25ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ ان کی برسی کی تقریب ان کی رہائش گاہ میں ہوگی جہاں پر ان کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی جائے گی جبکہ برسی کی تقریب میں ان کے عزیز و اقارب اور دوست احباب شرکت کریں گے۔ جنرل فضل حق 1991ء میں 3اکتوبر کو نا معلو م افراد کے فائرنگ سے شہید ہوئے تھے، جیسے وہ صوبائی اسمبلی اجلاس کے بعد اپنے گھر جا رہے تھے تو راستے میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ان کے لواحقین میں ایک بیوہ ، تین بچے اور ایک بچی شامل ہیں۔ جنرل فضل حق 10ستمبر 1928ء کو محلہ بیران ضلع مردان میں پیدا ہوائے اور اپنی ابتدائی تعلیم مردان اور کوہاٹ سے حاصل کی، انہیں پرنس آف والز رائل انڈین ملٹری کالج (RIMC)دیھرادون انڈیا بھیجا گیا اور 1948ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے کمیشن حاصل کر کے بحیثیت لیفٹیننٹ بھرتی ہوئے۔ انہوں نے پاک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا اور 11کور کے کمانڈر رہنے کے ساتھ اکتوبر1978ء سے لیکر دسمبر 1985ء تک شمال مغربی سرحدی صوبہ کے گورنر رہے۔جنرل فضل حق 1988ء میں سینیٹر منتخب ہوئے اور اس کے بعد مئی1988ء میں اسی صوبے کے 15ویں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔جنرل فضل حق اپنے دور میں ایک طاقتور شخصیت ثابت ہوئے تھے اور اپنی کارکردگی سے عوام کا عتماد حاصل کیا۔وہ بحیثیت گورنر نمایاں شخصیت قرار پائے اور اپنی بہترین لیڈر شپ کے ذریعے طرز حکمرانی میں بہتری لائی۔ انہوں نے اپنے دور میں معاشی ترقی پر زیادہ زور دیا، وہ عموماً انفراسٹرکچر کی ترقی کے حوالے سے یاد کئے جائیں گے لیکن اصل میں انہوں نے تعلیمی خدمات کی فراہمی کیلئے نمایاں اقدامات اٹھائے تھے۔ ایک آرمی جنرل اور ایڈمنسٹریٹر کے ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی کار کردگی کے بل بوتے پر اپنے لئے سیاسی حلقہ بھی بنا لیا اور اپنے ساتھی سیاستدانوں کی زبانی وہ واحد جنرل تھے جو کامیاب سیاست کی طرف منتقل ہوئے ۔ اپنی خدمات کی وجہ سے بطور انسان سولجر انسان ، سولجر اور لیڈر شپ عوام کا بے حد احترام کرتے تھے، حتیٰ کہ بعد از مرگ ان کی دو آنکھوں کے عطیے نے دو انسانوں کی بینائی بحال کی اور وہ دوبارہ اس کائنات کو دیکھ سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر