پاکستان کے بنیادی مسائل

پاکستان کے بنیادی مسائل

  

پاکستان کے بڑے مسائل میں توانائی کا بدترین بحران، غیرملکی قرضوں کا بھاری بوجھ امن و امان کی بگڑی ہوئی صورتحال اور سیاسی عدم استحکام نمایاں ہیں۔ توانائی کے بحران کو جب تک حل نہ کیا گیا تب تک معاشی استحکام کا خواب تک نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ معاشی نشوونما کے لیے توانائی یعنی بجلی اور گیس انجن کا کام کرتے ہیں۔ بجلی اور گیس ہوگی تو صنعت کا پہیہ چلے گا، حکومت کو محاصل ملیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے، نئی صنعت سازی ہوگی جس کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ حاصل ہوگا اور روپیہ گردش میں آنے سے معاشرے میں خوشحالی آئے گی جس سے سٹریٹ کرائم بہت کم ہونگے لیکن بجلی اور گیس کے سنگین ترین بحران کی وجہ سے یہ تمام مسائل پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ بجلی کا سنگین ترین بحران طلب و رسد کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس کی بڑی وجوہات میں بجلی پیدا کرنے کے لیے روایتی ذرائع پر انحصار، بجلی کی وسیع پیمانے پر چوری اور بجلی کے بلوں کے بڑے نادہندگان جن میں سرکاری ادارے بھی شامل ہیں، سے وصولیاں نہ کرپانا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ 35سال سے کوئی بھی نیا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا حالانکہ بجلی کے بحران کا مستقل حل ہائیڈل ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھانا ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر انحصار فرنس آئل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے پر رکھا گیا ہے جس کا دوہرا نقصان ہورہا ہے۔ ایک تو ہر سال ہمارا آئل امپورٹ بل بڑھ جاتا ہے جس کے ساتھ ہی تجارتی خسارے میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کو بھی جواز بناکر اندرون ملک بجلی کی قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بجلی کے نرخ بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر حکومت نے بجلی کے بحران کے مستقل خاتمے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات مزید خراب ہونگے۔

بجلی کے بحران کا فوری حل تو یہ ہے کہ حکومت بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو ادائیگیاں کرے، بجلی کی چوری آہنی ہاتھوں سے روکے اور خود بھی بجلی کے نرخ بڑھانے سے گریز کرے کیونکہ بجلی کی قیمتوں میں آئے روز بھاری اضافے بجلی چوری کی بڑی وجہ ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں بجلی کی قیمت میں سالانہ اوسطاً پچاس فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ جوں جوں بجلی کی قیمت بڑھتی جائے گی توں توں بجلی کی چوری میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے صنعتیں بھی تباہ و برباد ہوجائیں گی۔ بجلی کے بحران کا مستقل حل ملک میں ڈیموں کی تعمیر اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہے۔ اس کے بغیر توانائی کے بحران کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ مزید یہ کہ حکومت بجلی اور گیس سمیت ملک میں دستیاب صوبوں میں یکساں تقسیم کرے کیونکہ بجلی اور گیس کی تقسیم کے سلسلے میں امتیازی سلوک کی وجہ سے پنجاب کی صنعتوں کو ماضی قریب میں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہزاروں صنعتی یونٹس بند جبکہ لاتعداد انڈسٹریل ورکرز بے روزگار ہوگئے۔ امتیازی سلوک کے خاتمے سے صوبائی ہم آہنگی کو بھی فروغ حاصل ہوگا ۔

 معاشی استحکام کے لیے غیرملکی قرضوں پر انحصار فی الفور ختم کرنا ہوگا کیونکہ ایک طرف تو مجموعی قومی آمدن کا ایک بڑا حصہ ان قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف ہوجاتا ہے اور دوسری طرف آئی ایم ایف اور دیگر قرض دہندگان کی انتہائی کڑی شرائط تسلیم کرنا پڑتی ہیں جیسا کہ بجلی کی قیمتوں میں بھاری اضافہ وغیرہ۔ مالی سال 2011-12ءکے لیے اعلان کردہ وفاقی بجٹ میں بھی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ اگر حکومت قرضے نہیں لے گی تو نہ صرف سود کی مد میں خرچ ہونے والی بھاری رقم بچے گی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کی بجلی ، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافے جیسی شرائط بھی تسلیم نہیں کرنی پڑیں گی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کو چالیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانوں اور ساٹھ ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کو اُن تمام ممالک سے اپنی مصنوعات کے لیے مارکیٹوں تک ڈیوٹی فری رسائی کا مطالبہ کرنا چاہیے جو پاکستانی تعاون کے بغیردہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو محاصل میں اضافے کیلئے ٹیکس وکلاءاور کاروباری برادری سے مشاورت کے بعد نئی پالیسیوں اور ایس آر او کا اجراءکرنا چاہیے کیونکہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں حکومت کو فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو سکتا ہے، ٹیکس ریٹرن میں تبدیلیاں بھی تاجروں کا گلاگھونٹ رہی ہیں جو پہلے ہی توانائی کے بحران، زیادہ پیداواری لاگت اور امن و امان کی بدترین صورتحال جیسے گھمبیر مسائل سے لڑ رہے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس نظام کو آسان اور سادہ رکھے جس سے نہ صرف اس کے محاصل بڑھیں گے بلکہ مزید لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں گے۔ ہمیں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے پر خاص توجہ دینی چاہیے کیونکہ ہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں کمی واقع ہورہی ہے جو اس وقت ساڑھے آٹھ سے 9 فیصد کے درمیان ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 30فیصد سے 40فیصد ، ترقی پذیر ممالک میں 15فیصد سے 25فیصد جبکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں پندرہ فیصد سے کم ہے۔خطے کے دیگر ممالک بھارت میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 15 فیصد، بنگلہ دیش میں 14.5فیصد اور سری لنکا میں 15.25فیصد ہے۔

حال ہی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ پوائنٹ کی کمی کے باوجودپاکستان میں مارک اپ کی شرح بھی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے نہ صرف معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی زیادہ ہے جس کی وجہ سے ملکی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مارک اپ ریٹ بلند سطح پر رکھ کر افراط زر پر قابو پانے کا غیر منطقی طریقہ اپنا رکھا ہے۔ مارک اپ کی شرح بلند سطح پر رکھنے سے مالی خسارے یا افراط زر پر قابو پانے میں کوئی مدد نہیں ملی بلکہ الٹا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو سستے قرضوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ نہ صرف اپنے کاروباروں کو مستحکم کرسکیں بلکہ معاشی نشونما میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر کی شرح کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ بینکنگ سپریڈ کم کرے نہ کہ مارک اپ کی شرح بلند سطح پر رکھ کر صنعتوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرے جنہیں پہلے ہی توانائی کے بدترین بحران اور امن و امان کی تباہ کن صورتحال جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔    ٭

مزید :

کالم -