حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر50

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر50
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر50

  



اب یا کبھی نہیں

یہودی ایک خدا کو ماننے والے تھے، انہیں اپنی کتابوں کے ذریعے ایک پیغمبر کے آنے کا انتظار بھی تھا۔ قرائن سے اُن پر یہ واضح بھی ہو چکا تھا کہ وہ آنے والے پیغمبر محمد ہی ہیں۔ پھر نبیِّ کریمؐ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد وہ اُن کے ساتھ چند اہم معاہدوں میں بھی منسلک ہو چکے تھے مگر ہم لوگ اُن کی طرف سے کبھی پوری طرح مطمئن نہیں ہوئے۔ وہ جب بھی، جہاں بھی ملتے ان سے غیریت ہی نہیں معاندت کی بُو آتی۔ اُن کے تیور ہمیشہ بگڑے بگڑے نظر آتے۔ آئے دن چھوٹے بڑے واقعے بھی ہوتے رہتے جن سے اُن کے دلوں کا بغض ظاہر ہوتا رہتا۔ کبھی کبھی تو وہ صریحاً بدتمیزی پر اُتر آتے۔ ہمارے ساتھ ان کے معاہدے تھے۔ غزوہ بدر میں انہیں ہماری کامیابی پر خوش ہونا چاہئے تھا مگر نہیں۔ رسولِ اکرمؐ اُن کے پاس خوشخبری لے کر گئے تو اُدھر سے یہ جواب ملا کہ قریش ناتجربہ کار تھے اُن سے جیت جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم جیسے جنگ آزمودہ بہادروں سے پالا پڑتا تو پتہ چلتا کہ جنگ کسے کہتے ہیں۔ اُحد میں ہماری ہزیمت پر وہ دل ہی دل میں خوش تھے اور اُن کے طنزیہ چبھتے ہوئے جملے گلیوں، بازاروں میں ہمارے کانوں میں پڑتے رہتے تھے۔ وہ ہم سے معاہدہ تو کر بیٹھے تھے مگر لگتا تھا کہ مسلمانوں سے پنجہ آزمائی پر تلے بیٹھے ہیں۔ اور مسلمانوں پر ایک فیصلہ کن وار کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر49 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

رسولِ کریمؐ اُن کے رویے سے پریشان پریشان رہنے لگے تھے۔ دنیا کو عدل و انصاف کی تربیت دینے والے کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ جب تک یہود کی طرف سے کوئی پہل نہ ہو، جب تک وہ واقعی کوئی قابلِ گرفت جرم نہ کر بیٹھیں، ان کے خلاف کسی انجانے وسوسے کی بنیاد پر کوئی تادیبی کارروائی کی جائے۔ لیکن فراست کا تقاضا تھا کہ قرائن سے بھی نتیجے اخذ کئے جائیں اور بہرصورت اُن کے متوقع شر سے ممکنہ حد تک محتاط رہا جائے۔ اسی عرصے میں چند آیتیں بھی نازل ہوئیں جن سے دلوں کے راز جاننے والے نے ذہنوں سے ایسے پردے اُٹھا دئیے کہ سب شبہات یقین میں بدل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آلِ عمران کی ایک سو اٹھارہویں آیت میں واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا:

’’وہ تمہیں برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

وہ تمہیں تکلیف پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ 

اُن کی نفرت اُن کے منہ سے نکلتے ہوئے الفاظ سے عیاں ہے

لیکن جو بغض وہ اپنے دلوں میں رکھتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘

پھر ایک اور آیت نازل ہوئی آلِ عمران کی ایک سو بیسویں:

’’تم کو اچھی حالت میں دیکھ کر انہیں افسوس ہوتا ہے

اور تم پر کوئی بُری حالت آپڑتی ہے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں‘‘۔

اب ہر ایک کو یقین تھا کہ کسی وقت بھی کوئی واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔ رسولِ کریمؐ نے مکمل حفاظتی تدابیر اختیار کر لیں۔ چاروں طرف اپنے جاسوس پھیلا دیے کہ اہلِ یہود کی حرکات و سکنات پر نظر رکھیں اور ان کی ہر چال سے باخبر رہیں تاکہ مسلمان اچانک کسی سازش کاشکار نہ ہو جائیں۔ تقریباً دو سال ہو گئے تھے ہمیں مکے سے آئے ہوئے۔ ان برسوں میں انہوں نے ہمیں ہر رنگ میں دیکھ لیا تھا اور ان میں سے کوئی بھی رنگ انہیں پسند نہیں تھا۔ وہ حسد کی آگ میں جلے جا رہے تھے۔ ہمارے دین کی روز افزوں مقبولیت، ہمارے پیغمبرؐ کی ہر لحظہ بڑھتی ہوئی توقیر اُن کے دلوں کا ناسور بن گئی تھی۔ قریشِ مکہ سے اُن کے سازباز کی اطلاعات بھی ملتی رہتی تھیں۔ خاص طو پر اُن کے قبیلے بنو قینقاع کی ریشہ دوانیاں زوروں پر تھیں۔ عبداللہ ابنِ سلام جو اسی قبیلے کے فرد تھے اُن کی رگ رگ سے واقف تھے۔

پھر ایک واقعہ ایسا ہوا جس سے یہودیوں کا سارا عناد کھل کر سامنے آ گیا۔ مدینے کے جنوب میں جہاں قینقاع آباد تھے، ایک مسلمان عورت کسی خریدو فروخت کے سلسلے میں جا رہی تھی کہ ایک یہودی صراف نے اُس سے چھیڑ خانی کی۔ ایک مسلمان راہرونے یہ صورت دیکھی تو اُس نے صراف سے باز پرس کی، جھگڑا بڑھ گیا۔ تلواریں بے نیام ہو گئیں اور یہودی صراف قتل ہو گیا۔ اسی اثناء میں اور یہودی بھی اکٹھے ہو گئے تھے۔ انہوں نے مسلمان کو قابو کر کے شہید کر دیا۔ دونوں طرف سے ایک ایک فرد جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا، اسی پر بات ختم ہو سکتی تھی۔ مگر بنوقینقاع تو جیسے اُدھار کھائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ جنگ کی ٹھان لی اور سات سو مسلح افراد کا لشکر تیار کر لائے۔ کم و بیش اتنی ہی نفری کی توقع اُنہیں عبداللہ ابن ابی اور عبادہ بن الصامتؓ سے تھی۔ مگر ان دونوں نے ساتھ نہ دیا۔ نبی کریمؐ کے حکم پر مسلمانوں نے بنو قینقاع کے لشکر کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا اور انہیں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔ دو ہفتے تک محاصرے میں رہنے کے بعد انہیں غیر مشروط طور پر خود کو مسلمانوں کے حوالے کرنا پڑا۔ اب اُن کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا وقت تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خیمے میں تھے کہ ابن ابی آ پہنچا اور اپنے حلیفوں کی امان مانگنے لگا۔ حضورؐ نے غصے سے منہ پھیر لیا مگر ابن ابیؓ نے ان کا دامن پکڑ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے سختی سے اُسے دامن چھوڑنے کو کہا مگر اس نے کہا واللہ میں آپ کادامن نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ بنو قینقاع سے اچھے سلوک کا وعدہ نہیں فرمائیں گے۔ اُن کے مجھ پر بڑے احسان ہیں۔ پیغمبرِ رحمتؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں تیری خاطر اُن کی جاں بخشی کرتا ہوں۔ مگر اُنہیں مدینہ چھوڑنا پڑے گا۔ یہ کہہ کر انہوں نے عبادہ ابنِ الصامتؓ کو حکم دیا کہ انہیں مدینے کی حدود سے باہر چھوڑ آئیں۔ مدینے سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے وادی القراء میں ایک یہودی قبیلے کے یہاں پناہ لی اور کچھ دن وہاں رہ کر شام کی سرحدوں پر جا آباد ہوئے۔

اس کے بعد یہودی قبیلہ بنو نضیر بھی اُنہیں کے نقش قدم پر چلا اور مدینے سے خارج کر دیا گیا۔ یہ اللہ کے اُس حکم کی تعمیل تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جب تم جنگ میں فتح حاصل کر لو تو اپنے دشمنوں کو ایسی مثال بنا دو کہ اُن کے پشت پناہوں کے دلوں میں تمہاری دہشت بیٹھ جائے اور وہ آئندہ کے لئے محتاط ہو جائیں۔ دہشت پھیلی اور ایسی پھیلی کہ مدینے میں جس جس کے دل میں چور تھا اپنی عافیت کی راہیں تلاش کرتا نظر آتا تھا۔ مسلمانوں سے اتنا سلوک برتتا تھا، اُن کے ہر کام میں اس طرح پیش پیش رہتا تھا کہ جیسے کبھی کوئی خلش تھی ہی نہیں۔ لیکن یہ سب محض ایک ظاہری صورت تھی۔ اندر دلوں میں اُبال اُٹھ رہے تھے۔ بظاہر تو کوئی بات نہیں تھی جس پر گرفت ہو سکتی۔ مگر فراستِ مومن بیدار تھی۔ ساری صورتِ حال آئینے کی طرح نظروں کے سامنے تھی۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال