انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 48

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 48
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 48

  

اکتو بر 2011 ء میں افریقی ملک چا ڈ میں ایک غیر سرکا ری فرانسیسی تنظیم ’’آر چے ڈی ذوئی ‘‘کے ارکا ن کو گر فتا ر کر لیا گیا ۔ اس تنظیم پر 103 چا ڈ بچوں کو فرا نس سمگل کر نے کے لیے اپنی تحو یل میں رکھنے کا الزام تھا ۔ جن کو وہا ں غیر قانونی طو ر پر گو د لینے کے لیے فر و خت کیا جانا تھا ۔ اس تنظیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ آپر یشن یتیم اور پنا ہ گزین بچوں کو سو ڈا ن کے علا قے ’دا رفر ‘ سے مدد کے لیے اپنی تحویل میں لیا ۔ لیکن بین الاقوامی انسانی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ان میں سے بہت سے بچوں کے والدین مو جو د تھے اور وہ چا ڈ کے رہنے وا لے تھے ۔ اسی طر ح بلغا ر یہ میں ایک رو ما خا ندان بچوں کی سمگلنگ میں ملو ث تھا جو ہز ار ڈا لرکے عو ض بچے فر و خت کر تا تھا ۔ اسے فرا نس اور بلغا رین پو لیس نے ایک مشتر کہ آپر یشن کے دو ران گر فتا ر کیا ۔ 2004ء میں فرا نسیسی پو لیس نے پیرس کے با ہر 67 روما (روما نیہ کے رہنے والے )باشندوں کو بچوں کے سا تھ جنسی زیا دتی کے جرم میں گر فتا ر کیا جن کو وہ فرا نس میں چو ری کرنے اور بھیک مانگنے کے لیے سمگل کر کے لا ئے تھے ۔یہ گینگ ان بچوں کو رو زانہ 250ڈا لر نہ کما نے پر تشدد کا نشا نہ بنا تا تھا ۔ یہ بھیک ، چو ری اور جسم فرو شی کے ذریعے فی بچہ ہرر وز 250ڈا لر گینگ کے سر غنہ کو ادا کر کے سو تا تھا ۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 47 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مقا می پو لیس 90فیصد جسم فر وش عو رتوں کو سمگلنگ کا شکا ر قرا ر دیتی ہے ۔ اسی طر ح 8ہز ار بچوں کو بھی بھیک ما نگنے ، چو ری کرنے اور جبری جسم فر و شی کے لیے دیگر ممالک سے سمگل کر کے لا یا گیا ۔ مذکو رہ افرا د پر جسمانی اور نفسیا تی تشدد کر کے ان کو ’’اطا عت گزار ‘‘ بنا یا جاتا ہے ۔ فرا نس میں ایسی عو رتو ں اور بچوں کی بھی ایک بڑی تعدا د پا ئی جا تی ہے جن کو معلو م نہیں کہ وہ سمگلنگ کے شکا ر افرا د میں شامل ہیں ۔ سمگلر ز کچھ عو رتوں اور لڑ کیوں کو اغو ا ء کر کے یا خرید کر لا تے ہیں اور بالکن با شند وں کے زیر حکم چلنے والے جسم فر و شی کے اڈو ں پر فر و خت کردیتے ہیں ۔ فرانس کی پو لیس اور غیر سرکا ری تنظیمو ں کا مو قف ہے کہ فرا نس میں مقامی شہر یو ں اور غیر ملکی افراد پر مشتمل سمگلنگ کے نیٹ ورک قائم ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ 1996ء میں سٹا ک ہو م میں ہونے والی ’’بچوں کے کا رو با ر ی جنسی استحصا ل کے خلا ف ورلڈ کا نگرس کا نفرنس ‘‘کے ایجنڈے پر ابھی تک مکمل طو ر پر عملدرآ مد نہیں ہو سکا ۔ بچو ں کے حقوق کے تحفظ کی کمیٹی بھی ان کی فر و خت ، استحصا ل اور جسم فر وشی کو قومی تر جیح قرار دے چکی ہے ۔ 2002ء میں بچوں کی فحش ویڈیو ز کے خا تمے کو بھی ایک چیلنج کے طور پر لیا گیا۔2011 میں شمالی فرانس میں منعقدہ ایک کانفرنس میں اسمگلنگ کے شکار افراد کے متعلق اپنے تحفظا ت کا اظہا ر کر تے ہو ئے انسانی سمگلنگ کو دنیا کی سب سے تیزی سے تر قی کر تی ہو ئی جرائم کی صنعت قرا ر دیا گیا ۔ 

یو رپی یو نین کی تشکیل سے پہلے برا عظم یو رپ کا ایک اہم ملک جرمن تھا ۔ اس کی تا ریخ معاشی ، سیا سی ، سما جی ، ثقا فتی عرو ج و زوال سے بھری پڑی ہے ۔ بعض مو ئر خین نے لکھا ہے کہ 20ویں صدی کے آغا ز سے ہی جرمن قوم احساس بر تر ی میں برُ ی طر ح مبتلا تھی۔ جس کا مو قف تھا کہ وہ نسلاً دنیا کی بر تر قوم ہے جس کا پو ری دنیا پر حق حکمرانی ایک خد ائی حق ہے جسے تسلیم کر نا ہر قو م پر لا زم ہے ۔ اپنے اس مو قف کو تقو یت دینے کے لیے 20ویں صدی کے پہلے عشرے میں جرمن نے اسلحہ اور گو لہ با رو د جمع کر نا شرو ع کر دیا ۔ اس وقت بر طا نیہ کا اقتدا ر کئی ایشیا ئی اور افریقی ممالک تک پھیلا ہو ا تھا ۔ جرمن نے بر طا نیہ سمیت پورے یو رپ کو چیلنج کر دیا ۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہو ئی جو 1918 ء تک جا ری رہی ۔ آنے وا لے دو عشروں میں ابھی دنیا پہلی جنگ کے اثرا ت سے نہ نکل پا ئی تھی کہ جرمن میں نا زی پا ر ٹی بر سر اقتدا ر آگئی جس کی قیا دت ایک انتہا ئی سفا ک لیڈ ر ہٹلرکے ہا تھ میں تھی ۔ اس نے بھی جر من قو م کے حق حکمرا نی کا نعر ہ بلند کر تے ہو ئے پو رے یو رپ کو للکا ر ا’’ہمیں حکمر ان تسلیم کر و ورنہ جنگ کے لیے تیا ر ہو جا ؤ ‘‘۔ یہ جنگ 1938 شرو ع ہو ئی اور اگست 1945ء میں جا پا ن جو جرمن کا اتحاد ی تھا پر امریکی ایٹم بم گرانے کے نتیجے میں ختم ہو ئی ۔ اس جنگ نے ایشیا ء ، یو رپ اور افر یقہ پر ا نمٹ نقو ش مر تب کئے ۔ لا کھو ں انسانوں کی جا نیں تلف ہو ئیں اور کئی اقو ام یو رپ میں ہجر ت کرنے پر مجبو ر ہو ئیں ۔ (بحو الہ او سلو سپینگلر کی کتا ب ’’یو رپ کا زوا ل ‘‘) ۔ جرمن یو رپی یونین کے با نی ارکا ن میں شامل ہے اور اس وقت جی ڈی پی کی زبان میں دنیا کی پا نچویں بڑی معا شی طا قت ہے ۔ کچھ علا قو ں میں اگر چہ بے رو ز گا ر ی بھی پا ئی جا تی ہے لیکن ایشیا ئی اور مشرقی یو ر پین ممالک کے با شند ے جر من جانے کے لیے بھاری رقوم سمگلرز کو ادا کر تے ہیں ۔ جون 2010ء کی ایک امر یکی رپو رٹ کے مطا بق جر منی عو رتوں ، مر دو ں کے لیے جن کو جنسی استحصا ل اور جبری مشقت کے لیے سمگل کیا جا تا ہے ایک را ہدا ری اور منزل کا ملک بھی ہے ۔ جرمنی میں سمگلنگ کے شکا ر افراد کو ایشیا ء ، افریقہ ، مشر قی یو رپ اور نصف کر اہ ارض کے علا قو ں سے سمگل کر کے لا یا جا تا ہے ۔ جنسی مقا صد کے لیے سمگل کیے گئے افراد میں تقریباً ایک چو تھا ئی مقا می جرمن با شندوں کی ہے جن کو ملک کے اندر سے سمگل کیا گیا ۔

2007ء میں دستیا ب ہو نے والے اعدا د شما ر کے مطا بق چیک ، رو ما نین اور پولش با شند وں کی سمگلنگ میں کمی وا قع ہو ئی جبکہ بلغا ریہ ، ہنگری اور نا ئیجیرین با شندو ں کی سمگلنگ میں اضا فہ ہو ا ۔ ان میں 12فیصد 18سال سے کم عمر کے افراد شامل تھے ۔ جنسی مقاصد کے لیے سمگل کیے گئے افراد کی شنا خت کے بعدعیا ں ہو ا کہ ان کی اکثر یت کا قحبہ خا نوں گلیوں میں استحصا ل کیا گیا ۔ (جاری ہے )

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 49 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ