انسانی حقوق کی اعلیٰ ترین یورپی عدالت کا احسن فیصلہ!

انسانی حقوق کی اعلیٰ ترین یورپی عدالت کا احسن فیصلہ!

سات ججوں پر مشتمل یورپ کی اعلیٰ عدالت برائے انسانی حقوق نے ایک بہت اہم فیصلہ دے کر متعصب لوگوں کے منہ بند کر دیئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اعتراف کر لیا ہے۔اس عدالت نے قرار دیا ہے کہ نبی اکرمؐ کی توہین کو آزادئ اظہار قرار نہیں دیا جا سکتا،آسٹریا کی ایک متعصب خاتون نے چھوٹی عمر میں خواتین کی شادیوں پر متعدد مجالس مذاکرہ منعقد کرائیں اور اِس آڑ میں توہین آمیز کلمات کہے۔ شکایت پر آسٹرین عدالت میں خاتون کے خلاف مقدمہ چلا اور اُسے جرمانے کی سزا دی گئی۔ خود اِس عورت نے اپنی اِس سزا کے خلاف انسانی حقوق کی اعلیٰ عدالت میں اپیل کی تھی،اس عدالت نے سزا برقرار رکھی اور اپیل مسترد کر دی۔ فل بنچ کا فیصلہ متفقہ ہے۔اس میں کہا گیا نبی اکرمؐ کی توہین کو آزادئ اظہار قرار نہیں دیا جا سکتا،اِس خاتون نے تاریخی واقعات کو مسخ کیا اِس سے معاشرے میں نفرت پھیلی اور لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔اِس فیصلے کو تاریخی قرار دیا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے خطے کے فاضل جج حضرات پر مشتمل سات رکنی بنچ نے متفقہ طور پر توہین اور اظہارِ رائے کی آزادی کا فیصلہ کر دیا ہے،جہاں تک ہم مسلمانوں کا تعلق ہے تو ہم اپنے پیارے رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق نہ صرف تمام انبیا ؑ بلکہ دوسرے مذاہب کا بھی احترام کرتے اور کسی کے جھوٹے خدا کو بھی جھوٹا نہیں کہتے،مبادا وہ ہمارے سچے خدا کو برا کہے،اِس لئے ہم تو برا (اللہ معاف کرے) کہہ ہی نہیں سکتے،پھر اگر کوئی پیغمبر اسلامؐ پر تنقید کرے تو ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں،ہم اس فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ بیرونی دُنیا بھی خود اپنی عدالت کے فیصلے کا احترام کرے گی اور اب یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔اِس فیصلے میں ہم میڈیا والوں کے لئے بھی سبق ہے کہ اظہارِ رائے، آزادئ اظہار اور تحریر بھی کسی کی توہین سے عبارت نہیں اور میڈیا کو بھی غور کر کے حقیقت کا سامنا ہی کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ