”ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ ساکہیں جسے“

”ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ ساکہیں جسے“

  

مختصر حالات زندگی

سال رواں کے دوران کئی اہم شخصیات اس دار فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کر گئیں کچھ کو تو کورونا نگل گیا اور بعض طبعی طور پر چل بسے، عروس البلاد کراچی میں تو گزشتہ آٹھ بیس روز کے اندر تین مقبر مذہبی رہنما ہم سے جدا ہو گئے، پہلے جامع بنوریہ عالمیہ کے بانی و موسس شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم داغِ مفارقت دے گئے، پھر مفسر قرآن داعی اتحاد بین المسلمین علامہ طالب جوہری اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے اور اب جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر پروفیسر سید منور حسن داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان تینوں شخصیات کا شمار ملک کے بلند پایہ دینی سکالرز عظیم مذہبی و روحانی پیشواؤں اور عقیدت سے بھرپور رہنماؤں میں ہونا تھا جنہوں نے اپنی زندگی اطاعت خدا و رسولؐ کی ترویج و اشاعت اور بند گانِ خدا کی رہنما ئی کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ ان رہنمائے دین و ملت کی خدمات کو عالمگیر سطح پر تسلیم کیا اور سراہا جاتا ہے جبکہ سب سے بڑی گواہی کراچی میں ادا کی جانے والی ان کی نماز جنازہ ہے، جن میں بلا شبہ لاکھوں افراد نے شرکت کر کے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی دینی ملی خدمات کے اعتبار سے یہ بڑی قد آور ہستیاں تھیں جن کا خلا پر کیا جاناآسان نہیں ہوگا۔

جہاں تک جماعت اسلامی کے سابق امیر پروفیسر سید منور حسن کا تعلق ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نصف صدی سے زائد عرضے پر محیط ان کی گرانقدر خدمات کا احاطہ کرنا مشکل ہے، لیکن جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل برادرم امیر العظیم نے مجھے مرحوم کی ذاتی زندگی، خاندانی پس منظر، غلبہئ اسلام کے لئے شبانہ روز جدوجہد اور پاکستان میں نفاذ اسلام کے لئے ان کی بیش قیمت خدمات سے آگاہ کیا تو میں ورطہئ حیرت میں ڈوب گیا کہ بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے تادم مرگ منور حسن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دینِ اسلام کی خدمت میں گزرا، وہ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنانے کے لئے سرگرداں و پریشانں رہے، جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر ہونے والی متام میٹنگز میں وہ اپنے اسی عزم کا اظہار کرتے کہ ہم سب کو مل جل کر پاکستان کو اسلامی پاکستان بنانا چاہئے اور یہی خوشحال پاکستان ہوگا۔

مرحوم کے خاندانی پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 5 اگست 1941 کو پیدا ہونے والے سید منور حسن کا تعلق دہلی کے ایک اعلی تعلیم یافتہ،متمول اور دینی اقدار کے حامل خاندان سے تھا جس نے پاکستان کے قیام کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کر لی۔ سید منور حسن اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ان کے اندر بچپن ہی سے قائدانہ صلاحیتیں موجود تھیں۔تقریری مباحثوں میں حصہ لینا ان کا شوق اور مشغلہ تھا۔ گورنمنٹ کالج ناظم آباد میں اس وقت کی بائیں بازو کی طلبہ تنظیم این ایس ایف میں شامل ہوئے اور جلد اس کی کراچی شاخ کے صدر بن گئے۔ اسی دوران ان کا رابطہ اسلامی جمعیت طلبہ کے بعض مخلص کارکنوں سے ہوا، جنہوں نے ان کو جمعیت میں شامل ہونے کی دعوت دی اور مولانا مودودی کا لٹریچر پڑھنے کو دیا۔خاندانی دینی پس منظر کی وجہ سے انہوں نے اس لٹریچر کا مطالعہ شروع کیا تو ان کی دنیا ہی بدل گئی اور وہ بائیں بازو سے دائیں بازو کے لیڈر بن گئے۔اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے کہ پھر مڑ کر کبھی پیچھے نہیں دیکھا۔پروفیسر خورشید احمد،ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری،خرم جاہ مراد، اور محبوب علی شیخ نے اس جوہر قابل کو فوری طور پر اپنی تربیت میں لے لیا اور اسے جمعیت کا بہترین نظریاتی رہنما بنا دیا۔1963 میں وہ کراچی یونیورسٹی اور 1964 میں کراچی کے ناظم منتخب ہوئے 1963 ہی میں کراچی یونیورسٹی سے انہوں نے سوشیالوجی میں اور 1966 میں اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹر کیا۔ 1966 میں ناظم اعلی بنے اور 1968 تک اس پر فائز رہے۔تعلیم اور جمعیت سے فارغ ہوتے ہی وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے اور جلد ہی انہیں پہلے نائب قیم،پھر قیم اور 1989 میں کراچی جماعت کا امیر مقرر کیا گیا۔ قبل ازیں وہ اسلامی ریسرچ اکیڈیمی کے ریسرچ فیلو، سیکریٹری،ڈائریکٹر اور انگریزی جریدے Criterionکے ایڈیٹر بھی رہے۔ ملکی سیاست میں اچھی سوجھ بوجھ رکھنے کی وجہ سے ان کا شمار جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں میں رہا ہے جن کا رابطہ حکمراں اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رہتا تھا۔مارچ 1977 کے عام انتخابات میں انہوں نے کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ووٹوں کی لیڈ سے کامیابی حاصل کی۔لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف قومی اتحاد کی ملک گیر تحریک اور مارشل لا لگنے کی وجہ سے یہ انتخابات ہی کالعدم ہو گئے اور اسمبلی کام نہ کرسکی۔ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ممتاز دانشور جمیل الدین عالی تھے۔ سید منور حسن نے 2013 کے عام انتخابات میں جماعت کی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جماعت کی سربراہی سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی لیکن مرکزی مجلس شوری نے ان کی یہ پیشکش مسترد کردی۔ تاہم اسی سال امارت کے انتخابات میں ارکان جماعت نے سراج الحق کو امیر جماعت منتخب کرلیا جو اسوقت صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خواہ) کے امیر تھے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلی رہ چکے تھے۔ سید منور حسن اپنے تقوی،زندگی کے رویوں اور معاملات میں قرون اولی کے مسلمانوں کی یاد گار تھے جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین کی سربلندی کی جدوجہد میں گزرا اور جن کا ایک ایک عمل قرآن و سنت کی تعلیمات کا عکاس اور مظہر تھا۔

دنیا بھر میں تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں احباب کے لئے یہ خبر بڑے رنج و غم اورافسوس کے ساتھ سنی اور پڑھی گئی کہ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق ناظم اعلی اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان سید منور حسن کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ چند سال سے پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے ان کی طبیعت میں اتار چڑھاؤ کافی عرصے سے جاری تھا لیکن تین ہفتے قبل ان کو اچانک طبیعت بگڑنے پر مقامی ہسپتال میں داخل کیاگیا تھا اور ایک ہفتے سے وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج تھے۔ آٹھ دن قبل ڈاکٹروں نے ان کی سانس کی تکلیف کی وجہ سے ونٹیلیٹر پر بھی منتقل کیا تھا۔ ڈاکٹر پروفیسر سلیم اللہ خان کی سربراہی میں چار ڈاکٹروں آغا خان کے ڈاکٹر عبدالواسع شاکر،امام کلینک کے ڈاکٹر اظہر چغتائی اور ڈاکٹر عبد اللہ المتقی کا بورڈ ان کا علاج کر رہاتھا آج دس ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ ڈاکٹروں نے بر وقت ہر ممکن طبی علاج کیا لیکن وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔سید منور حسن کے انتقال سے پاکستان ایک سچے محب وطن،اسلام کے مخلص داعی، جابر حکمرانوں کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر کلمہ حق کہنے والے نڈر مجاہد اور ملک میں اسلام کے نفاذ کی زندگی بھر جدوجہد کرنے والے ایک بڑے بے لوث رہنما سے محروم ہوگیا۔ انہوں نے اپنے پسماندگان میں بیوہ محترمہ عائشہ منورسابق رکن قومی اسمبلی و سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی خواتین، بیٹے طلحہ منور، دو بھائیوں,سید شفیق حسن سابق جنرل منیجر ٹیکسٹائلز، سابق ڈائریکٹر جنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سید ارشاد حسن اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تحریک اسلامی کے لاکھوں کارکنوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

سید منور حسن کے سب سے بڑے بھائی سید مجتبی حسن سابق چیف انجیئر پی ڈبلیو ڈی اور ایک بہن کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ ان کی عمر 79 برس تھی۔وہ 2008سے 2013 تک امیر جماعت اسلامی پاکستان،1993 سے 2008 تک سیکریٹری جنرل، 1992-93 تک اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل، اور 1989سے 1991 تک امیر جماعت اسلامی کراچی اور 12 سال تک اس کے سیکریٹری جنرل رہے۔ جب کہ 1966سے 1968 تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہے۔ وہ اپنے وقت کے مقبول طالب علم لیڈر تھے۔ سید منور حسن نے پوری زندگی اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں گزاری۔وہ جماعت اسلامی میں درویشوں کے اس قافلے میں شامل تھے جنہوں نے اسلام کو سوچ سمجھ کر از سر نو قبول کیا اور اپنی پوری زندگی اس کی اشاعت و تبلیغ کے لئے وقف کردی۔ اعلی تعلیم، وسائل اور مواقع رکھنے کے باوجود امیرانہ بودو باش چھوڑ کر فقیرانہ طرززندگی کو اختیار کیا۔انہوں نے اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اسلام کے نظام عدل و انصاف کو ملک میں نافذ کرنے کے لئے وقف کردیا۔

سید منور حسن نے پی این اے،نظام مصطفی،بنگلہ دیش نامنظور،اسلامی جمہوری اتحاد اور متحدہ مجلس عمل جیسی قومی تحریکوں میں بھر پور حصہ لیا اور نمایاں کردار ادا کیا۔سید منور حسن جماعت اسلامی کے چوتھے امیر تھے۔انہوں نے جماعت اسلامی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ایک حقیقی اسلامی نظریاتی تحریک کے سانچے میں ڈھالنے اور ارکان جماعت کو للہیت اور خشیت الہیٰ کا چلتا پھرتا نمونہ بنانے کیلئے عملی نمونہ پیش کیا۔عالمی اسلامی تحریکوں میں سید منورحسن کا ایک خاص مقام تھا۔انہوں نے دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کے سالانہ اجتماعات،سیمینارز اور پروگراموں میں شرکت کیلئے امریکہ و یورپ،مغربی ممالک اور مشرق بعید کے متعدد ممالک کے دورے کئے اور اسلامی تحریکوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔

سید منور حسن جماعت اسلامی کے چوتھے امیر تھے سید منور حسن 2009سے 2013تک جماعت اسلامی کے امیر رہے۔ سید منور حسن قاضی حسین احمد کے ساتھ طویل عرصہ تک جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل رہے۔ اس سے قبل وہ ڈپٹی سیکرٹری جنرل،مرکزی سیکرٹری جنرل،امیر جماعت اسلامی کراچی اور اسلامی جمعیت طلبا کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق،امیر االعظیم،لیاقت بلوچ،راشد نسیم،میاں محمد اسلم،اسد اللہ بھٹو،پروفیسر محمد ابراہیم،ڈاکٹر فرید احمد پر اچہ،ڈاکٹر معراج الھدیٰ صدیقی،عبدا لغفار عزیز،مولانا عبدالمالک،حافظ محمد ادریس،اظہر اقبال حسن،محمد اصغر،حافظ ساجد انور،بخیتار مانی،سید وقاص انجم جعفری،قیصر شریف و دیگر قائدین اور کارکنان نے سید منورحسن کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ سید منور حسن کی وفات سے ملک و قوم اور عالم اسلام ایک عظیم اور مخلص قائد سے محروم ہوگئے۔

سید منور حسن عالمی اسلامی تحریکوں اپنی خاص پہنچان اور بلندو بالا مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غلبہ اسلام کی جدوجہد میں گزاری، امریکی مداخلت کے خلاف ”گو امریکہ گو“تحریک چلائی۔اس وقت ملک کے بچے بچے کی زبان پرایک ہی نعرہ تھا ”گو امریکہ گو“ سید منور حسن کے اس وڑن کو پوری قوم نے سراہا اور آخر ملک کے مقتدر طبقہ اور حکمرانوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ امریکہ پاکستان کا خیر خواہ نہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -