اورنج لائن ٹرین منصوبہ اور لاہور

اورنج لائن ٹرین منصوبہ اور لاہور
اورنج لائن ٹرین منصوبہ اور لاہور

  

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب 90ء کی دہائی میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے پہلی موٹروے کی تعمیر کا آغاز ہوا تو بڑے بڑے دانشوروں سمیت اس منصوبے پر زبردست تنقید کی گئی اور اسے پاکستان کے عوام کے لئے عیاشی قرار دیا گیا ، حکومتی سطح پر اس منصوبے کی تشہیر میں اسے دفاعی لائن کہا گیااس کے باوجود تنقید کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رہا اس وقت کی حکومت اپنی طبعی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی رخصت ہو گئی اور 1993ء کی حکومت نے اسے چھ رویہ سے کم کرکے تین رویہ کر دیا، لیکن اس منصوبے کو ختم کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ موٹروے کی تعمیر کو ایک لمبا عرصہ التوا میں رکھا گیا اور دوبارہ 1997ء میں اِسی حکومت نے، جس نے آغاز کیا تھا موٹروے کو مکمل کیا، جس کے بعد آج اس کے کئی اور سیکٹر مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ لاہور سے کراچی موٹروے کی تعمیر کا آغاز بھی ہو چکا ہے ۔ اس مختصر سی تمہید کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ آج دوبارہ لاہور اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ اسی طرح تنقید کی زد میں ہے اور بعض حلقے حقائق کاجائزہ لئے بغیر موشگافیوں میں مصروف ہیں جنہیں شائد علم ہی نہیں کہ پاکستان بھر میں موٹروے کی طرح یہ میٹرو ٹرین منصوبہ اپنی نوعیت آپ کا شاہکار ہو گا۔ قیام پاکستان کے وقت کراچی میں ٹرام چلتی تھی جسے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی دینے کی بجائے ختم کر دیا گیا۔ ہمارے ہمسائیہ ملک افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی ایسی ہی ٹرام شہریوں کوسفری سہولتیں مہیا کرتی تھیں، جبکہ دوسری طرف بھارت میں کلکتہ سمیت بڑے شہروں میں انڈر گراؤنڈ اور میٹرو ٹرین آج بھی رواں دواں ہے۔ ہمسایہ ممالک کی مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے منصوبے بڑے شہروں کی ضرورت ہی نہیں ان کی خوبصورتی اور حسن بھی ہوتے ہیں ۔

ہمارے ہاں کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ لاہورکی میٹرو بس سروس کے لئے بھی سب نے کلمہ خیر نہیں کہا تھا اور تنقید کرنے والوں کااہم نقطہ یہ تھا کہ یہ منصوبہ لاہور کی آبادی کے صرف ایک حصے کو سفری سہولتیں مہیا کرے گا۔ اب پنجاب حکومت کا لاہور اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ 27 کلومیٹرطویل ہو گا،جس میں کل 26 پسنجر سٹیشن ہوں گے اور مسافروں کی تعداد اڑھائی لاکھ سے شروع ہو کرآئندہ دس برسوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے، جبکہ اس پراجیکٹ کا 27 ٹرینوں سے آغاز کیا جا رہا ہے ۔ اِسی طرح ان علاقوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں میٹروبس کا گزر نہیں ہوتا۔ ان میں لاہورشہر کے علی ٹاؤن،ٹھوکرنیازبیگ، ملتان روڈ، سبزہ زار ، شاہ نور، صلاح الدین روڈ، بند روڈ،سمن آباد،گلشن راوی، چوبرجی، لیک روڈ،جی پی او، لکشمی چوک ، ریلوے سٹیشن، سلطان پورہ،انجینئرنگ یونیورسٹی ، باغبانپورہ، شالا مار باغ، پاکستان منٹ،محمود بوٹی ،سلامت پورہ، اسلام پارک اور ڈیرہ گوجراں کے علاقے شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور جیسے کاسموپولیٹن شہر کو مساوی ترقی دینے کی مخلصانہ کوشش ہے ،چونکہ شمالی لاہورکی طرف سے اکثر نظراندازہونے کی آواز اُٹھائی جاتی تھی اور پنجاب حکومت نے عملی طور پر میٹروٹرین کے منصوبے میں ان علاقوں کو شامل کر کے ثابت کیا ہے کہ ہر شہری ان کی نظر میں یکساں اہمیت کا حامل ہے ۔

جہاں تک اس منصوبے سے متاثر ہونے والے علاقوںیا عمارات کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتی سطح پر منصوبے کے آغاز سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہو گا ۔ کسی ایک چھوٹی سی سڑک کی تعمیر سے بھی بعض لوگ ضرور متاثر ہوتے ہیں، لیکن ایک بڑے اور مشترکہ فائدے کے لئے یقیناً تھوڑ ا بہت نقصان ضرور ہوتا ہے اوراس کا ازالہ کرنے کے لئے حکومتی ادارے موجود ہیں،جو بہرحال اپنا کردار ادا کریں گے ۔اس منصوبے کے فوائد میں صرف سفری سہولتیں ہی نہیں، بلکہ اس میگا پراجیکٹ سے جڑے ان منصوبوں کوبھی مدنظر رکھنا ہو گا جو بڑے پیمانے پر شہری ترقی ، مقامی سطح پرلوگوں کو روزگار کی فراہمی اور لاہور شہر کے حسن میں اضافے کا باعث ہوں گے، جہاں جہاں سے یہ ٹرین گزرے گی بذات خود ترقی اور جدت کا پیغام ثابت ہو گی۔اِسی طرح یہ منصوبہ کسی ایلیٹ کلاس سے نہیں،بلکہ عام آدمی کے لئے ہے، جس کے پاس یا تواپنی سواری ہے ہی نہیں اور دوسری شکل میں وہ اپنی بائیک یا گاڑی کھڑی کر کے ٹرین میں سفر کرے تو یہ ٹریفک کے دباؤ کوکم کرنے میں مدد دے گا۔ یہاں ضمنی طور پرذکر کرنامناسب ہو گا کہ ایک عرصہ شمالی لاہور سے گھوڑے تانگے کی سواری نے مشکلات پیدا کر رکھی تھیں، جنہیں تمام حکومتی ادارے مل کر ختم نہیں کرسکے اور بالاخر چنگ چی موٹرسائیکل رکشہ نے اسے تبدیل کیا، جبکہ آج شہری اسی چنگ چی سے بھی عاجز آچکے ہیں اور توقع کرنی چاہئے کہ لاہوراورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ آنے والے وقت میں چنگ چی کے عذاب کوکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو گا ۔

گزشتہ سال امریکہ کے تیسرے بڑے شہر شکاگو میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں اورنج لائن ٹرین ڈاؤن ٹاؤن سے مڈ وے ائیرپورٹ کے لئے مخصوص ہے، جس پر روزانہ ہزاروں مسافر اپنے بھاری سامان سمیت منزلوں تک پہنچتے ہیں ۔ لاہور شہر میں اتفاق سے اسی نام سے ٹرین سروس خوش آئند امر ہے، جس کی آنے والے دنوں میں دیگرشہروں میں تقلیدکی جائے گی اور ہونی بھی چاہئے۔ سرکارکے فنڈز عوام کی سہولت اور بہتری کے لئے ہوتے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ اس کار خیر میں پہل کون کرتا ہے اگر 90ء کی دہائی کی موٹروے کی طرح میٹروٹرین کے منصوبے کوپنجاب حکومت لاہور میں شروع کر رہی ہے تو اس کی کامیابی کے لئے دُعا اور دوا دونوں کرنا ہم کا فرض ہے نہ کہ حقائق کا جائزہ لئے بغیر اس پر تنقید ۔

مزید :

کالم -