’’آنگن میں دیوار‘‘

’’آنگن میں دیوار‘‘

  

حساس معاشرتی موضوع پر بنائے جانا والا سوپ

حسن عباس زیدی

شاہد عزیز ایک منجھے ہوئے اور انتہائی با صلاحیت ڈائریکٹر ہیں وہ اپنے ہر پراجیکٹ کو محنت اور لگن سے بناتے ہیں وہ ڈرامہ کے ایک ایک سین پر خصوصی محنت کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے زیادہ تر پراجیکٹس کو کامیابی ملی ہے۔شاہد عزیز کو اپنے کام پر مکمل دسترس حاصل ہے ان دنوں ان کا سوپ’’آنگن میں دیوار‘‘آن ائیر ہے اس سوپ کو سوچ سے زیادہ پذیرائی ملی ہے ’’آنگن میں دیوار ‘‘کی خاص بات کرداروں کے مناسبت سے فنکاروں کا انتخاب ہے اس ڈرامے میں تمام فنکاروں نے اس خوبصورتی سے اپنے اپنے کردار نبھائے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے ۔اس ڈرامے میں جن فنکاروں نے نمایاں کردار ادا کئے ہیں ان میں شامل خان،فرحانہ مقصود،ارجمند رحیم،نسرین قریشی،راحیلہ آغا،ظفر عباس،فردوس جمال،زاہد قریشی،عالیہ شہانی ،امینہ امجد،اجمل دیوان ،منیر نادر،صائمہ سلیم،فجر علی،وحید بٹ ،ماہی خان اور جواد بٹ شامل ہیں۔’’آنگن میں دیوار‘‘کو ڈاکٹر عطاء اللہ عالی نے تحریر کیا ہے ۔اس میگا پراجیکٹ کے پروڈیوسر عامر راؤ ،ڈی اوپی شباہت قمر اور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر طاہر ملک ہیں ۔دوران ریکارڈنگ فنکاروں کو سجانے سنوارنے کی ذمہ داری فلم ااور ٹی وی کے نامور میک اپ آرٹسٹ شاہد چٹا کو سونپی گئی ہے۔’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر شاہد عزیز نے بتایا پروڈیوسر عامر راؤ نے اس پراجیکٹ کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے مجھے ہر ممکن سہولت فراہم کی ہے جس باعث میں ایک ہٹ سوپ بنا سکا ہوں ۔عامر راؤ ایک پروفیشنل پروڈیوسر ہیں ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ڈائریکٹر کے کام میں جا مداخلت نہیں کرتے میں تمام فنکاروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دوران ریکارڈنگ میرے ساتھ بھرپور اور مکمل تعاون کیا ہے۔تمام فنکاروں نے اپنے کام سے انصاف کیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں شاہد عزیز نے بتایا کہ میں مستقبل میں بھی اس ٹیم کے ساتھ کام کرنا پسند کروں گا۔شامل خان،فرحانہ مقصود،ارجمند رحیم،نسرین قریشی،راحیلہ آغا،ظفر عباس،فردوس جمال اورزاہد قریشی اپنے اپنے فنّی کیرئیر کے عروج پر نظر آرہے ہیں ۔پروڈیوسر عامر راؤ نے کہا کہ ’’آنگن میں دیوار‘‘معاشرے کے حساس موضوع کا احاطہ کیا گیامیرے سوپ میں مقصدیت اور پیغام دونوں ہیں اس ڈرامے میں سینئر فنکاروں کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ کو بھی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا گیا ۔اس ڈرامے میں کام کرنے والی نئی فنکارہ امینہ امجد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہد عزیز ایک باکمال ڈائریکٹر ہیں وہ کسی بھی فنکار سے کام لینے کا فن بخوبی جانتے ہیں میری صلاحیتوں کو نکھارنے میں ان کا ناقابل فراموش کردار ہے میں مستقبل میں بھی ان کے ڈراموں میں اداکاری کرنا چاہوں گی۔ پاکستان کے کسی بھی شعبے میں باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ پڑھے لکھے اور باصلاحیت لوگوں کو پرموٹ کیاجائے ۔امینہ امجدنے کہا کہ شوبز میں نئے ٹیلنٹ نے خاص طور پر ٹی وی انڈ سٹری کی ترقی و بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے ، اب پڑھے لکھے اوراچھے گھرانوں سے لڑکیاں اور لڑکے شوبز کی طرف مائل ہورہے ہیں جوبڑی خوش آئند بات ہے ۔ میری کامیابی میں میرے سینئرز اور والدین کی دعائیں شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ میں تعداد کی بجائے معیار کو ترجیح دیتی ہوں جو میری کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ہمارے ملک میں اس وقت سیاست کا بازار گرم ہے میری ذاتی رائے میں تمام سیاستدانوں کو اپنی اپنی ذات سے بالا تر ہوکے ملکی کے مفاد کے بارے میں سوچنا چاہیے ا گر ایسا نا ہوا تو دشمن اپنے عزائم میں کامیاب ہوجائے گا جس کا نقصان آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا میں اپنی حد تک سیاست کو ناپسند کرتی ہوں سیاست کسی بھی شعبہ میں ہو غلط ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی میری بات سے کوئی اتفاق کرے ۔میں اس بات پر فخر کرتی ہوں کہ میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو باتوں کی بجائے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔’’آنگن میں دیوار‘‘جیسے ڈرامے کبھی کبھی بنتے ہیں میں اس ڈرامے کا حصّہ ہوں اس بات پر مجھے فخر ہے ۔شوبز کو لابی ازم نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس ملک میں سفارش کے بغیر کام ملنا ممکن نہیں ہے۔ عالیہ شہانی نے کہا کہ ’’آنگن میں دیوار‘‘میں وہ سب کچھ شامل کیا گیا ہے جس کو ہمارے ناظرین دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں شوبز کو بہت برا شعبہ مانا جاتا ہے جبکہ میرا کہنا ہے دنیا کا کوئی بھی شعبہ برا نہیں ہوتا انسان خود برا ہوتا ہے میں کافی عرصے سے گلیمر ورلڈ سے وابستہ ہوں میں نے آج تک یہاں پر کوئی برائی نہیں دیکھی۔یہ دنیا کا واحد شعبہ ہے جس میں عزت،دولت اور شہرت تینوں ہیں۔ماڈلنگ کا مجھے جنون کی حد تک شوق ہے ۔میرا یہ ماننا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ انسان دنیا کے کسی شعبہ میں مار نہیں کھاتا۔انہوں نے کہا ہے کہ ادب کرنے والا انسان ہر میدان میں کامیاب و کامران ہوتا ہے اور ہمارا دین بھی اسی طرح کی تعلیمات دیتا ہے ، نہ صرف اپنے سینئرز بلکہ جونیئرز کا بھی دل سے احترام کرتی ہوں۔ پاکستانی معاشرے میں لوگ چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں مگر میں بلا تفریق سب کا دل سے احترام کرتی ہوں اور مجھے بھی اسکے بدلے میں پیار اور احترام سے ہی ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ اپنے کیرئیرمیں ایسا کردار ادا کرجاؤں جسے لوگ عالیہ شہانی کی نسبت سے مدتوں یاد رکھیں ۔ اپنے موجودہ مقام سے مطمئن ہوں اور عزت کے ساتھ اس مقام کو بر قرار رکھنے کے لئے ہر ممکن جدوجہد کروں گی۔میری بڑی خواہش ہے کہ اپنی آنکھوں سے نئے پاکستان کو بنتے ہوئے دیکھوں جس میں غربت کی ماری لاچار ماں کو اپنے بچوں کو چھت سے نہ پھینکنا پڑے اور نہ اپنے جگر کے ٹکروں کو نہر برد کرنا پڑے ۔ سیاستدان عوام کو انتخابات سے قبل سبز باغ تو دکھاتے ہیں لیکن بد قسمتی سے حکومت میں آنے کے بعد انکی اپنی زندگی سر سبز ہو جاتی ہے لیکن غریبوں کی حالت زار پہلے سے بھی ابتر ہو جاتی ہے ۔ میرے نئے پاکستان کا یہ خواب ہے کہ نا بیناؤں پر لاٹھی چارج جیسا سنگین ظلم نہ کیا جائے نہ احتجاج کرنے والی قوم کی بیٹیوں کے دوپٹے کھینچے جائیں ۔ ہمارے حکمران بیرون ممالک دورے تو کرتے ہیں لیکن وہاں کے حکمرانوں کے عوام سے بھلائی کے لئے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کو اپنے حقوق کے لئے پر امن جدوجہد کرنا پڑے گی وگرنہ یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -