مولانا مودودیؒ کی تصنیف ”خطبات“ کا100 واں ایڈیشن

مولانا مودودیؒ کی تصنیف ”خطبات“ کا100 واں ایڈیشن

معمول کے مطابق امسال بھی ہمیں امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب جناب ڈاکٹر سید وسیم اختر کی طرف سے ماہ رمضان کے حوالے سے دو کتابچوں کا تحفہ موصول ہوا ہے: ایک ”رمضان کے روزے، حکمتیں اور آداب“.... اور دوسرا: ”حکومت بُرائی یا بھلائی کا سرچشمہ“ (سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)۔ اول الذکر کتابچے میں وہ روایتی مسائل زیر بحث آئے ہیں جو ماہ رمضان کے دوران خطباءاور واعظین عام طور پر اپنی تقریروں میں بیان کرتے ہیں۔ دوسرا کتابچہ مولانا مودودی مرحوم کی کتاب ”خطبات“ سے ماخوذ مواد پر مبنی ہے۔زیر نظر کتابچے میں بتایا گیا ہے کہ حکومت اس طاقت کا نام ہے، جو اگر صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو اجتماعی سطح پر خیرو فلاح کو فروغ ملتا ہے۔ اگر خوف خدا سے عاری لوگوں کے پاس ہو تو خدا کی زمین فساد سے بھر جاتی ہے، لہٰذا اہل ایمان کو چاہئے کو وہ روزے سے اپنے نفوس کا تزکیہ بھی کریں اور اپنے گرد و پیش بسنے والوں کو بھی جہاد کے لئے تیار کریں۔ اصلاح اور تربیت کی تحریک سے بالآخر یہ نتیجہ نکلے گا کہ حکومت کی طاقت فسق و فجور کے ہاتھوں سے نکل کر صالحین کے پاس چلی جائے گی۔

مولانا مودودیؒ نے پہلے پہل یہ خطبات تقریباً پون صدی قبل دارالاسلام (پٹھان کوٹ، بھارت) میں جمعہ کے اجتماعات میں پیش کئے تھے۔ بعد میں انہیں ”خطبات“ کے عنوان سے کتابی صورت میں یکجا کر دیا۔ جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے والوں کی کثیر تعداد پہلے پہل خطبات ہی سے متاثر ہوئی تھی۔ خطبات کا اسلوب سادہ اور دل نشیں ہے۔ استدلال بھی کمال کا ہے۔ ہر ہر سطر میں خلوص اور درد مندی کے جذبات رچے ہوئے ہیں۔ مولانا نے پہلی بار عبادات (نماز، روزہ، حج، زکوٰة وغیرہ) کا مفہوم اس طرح سے بیان کیا کہ پڑھنے والے کو ذاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد میں شامل ہونے کی فکر لاحق ہوئی۔ حال ہی میں اسلامک پبلی کیشنز نے اسی ”خطبات“ کا 100 واں ایڈیشن شائع کیا ہے۔ بلاشبہ یہ حیران کن خبر ہے، لیکن اس کتاب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ماننا پڑتا ہے کہ یہ خبر مبنی بر صداقت ہے۔

 اسلامک پبلی کیشنز کے موجودہ ڈائریکٹر جناب عبدالحفیظ احمد کی طرف سے ہمیں 100 ویں ایڈیشن کی جو کاپی موصول ہوئی، وہ طباعت و اشاعت کے اونچے معیار کا مکمل نمونہ ہے۔ قیمت500 روپے متعین کی گئی ہے۔ یہ درست ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ضرور ایسا پیدا ہوگیا ہے جو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھاتا ہے، بڑھیا سے بڑھیا لباس پہنتا ہے اور اپنے بچوں کو شاندار سکولوں، کالجوں میں پڑھواتا ہے۔ اسلامک پبلی کیشنز نے غالباً اسی طبقے کے لئے ڈی لکس ایڈیشن تیار کیا ہے، ورنہ تو عام ایڈیشن سو ڈیڑھ سو روپے میں آج تک دستیاب ہی تھا۔ جن لوگوں کے لئے مہنگا ایڈیشن تیار کروا دیا گیا ہے، وہ اس سے ہدایت و رہنمائی لینے کی بجائے اسے ڈرائنگ روم کی زنیت بنائیں گے۔ اس نمائش پسند اور خرچیلے طبقے نے نہ کبھی پہلے اسلامی تحریک کا کھل کر ساتھ دیا تھا اور نہ اب اس سے کوئی توقع رکھنی چاہئے۔

قارئین سے معذرت کہ بات ذرا دور نکل گئی۔ ہم جناب ڈاکٹر وسیم اختر سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ اب تبلیغ و اشاعت کے یہ طریقے آو¿ٹ ڈیٹڈ ہوگئے ہیں۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کو آج کے انسانی مسائل کو سامنے رکھ کر اسلام کی تشریح و توضیح کرنی چاہئے۔ مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا مودودیؒ کا طرز استدلال اب اتنا موثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ عالمی سرمایہ دار طاقتوں نے بالکل ایک نئے انسان کو جنم دیا ہے۔ اس انسان کو یہ دیکھے بغیر کہ وہ چاروں طرف سے کس کس شکل کے دباو¿ میں گھرا ہوا ہے اور اس کی نفسیاتی صورت حال میں کتنی تبدیلی آچکی ہے۔ اسلام کی پرانے انداز کی تشریح سے بدلا نہیں جاسکتا۔ خاص طور سے پاکستان ایسے معاشروں کی صورت حال تو بہت ہی پیچیدہ ہے، کیونکہ یہاں ابھی تک پرانے جاگیرداری نظام نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ اس طبقے نے وقت کے ساتھ ساتھ نئے طبقوں سے گٹھ جوڑ مضبوط سے مضبوط تر کیا ہے۔

صنعت و تجارت سے جڑے ہوئے نئے طبقوں نے پیداواری عمل تیز بھی کیا ہے اور انتظامی مشینری کو کرپٹ بھی کر دیا ہے۔ دوسری طرف عالمی سرمایہ دار طاقتیں اس حد تک پاکستان اور اسلامی ممالک کے اجتماعی معاملات میں دخیل ہیں کہ ہمارا کوئی فیصلہ بھی ہمارا اپنا فیصلہ نہیں ہوتا۔حکومت کی وہ شکل ہی نہیں رہی جو آج سے نصف صدی پیشتر تھی۔ اب وزیر اعظم صدر اور کابینہ وغیرہ سب کٹھ پتلیاں ہیں۔ جنہیں عالمی طاقتیں پس پردہ رہ کر استعمال کرتی ہیں، چنانچہ ان حالات میں اس طرح کا استدلال جو خطبات میں اختیار کیا گیا ہے، اب کام نہیں دے سکتا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری ان گزارشات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، کیونکہ جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی جماعتیں عصری صورت حال کو سمجھنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ انہیں آئے روز احتجاجی مظاہرے کرنے اور ریلیاں نکالنے کے سوا اور کوئی کام نہیں رہ گیا۔ البتہ ہم نے اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق اپنا نقطہءنظر بیان کر دیا ہے۔ وما علینا الاالبلاغ۔ ٭

مزید : کالم