ماں بہن کی گالی دینا ہمارے معاشرے کا کلچر کیوں ؟؟؟

 ماں بہن کی گالی دینا ہمارے معاشرے کا کلچر کیوں ؟؟؟
 ماں بہن کی گالی دینا ہمارے معاشرے کا کلچر کیوں ؟؟؟

  

گذشتہ تین سال سے میں لوگوں کو جرم اور جرم کرنے والوں کی داستان سنا رہی ہوں ،،، تھانوں کا ماحول کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ پولیس کو دیکھتے ہی انکی زبان سے ہر کوئی واقف ہوتا ہے، یہ ایک کلچر بن چکا ہے ۔ ماں بہن کی گالی دینا عام بات ہے ۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ پولیس کی اس نازیبا زبان پر تو تنقید بنتی ہے مگر اب میں نے تو ہر شخص کو یہی الفاظ غصے کے اظہار کے لئے استعمال کرتے سنا ہے حتی کہ شوہر بیوی کو ،دوست دوست کو بڑے آرام سے بدفعلی کا کہہ دیتے ہیں ۔

کل میں نے گلی میں ایک 10 سالہ بچے کو کرکٹ سے منع کرنے پر ضعیف شخص کو کہتے سنا " تیری پین نو۔۔۔۔۔۔ماراں "میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔۔۔ ذہن میں ہزار سوالوں نے جنم لیا ۔۔۔ میرے خیال میں غصے میں گالی منہ سے نکل جانا شدید غصے کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر اس کے لئے آپ کسی کو خبیث کہہ لیں ،لعنتی کہہ لیں یا ہاں بے غیرت کہیں تو سمجھ میں آتا ہے مگر انگریزی میں "فق" کہہ دینا کیا گالی ہوئی ؟۔

اب تو پنجابی میں اسکی بہن کے اعضاء سے بات شروع ہوتی ہے اور ماں کے ریپ پر ختم ہوتی ہے  لیکن اسکی منطق مجھے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ میرے خیال میں دو متضاد جنسوں کے جسموں کا آپسی تعلق اسی لئے ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ لطف دیتا ہے اور اسی لطف کے لیے کئی لوگ جان بھی داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں پھر غصے میں اس جنسی ملاپ کے چیر پھاڑ دینے کی دھمکیاں دینے سے کیا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے ؟ مجھے آج تک اس بات کا جواب نہیں ملا ۔۔۔۔

ایک بند کمرے میں محبت بھری کسی رات کا تو سب خواب بنتے ہیں اور اس تعلق کو مقدس سمجھتے بھی ہیں  لیکن اگلے ہی لمحے کسی کرایہ دار نے کرایہ وقت پر نہ دیا تو اسکی بہن سے زنا کا کہہ کر غصے کا اظہار کرتے ہیں ۔۔بھئی یہ کیا سائنس ہوئی ۔۔۔۔ ؟ کچھ روز قبل میں ایک کرائم سٹوری رپورٹ کر رہی تھی ۔۔ملزم کیمرے پر بات کرنے سے کترا رہا تھا ۔ میں نے انویسٹی گیشن انچارج جو کہ دیکھنے اور بات کرنے میں معتبر لگ رہا تھا اس سے کہا کہ ملزم تو بات نہیں کررہا ،بڑے اعتماد سے کہتاہے میڈم آپ ٹھہریں اسے بلائیں ۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا ایک تھپڑ رسید کرے گا تو یہ بولنے لگے گا مگر میں تو صدمے میں چلی گئی جب اس نے اسکو بلاتے ہی کہا کہ " بول ہن یا تیری پین پیش کراں سب نوں " ارے یہ کیا کیا ؟

اسکی بہن کا کیا لینا دینا نہ تم اسے جانتے ہو نہ اس نے تم سے کوئی بدتمیزی کی نہ تمہارا اس سے واسطہ پھر اس سے چھیڑخانی کا اس وقت کیا مقصد ؟ بڑے غصے میں میں باہر بڑبڑاتی ہوئی نکلی کہ یہ محکمہ ہے ہی گندا ۔۔۔ تو پٹرول پمپ پر پٹرول نہ دینے پر ایک عام آدمی پٹرول والے کو اسکی ماں کے ساتھ رات سونے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔میں سوچ میں پڑ گئی کہ پٹرول سے اس بیچارے کی ماں کا کیا تعلق جس کے جسم کی تم نے کھڑے کھڑے بے حرمتی کر دی۔

میں نے غور کرنا شروع کیا تو معاشرے میں ہر کلاس نے غصہ نکالنے کے لیے ریپ کرنے کو گالی بنا لیا ہے ۔۔۔ پیسوں کا تنازعہ ہو ،سالن نہ ملے، کوئی دوست دیر سے پہنچے حتی کہ سبزی والے سے بھی جھگڑا ہو تو اسکے گھر کی خواتین کے جسم کی تشریح شروع کر دیتے ہیں جنہیں وہ جانتے بھی نہیں ۔۔۔ اور دوسری طرف جنسی تعلق کو جسم کی ضرورت اور محبت کی انتہاء سمجھتے ہیں ۔ اس سوال کا جواب مجھے نہیں ملا آپ سوچئے گا اور اگر ذرا غور کریں گے تو خود سے گھن آنے لگے گی ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -