ملکی سیاست اور نجومیوں کی بے بسی۔۔۔!

ملکی سیاست اور نجومیوں کی بے بسی۔۔۔!
 ملکی سیاست اور نجومیوں کی بے بسی۔۔۔!
کیپشن: 1

  


تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملک بھر کے نجومیوں نے اپنا کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے کوئی بھی پیشنگوئی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ سیاسی حالات اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ کوئی بھی حتمی بات کہنا ممکن نہیں ؟ معاملات دنوں یا گھنٹوں میں نہیں سیکنڈوں میں بدل رہے ہیں ۔ سیاسی ہلچل نے لوگوں کے ذہنوں میں اتنی بے چینی پیدا کر رکھی ہے کہ وہ رات کو اُٹھ اُٹھ کر ٹی وی آن کرتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ حالات سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گھریلو خواتین اور بچے ملک کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی معاملات میں دلچسپی لیتے نظر آ رہے ہیں ۔خواتین، سبزیوں کے بھاؤ معلوم کرنے کی بجائے اسلام آباد کے دھرنوں کی صورت حال کے بارے میں فکرمند نظر آرہی ہیں۔ دفتروں میں کام کاج کی بجائے دھرنوں کی سیاست پر بحث مباحثے جاری ہیں ۔کاروباری لوگوں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے ۔ہر لمحہ ان کے لئے کاروباری مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ خاص طور پر جب دھرنے میں موجود لیڈران کرام ڈیڈ لائین دیتے ہیں تو پوری قوم خوف زدہ ہو جاتی ہے ،پھر جب ٹی وی چینل ڈیڈ لائن کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ خبردار کرتے ہیں تو محب وطن پاکستانیوں کی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے، اس طرح قوم انجانے خوف میں مبتلا نظر آ رہی ہے ۔عدالتوں میں سیاسی کیس بھی لوگوں کی نفسیات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

عدالت ابھی ایک فیصلہ سناتی ہے تو اگلے لمحے دوسری عدالت کوئی اور فیصلہ سنادیتی ہے ۔اس طرح قانونی موشگافیاں بھی غیریقینی صورت حال کا سبب بنتی جا رہی ہیں۔ لوگ ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے خیر خیریت کی بجائے دھرنوں کی صورت حال کا پوچھتے ہیں ۔عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا بسیرا اگرچہ پارلیمنٹ کے سامنے ہے، لیکن اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار احتجاج نے سیاسی اور معاشرتی انداز بدل کر رکھ دےئے ہیں ۔حکومتی معاملات اگرچہ ٹھپ نظر آرہے ہیں، مگر اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسران بہت خوش دکھائی درہے ہیں ۔پچھلے دنوں جی او آر میں رہائش پذیر ایک اعلیٰ بیورو کریٹ گھر میں خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے ۔ان کے چہرے اور جسمانی خدو خال میں چھلکتی خوشی دیکھ کر خاتون خانہ نے پوچھا کہ ’’میرے جیتے جی آپ کی زندگی میں یہ خوشی کے منظر کہاں سے آ گئے ‘‘؟

اعلیٰ سرکاری افسر اپنی خوشی نہ چھپاسکے اور بولے، بس دھرنوں کی سیاست نے ہمارے تفکرات دور کر دےئے ہیں۔خادم اعلیٰ ملکی سیاسی حالات میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کی توجہ ہم پر نہیں،پچھلے کئی دنوں سے کوئی میٹنگ نہیں ،کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں، اپنی مرضی سے اٹھتے ہیں اور اپنی مرضی سے سوتے ہیں،جب جی چاہتا ہے دفتر جاتے ہیں ورنہ گھر پر ہی سوئے رہتے ہیں ۔ دوستوں سے ملکی سیاست پر گپیں ہانکتے ہیں اور مستقبل کی حکومت کے حوالے سے اپنی اپنی پلاننگ کرتے ہیں ۔ بس سمجھ لو کہ موجیں ہی موجیں ہیں۔ بیوی نے پوچھا اچھا یہ موجیں اپنی جگہ،ذرا یہ تو بتائیں کہ سیاسی صورت حال کس طرف جا رہی ہے ؟میاں صاحب نے جواب دیا کہ میرے سارے تجزئیے تو ناکام ہو چکے ہیں ، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا، ہر بندہ اپنے مفاد کے حوالے سے حالات کا تجزیہ کر رہا ہے، جس کا جس سے جتنا مفاد ہے، وہ اس کے حق میں اتنا ہی ہے۔ہاں مَیں نے ایک نجومی سے پوچھا ہے، اس نے بتایا ہے کہ میاں نواز شریف کے ستارے ان دِنوں گردش میں ہیں، جو آئندہ ایک ہفتے میں نحوست سے باہر آ جائیں گے ۔ کیا وہ ایک ہفتے تک حکومت چھوڑ دیں گے ؟بیوی نے معصومیت سے ایک اور سوال پوچھ لیا۔ موصوف بولے:مَیں نے بھی نجومی سے یہی سوال کیا تھا، لیکن اس نے جواب دیا کہ اس بات کامجھے بھی کوئی علم نہیں اور نہ ہی اس بارے میں مَیں کوئی پیشنگوئی کر سکتا ہوں، کیونکہ حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ مَیں نجومیوں والا کام ہی چھوڑ رہا ہوں، کیونکہ یہ کاروبار اب مختلف چینلوں پر بیٹھے ہوئے اینکروں اور دانشوروں نے شروع کر دیا ہے۔ *

مزید :

کالم -