’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 22

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 22
’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 22

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

”تم ٹھیک ہو؟“
پروین نے ڈنڈا ایک طرف پھینکتے ہوئے عنصر سے پوچھا۔
”میں ٹھیک ہوں۔ شکر ہے آپ بروقت مدد کو پہنچ گئی ورنہ وہ گینڈا تو میری جان لینے پر ہی تل گیا تھا۔“
عنصر نیلی حویلی کے فرش پر بیٹھ گیا۔
”شکریہ کس بات کا۔ آپ نے بھی تو میری جان بچائی ہے۔“
پروین نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کے لیے پانی لے آئی۔ پانی پی کر عنصر کے حواس بحال ہونے لگے۔ ہال میں سامنے والی دیوار پر گرد سے اٹا ایک ٹوٹا ہواشیشہ معلق تھا۔ عنصر نے صاف کر کے اس میں اپنا چہرہ دیکھا تو فوری سر کے بال جھاڑنے شروع کر دیے کیونکہ اس کے بال اور کپڑے مٹی سے اٹے پڑے تھے۔ الماری کے ساتھ ٹھوکر لگنے سے اس پر اچھی خاصی مٹی گری تھی۔ اسی وجہ سے پہلی نظر میں عنصر کو دیکھتے ہی پروین کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ وہ ہاتھ منہ دھو کر آیا تو پروین بڑے غور سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
”کیا دیکھ رہی ہو۔ اب تو بھوت نہیں لگ رہا ؟“
عنصر نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں کہا۔
”نہیں۔ اب ٹھیک ہے۔“
پروین نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا۔
”پروین ایک بات بتاﺅ۔ تم اتنے دنوں سے اس سنسان حویلی میں ہو اور یہاں تمہیں ڈر نہیں لگ رہا۔“
عنصر نے اچانک سوال پوچھا۔ وہ اس کی بہادری سے بے حد متاثر تھا۔
”کیا مطلب؟“
پروین نے اس بار سنجیدگی سے کہا۔

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 21 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
”وہ میرا مطلب ہے عموماً ایک لڑکی سے توقع نہیں ہوتی وہ کسی ویران جگہ پر ایک لمحہ بھی ٹھہر جائے مگر تم ذرہ برابر نہیں گھبرا رہی۔“
عنصر نے گڑبڑا کر کہا۔
”میرا خیال ہے اب تک جن حالات کا ہم نے سامنا کیا ہے وہ نہ تمہارے پیداکردہ ہیں نہ میرے۔ ہمیں ان حالات کا ہر صورت سامنا کرنا ہی تھا۔“
پروین نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
”کیا تمہیں مجھ سے بھی ڈر نہیں لگ رہا؟“
عنصر نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔
”تم سے کیوں ڈروں؟ تم کیا سچ مچ کوئی بھوت ہو ؟“
پروین نے ہنستے ہوئے کہا۔
”ویسے میں کسی بھی انسان کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتی ہوں؟“
”کیا تم نجومی ہو؟“
عنصر نے پوچھا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
”بس کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔ میں نے ڈگری کالج سے نفسیات میں گریجوایشن کی ہے۔ اس لیے انسانوں کو تھوڑا بہت تو پہچان لیتی ہوں۔“
”واہ ! تم تو چھپی رستم نکلی۔“
عنصر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اچانک اسے یاد آیا اسے ماسٹر حمید پوری حویلی میں نہیں ملے تھے۔ اس کے چہرے پر فکرمندی کے آثار ابھر آئے۔
”پروین ! اب تمہیں گھر چلے جانا چاہیے۔ میں تمہیں گھر تک چھوڑ آتا لیکن اس صورتحال میں میرا نیلی حویلی سے نکلنا ممکن نہیں۔ چوہدری عمردراز کے ملازم ہوش میں آتے ہیں تو ان سے ابا کے بارے میں پوچھوں گا۔“
”میرا خیال ہے انکل حمید کو ڈھونڈنے میں، میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں۔“
پروین نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”کیسی مدد؟“
عنصر چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
”میرا خیال ہے چوہدری عمردراز نے انکل حمید کو اسی جگہ چھپا رکھا ہے جہاں پہلے مجھے رکھا تھا۔“
”کون سی جگہ؟“
عنصر نے مضطربانہ پوچھا۔
”ایک شرط پر بتاﺅں گی۔ اگر تم مجھے بھی ساتھ لے کر چلو۔“
”دیکھو یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔“
”میں مذاق نہیں کر رہی۔ انکل حمید سکول کے زمانے میں میرے اُستاد تھے۔ سکول کے بعد انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی تو میں کالج میں داخل ہوئی ورنہ اماں ابا مجھے میٹرک سے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اِس لحاظ سے کم از کم اتنا حق تو میرا بھی بنتا ہے کہ ان کے کچھ کام آ سکوں۔“
”دیکھو پروین! اب تک تمہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ چوہدری عمردراز کس قدر خطرناک آدمی ہے؟ اس صورت میں، میں تمہاری زندگی کو خطرے میں کیسے ڈال سکتا ہوں؟“
”کیا تمہارا اس بات پر پختہ ایمان نہیں ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ اگر آج لکھی ہے تو اسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے تو یہ چوہدری عمردراز کیا شے ہے۔ ویسے بھی وہ ابھی تک اپنی ناک سہلا رہا ہو گا۔“
”کیا....؟“
عنصر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
”اُس کی ناک پر گھونسا تم نے مارا تھا؟“
اچانک اسے یاد آگیا جب وہ اور ریاست چوہدری عمردراز کی حویلی میں گئے تھے تو اُس کی ناک ٹماٹر کی طرح سرخ اور سوجی ہوئی تھی۔
”جی جناب۔ اس بندی نے یہ کام کیا ہے۔“
پروین نے سر خم کرتے ہوئے کہا۔
عنصر پروین کا چہرہ حیرانی سے تک رہا تھا۔ اب سے کچھ دیر پہلے تک وہ اسے صرف بہادر لڑکی سمجھ رہا تھا مگر اب وہ اسے بالکل پاگل لگ رہی تھی۔ اسے پروین کے دبنگ انداز نے بہت متاثر کیا تھا۔ ایک سنسان جگہ پر اس طرح کا ردعمل کوئی عقل سے پیدل صنف نازک ہی دکھا سکتی تھی ورنہ ہوش و ہواس میں تو کوئی لڑکی اس جگہ پر ایک منٹ بھی ٹھہرنے کا نہیں سوچ سکتی تھی۔
”ٹھیک ہے۔ تم میرے ساتھ آ سکتی ہو۔ کہاں ہے وہ جگہ؟“
عنصر کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ماسٹرحمید کس جگہ پر ہیں یہ بھی صرف وہی جانتی تھی اس لیے اس نے اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت سمجھی۔
”وہ ایک خفیہ تہہ خانہ ہے۔“
”آگے بولو۔میری جان پر بنی ہے اور تم پہیلیاں بجھا رہی ہو۔ “
عنصر نے قدرے تیزی سے کہا۔
”تم مجھ پر حکم چلا رہے ہو؟“
پروین نے اس کی طرف گھور کر دیکھا۔
”اوہ! معاف کرنا۔ میں جلدازجلد اپنے ابا تک پہنچنا چاہتا ہوں۔اللہ کرے اس جانور نے ابھی تک انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا ہو۔ “
عنصر نے پریشانی سے کہا تو پروین بھی معاملے کی نزاکت سمجھ گئی۔
”دراصل اغوا کرنے کے بعد چوہدری عمردراز نے مجھے ایک تہہ خانے میں رکھا۔ میں کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلی اور نیلی حویلی کے مرکزی دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی مگر وہ بند تھا۔“
”پھر....؟ پھر کیا ہوا؟“
عنصر نے تجسس سے پوچھا۔
”رات کا وقت تھا۔ میں نے پگڈنڈی سے ایک آدمی کو گزرتے دیکھا تو مدد کے لیے پکارا مگر وہ مجھے دیکھتے ہی یوں سرپٹ دوڑا جیسے میں کوئی چڑیل ہوں۔ اتنے میں چوہدری عمردراز کا چیلا آگیا اور میرے سر پر کوئی چیز ماری جس سے میں بیہوش ہو گئی۔ ہوش میں آنے پر میں نے اپنے آپ کو اسی تہہ خانے میں پایا۔“
عنصر کو عمردین پر بیتنے والے واقعے کے ساری سمجھ آ گئی۔ عمر دین نے کسی بدروح کو نہیں بلکہ پروین کو دیکھا تھا۔ وہ اسے چڑیل سمجھ بیٹھا تھا۔ یہ پہیلی سلجھی تو عنصر کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ پروین نے اس سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو اس نے عمردین والا واقعہ سنا دیا۔ پروین اس کی بات سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
”پھر کیا ہوا؟“
عنصر نے اشتیاق سے پوچھا۔
”پھر کیا تھا جب میں نے چوہدری عمردراز کو دیکھا تو طیش میں آ کر اس کے منہ پر مکا مار دیا۔ وہ اپنی ناک سہلاتا ہوا ایک طرف ہٹا تو اس کے آدمیوں مجھ پر پل پڑے۔ ان کی مارپیٹ سے میں بیہوش ہو گئی۔ پھر مجھے نیلی حویلی لا کر اوپر والے کمرے میں ڈال دیا جہاں تم نے مجھے دیکھا۔“
”میرا خیال ہے اب ہمیں وقت ضائع کیے بغیر خفیہ تہہ خانے میں جانا چاہیے۔“
عنصر نے کہا تو پروین نے تائید میں سر ہلا دیا۔ وہاں سے نکلنے سے پہلے عنصر نے چوہدری عمردراز کے تیسرے ملازم کو بھی باقی دو کے ساتھ باندھ دیا۔ وہ دونوں بدستور بے ہوش پڑے تھے۔
عنصر اور پروین باتیں کرتے کرتے نیلی حویلی کے صحن میں آ گئے تو پروین چوہدرانی نیک بخت کی قبر کے قریب آ کر رک گئی۔عنصر اس کی جانب بغور دیکھ رہا تھا۔ اس نے اس سے پہلے اس کو اچھی طرح دیکھا تھا لیکن اسے یہاں سے خفیہ راستہ ڈھونڈنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ پروین نے اس کی جانب دیکھا اور ماربل سے بنی قبر کے اوپر والی سل کو زور لگا کر ایک طرف کیا تو گڑگڑاہٹ کی آواز کے ساتھ قبر کھلتی چلی گئی۔ حیرت سے عنصر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ وہ کوئی قبر نہیں تھی بلکہ نیچے زینے اتر رہے تھے جو گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔
پروین نے ٹارچ کی طرف اشارہ کیا تو عنصر نے تیزی سے ٹارچ جیب سے نکالی اور روشن کر دی۔ پروین نے زینے پر قدم رکھا اور نیچے اُترنے لگی۔ عنصر نے بھی اس معاملے میں اس کی تقلید کی اور قبر میں اتر گیا۔ چند زینے اترنے کے بعد عنصر کو دیوار میں نصب ایک بٹن نظر آیا۔ اس نے اسے دبایا تو لائٹ آن ہو گئی اور تیز روشنی قبر سے باہر نکلنے لگی۔ اس نے ٹارچ بند کر دی کیونکہ آگے بڑھنے کے لیے راستے میں اب کافی روشنی تھی۔ اس سے پہلے جب وہ نیلی حویلی آیا تھا اور پھسل کر گرا تھا تب بھی اس نے یہی روشنی دیکھی تھی اور جن سایوں کو اس نے قبر میں اترتے محسوس کیا تھا وہ یقینا چوہدری عمردراز کے چیلے ہی تھے۔ بہت سارے راز رفتہ رفتہ کھلتے جا رہے تھے۔ عنصر سوچ میں پڑ گیا کہ اگر یہ چوہدرانی نیک بخت کی قبر نہیں ہے تو پھر وہ کہاں دفن ہے؟
زینے ختم ہونے کے بعد نیچے ایک بہت بڑا تہہ خانہ آ گیا۔ عنصر نے وہیں کھڑے کھڑے کنویں کی سمت کا تعین کیا اور دائیں جانب چل پڑا۔ اسے سامنے دیوار میں ایک سرخ رنگ کا بٹن نظر آیا۔ اسے دبایا تو گڑگڑاہٹ کی آواز دوبارہ ابھری اور تہہ خانے کی دیوار متوازی سمت میں پیچھے کو ہٹنے لگی اور ایک کمرہ نمودار ہو گیا۔ عنصر کمرے میں داخل ہوا۔ یہ وہی کمرہ تھا جس میں کیتھرین کا تابوت پڑا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ چوہدری عمردراز قیام پاکستان سے پہلے کے خزانے اور اپنی لوٹ مار کی دولت کو جمع کرنے کے لیے اس کمرے کو استعمال کرتا ہے۔ پروین کے لیے یہ سب بہت حیران کن تھا۔ عنصر نے مختصراً اسے اس کا پس منظر بتایا تو اس کی حیرت دوچند ہو گئی۔
کمرے سے باہر نکل کر عنصر نے دوبارہ سرخ بٹن دبایا تو دیوار آپس میں مل گئی۔ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہاں پر کوئی کمرہ بھی ہے۔ خفیہ کمرے کے سے تھوڑا آگے ایک سرنگ جا رہی تھی جو جارج فرنانڈس کی ڈائری کے مطابق یقینا گاو¿ں سے نکلنے کا خفیہ راستہ تھا۔ سامنے کی جانب ایک اور سرنگ نظر آ رہی تھی۔ پروین نے اس سمت اشارہ کیا تو عنصر سمجھ گیا کہ یہی سرنگ یہاں سے چوہدری عمردراز کی حویلی تک جاتی ہے۔ پروین آگے بڑھی توعنصر بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ تقریباً پانچ منٹ کی پیدل مسافت کے بعد سرنگ کے دھانے پر انہیں تیز روشنی دکھائی دی۔
پروین اور عنصر نے چلنے کی رفتار تیز کر دی۔ سرنگ پار کر کے جیسے ہی وہ دونوں چوہدری عمردراز کے حویلی کے تہہ خانے میں داخل ہوئے پروین کے منہ سے بے ساختہ ”انکل“ نکلا اور اس نے دوڑ لگا دی۔ عنصر کی نظر اس سمت پڑی جدھر پروین نے دوڑ لگائی تھی تو اس کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ ماسٹر حمید خون میں لت پت زمین پر پڑے تھے۔ ان کے سر سے نکلنے والا خون فرش اور ان کے چہرے پر جم گیا تھا۔ عنصر دوڑ کر ان کے پاس پہنچا اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔
”ابا! آنکھیں کھولیں۔ دیکھیں ابا میں آ گیا ہوں۔ ابا! ابا!“
عنصر نے جذباتی انداز میں ان کا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ ماسٹر حمید بالکل بے سدھ تھے۔ ان کے جسم میں کوئی جنبش نہیں ہو رہی تھی۔ ان کو اس حالت میں دیکھ کر پروین بھی رنجیدہ ہو گئی۔
عنصر زور زور سے ماسٹرحمید کو آوازیں دے رہا تھا۔
”ابا! آنکھیں کھولیں۔“ مگر وہ بالکل ساکت تھے۔
پروین نے نگاہ دوڑائی تو اسے ایک پیالے میں پانی مل گیا ۔ اس نے پانی کے چھینٹے ماسٹر حمید کے منہ پر چھڑکے تو ان کی آنکھوں کے پپوٹوں میں کچھ جنبش ہوئی۔ پروین نے مزید چھینٹے مارے تو انہوں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھو ل دیں۔ عنصر کو سامنے پا کر وہ ذرا سا مسکرائے۔ ماسٹرحمید کو ہوش میں دیکھ کر عنصر کی جان میں جان آ گئی۔ پانی پینے کے بعد ماسٹر حمید ہوش میں آ گئے۔ پروین نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر ماسٹر حمید کے سر کے زخم کے گرد باندھ دیا۔
عنصر نے جلدی جلدی ان کی رسیاں کھولیں اور سہارا دے کر کمرے میں پڑی اکلوتی کرسی پر بٹھا دیا۔ ماسٹرحمید کچھ دیر لمبے لمبے سانسیں لیتے رہے پھر بولنے کے لیے منہ کھولا تو ان کے منہ سے صرف دو الفاظ نکلے:
”عمر ....دراز“۔
چوہدری عمردراز کا نام سن کر عنصر کا خون کھول اٹھا۔ یہ سب کیا دھرا اسی شیطان صفت آدمی کا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اس کے سامنے آئے تو اسے زندہ زمین میں گاڑ دے۔ اس نے پروین سے کہا ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے وہ انہیں لے کر اپنے گھر چلی جائے۔ اس نے اٹل فیصلہ کر لیا کہ وہ آج چوہدری عمردراز کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی واپس لوٹے گا۔ ماسٹر حمید کی حالت دیکھ کر پروین نے مزید اس کے ساتھ رہنے پر اصرار نہ کیا اور گھر جانے کے لیے رضامند ہو گئی۔ عنصر دونوں کو نیلی حویلی سے رخصت کر کے سرنگ سے ہوتا ہوا واپس اسی تہہ خانے میں آ گیا۔ دونوں کو گھر بھیج کر اس کا دل اطمینان سے بھر گیاتھا۔
عنصر کو اب صرف چوہدری عمردراز کی تلاش تھی۔ تہہ خانے کے ایک کونے سے اسے زینے اوپر جاتے دکھائی دیے۔ وہ بڑی احتیاط سے اُوپر چڑھتا گیا حتیٰ کہ زینے ختم ہو گئے۔ اب اس کے سامنے تہہ خانے کی چھت تھی۔ اس نے چھت کو چھوا تو وہ ذرا سے دباﺅ پر اوپر اٹھتی چلی گئی۔ اس نے نظریں گھما کر دیکھا، کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے احتیاط سے چھت کے ٹکڑے کو ایک طرف رکھا اور اوپر چڑھ گیا۔ چوہدری عمردراز اس کے سامنے پلنگ پر پڑا خراٹے مار رہا تھا۔ ان دونوں کے علاوہ کمرے میں اور کوئی نہیں تھا۔
عنصر کے سامنے ماسٹر حمید کا زخمی چہرہ آ گیا۔ وہ غصے سے آگے بڑھا اور چوہدری عمردراز کی ٹانگوں پر زوردار لات رسید کر دی۔ زوردار ضرب سے چوہدری عمردراز ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور عنصر کو سامنے دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کے کمرے میں اس کے سامنے ماسٹر حمید کا لڑکا کھڑا ہے۔ حیرت کے عالم میں اس نے فرش کی طرف دیکھا جس کا ایک ٹکڑا سائیڈ پر پڑا تھا اور تہہ خانے کا راستہ نظر آ رہا تھا۔
اس نے کمرے میں نظر دوڑائی مگر ان دونوں کے علاوہ وہاں اور کوئی نہیں تھا۔ معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوتے ہی عدم تحفظ کے احساس نے چوہدری عمردراز پر لرزا طاری کر دیا۔ وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا مگر اس سے پہلے کہ وہ پیشگی کچھ کرتا، عنصر آگے بڑھا اور اسے دھکا دے کر بستر پر گرا دیا۔ اس نے چوہدری عمردراز کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور اس پر گھونسوں کی بارش کر دی۔ لگاتار گھونسے کھانے سے چوہدری عمردراز ادھ موا ہو گیا۔ اس کی چیخیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔ عنصر کو اس پر کوئی رحم نہیں آ رہا تھا۔ اس کمینے نے اس کے گھر والوں کا جینا حرام کر دیا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کا گلا دبانا شروع کر دیا۔ چوہدری عمردراز کی گردن پوری طرح اس کی گرفت میں تھی۔ رفتہ رفتہ چوہدری عمردراز کی مزاحمت کم پڑنے لگی۔
عنصر پوری قوت سے اس کا گلا دبا رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے کسی نے اس کے سر پر آہنی راڈ سے ضرب لگائی اور اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ ان دونوں کی دھینگامشتی اور شورشرانہ سن کر ساتھ والے کمرے میں موجود چوہدری عمردراز کا خاص ملازم ماکھا اندر آ گیا تھا اور اس نے دبے پاو¿ں آ کر عنصر کے سر پر ضرب لگائی تھی۔ عنصر کے ہوش و حواس جاتے رہے اور وہ بستر پر ایک جانب لڑھک گیا۔(جاری ہے)

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 23 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں