ماتحت عدالتوں کے ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر 62سال کرنے کی تجویز مسترد

ماتحت عدالتوں کے ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر 62سال کرنے کی تجویز مسترد

  

 لاہور(سعید چودھری)پنجاب حکومت نے ماتحت عدالتوں کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62سال کرنے اوران کی ملازمتوں کا الگ کیڈر بنانے کی تجویز مسترد کردی،ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے متعلقہ صوبائی محکموں کی مخالفت کے باجود عدلیہ کی اس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لئے اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم جب یہ معاملہ وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں لایاگیا تو انہوں نے اس تجویز پرناپسندیدگی کا اظہارکرتے ہوئے اسے نامنظورکرنے کی ہدایت کی،ایڈووکیٹ جنرل آفس نے بھی وزیراعلیٰ کو اس تجویز کے غیر آئینی پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کیاجس کے بعد وزیراعلیٰ نے واضح کردیاکہ اس تجویز پر عمل نہیں کیاجاسکتا،لاہورہائی کورٹ کے رجسٹرار جوخود آئندہ ماہ یکم ستمبر کو ریٹائر ہورہے ہیں نے لاہورہائی کورٹ کی طرف سے 9اگست کو چیف سیکرٹری پنجاب کے نام ایک خط لکھا جس میں کہاگیاتھا کہ ماتحت عدلیہ میں ججوں کی کمی ہے اس لئے ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال سے بڑھا کر 62سال کردی جائے،پنجاب کے محکمہ خزانہ اورقانون سمیت متعلقہ محکموں نے اس تجویز کی مخالفت کی تاہم وزیراعلیٰ کی ہدایت پر قانونی راستہ نکالنے کے لئے مختلف پہلوؤں پر غور کیاگیا،اس دوران جوڈیشل ایکٹ لانے کی تجویز بھی سامنے آئی جس کے تحت ماتحت عدالت کے ججوں کو سول سرونٹس کی تعریف سے نکال کر ان کے لئے الگ کیڈر بنانا بھی شامل تھا، مجوزہ جوڈیشل ایکٹ میں ماتحت عدالتوں کے ججوں کے کیڈرکوجوڈیشل سروسز کیڈرکانام دیاجاناتھاجس کے تحت ججوں کی تنخواہوں کا الگ ڈھانچہ تشکیل دینے کی تجویز بھی تھی،اس تجویز کے تحت سیشن جج کی تنخواہ لاہورہائی کور ٹ کے جج کی تنخواہ کے 70فیصد،ایڈیشنل سیشن جج کی تنخواہ لاہورہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ کے50فیصد،سینئر سول جج کی تنخواہ لاہورہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ کے 40فیصد اور سول جج /جوڈیشل مجسٹریٹس کی تنخواہ ہائی کور ٹ کے جج کی تنخواہ کے 25یا 30فیصد کے مساوی مقررکرنے پرغور ہوتارہا،پنجاب حکومت کے محکمہ قانون اور محکمہ خزانہ سمیت تمام متعلقہ محکموں نے مذکورہ تجاویز کو آئین کے منافی،امتیازی،ناقابل عمل اور خزانہ پر بوجھ قراردیا،ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے یہ تجویز مستردکردی ہے جس سے باقاعدہ طور پر عدلیہ کو آگاہ کیاجارہاہے۔

تجویز مسترد

مزید :

صفحہ اول -