پاکستان کو سلام

پاکستان کو سلام
پاکستان کو سلام

  

سلام! سب سے پہلے شہیدانِ جمہوریت کو جنہوں نے حالیہ انتخابات میں اپنی جانیں قربان کیں،سلام اس قوم کو بھی، جس کے یہ فرزند تھے اور جس نے دہشت و وحشت کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر انتخابات میں حصہ لیا۔

حالیہ انتخابی مہم کے دوران جن 172 شہدا نے جمہوریت کو اپنے خون سے سینچا، ان میں نیشنل عوامی پارٹی کے راہنما ہارون بلور، بلوچستان عوامی پارٹی کے راہنما سراج رئیسانی اور تحریک انصاف کے راہنما اکرام اللہ گنڈا پور شامل تھے۔

ہارون بلور کے والد بشیر بلور نے جو اے این پی کے سینئر راہنما تھے، پانچ سال قبل انتخابی مہم کے دوران اپنی جان قربان کی تھی۔ اکرام اللہ گنڈا پور کے بھائی اسرار اللہ گنڈا پور بھی 2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے چند ماہ کے بعد عید کے موقع پر خودکش حملے میں شہید ہوگئے تھے، پاکستان میں جمہوریت کے لئے شہادتوں کا یہ سلسلہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خانؒ سے جاملتا ہے، جنہوں نے 16 اکتوبر1951ء کو قاتلانہ حملے میں اپنی جان قربان کی تھی۔

ان کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کا پھندا چوما اور پھر ان کی بیٹی پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم جمہوریت کے لئے شہادت کے رتبے پر سرفراز ہوئی۔

لیاقت علی خانؒ سے لے کر اب تک جمہوریت کے لئے جانیں دینے والوں کا شمار کیا جائے تو ان کی تعداد ہزاروں میں جانکلتی ہے، جن میں خاص و عام مرد اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

پاکستان کو یہ اعزاز تو حاصل ہے ہی کہ وہ جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب وہ بڑے فخر سے یہ دعویٰ بھی کرسکتا ہے کہ اس کے عوام نے جمہوریت کے لئے جو قربانیاں دی ہیں، ایسی قربانیاں شاید ہی کسی اور ملک یا قوم نے دی ہوں۔

پاکستانی قوم کے اس جمہوری مزاج نے بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے، بین الاقوامی شہرت کے حامل امریکی ٹی وی چینل سی این این نے 2013ء کے انتخابات میں بھی پاکستانی عوام کے جوش و خروش کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کی دھمکیوں اور دھماکوں کے باوجود جن میں 81افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، انتخابات میں ٹرن آؤٹ امریکی صدر کے انتخابات سے زیادہ تھا، اس بار اگرچہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2013ء کے مقابلے میں دگنی تھی، لیکن پھر بھی ٹرن آؤٹ زبردست رہا۔

اس تمہید کے ساتھ انتخابات کے انعقاد پر پوری قوم کو مبارک باد۔ حقیقت یہ ہے کہ سویلین حکومت کا آئین کے مطابق پانچ سال کی مدت پوری کرنے پر اقتدار عبوری حکومت کے سپرد کردینا اور عبوری حکومت کا مقررہ وقت پر انتخابات کروا دینا ہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔

ہماری تاریخ میں آمریت کے طویل اور تاریک پس منظر میں بہتر مستقبل کے لئے یہ بہت بڑی جست بھی ہے، جس کے ذریعے عمران خان کرسی اقتدار تک پہنچے۔ وزارت عظمیٰ کی مبارکباد اور انہیں بھی جنہوں نے عمران خان کو ووٹ دیئے۔

یہ جمہوریت کی ہی مہربانی ہے کہ عمران خان جو اپنے ملک و قوم کے لئے کچھ نہ کچھ کر گزرنے کا ارمان لئے دور آمریت میں اِدھر اُدھر بھٹکتے پھر رہے تھے۔

وزارت عظمیٰ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز انتہائی شاندار الفاظ میں کرتے ہوئے کہا کہ وہ بائیس سال قبل اپنے ملک کو ویسا ہی بنانے کے ارادے سے سیاست میں داخل ہوئے تھے، جیسا قائد اعظمؒ چاہتے تھے۔

اس سے بڑی اور کیا بات ہوسکتی ہے، خدا انہیں اپنے عزائم میں کامیاب کرے۔ انہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں، کیونکہ قائد اعظمؒ کے پاکستان کا چہرہ اس حد تک مسخ کیا جاچکا ہے کہ خود بقول عمران خان کے یہاں لوٹوں، نوٹوں اور بوٹوں کی مدد کے بغیر اقتدار کی کرسی تک پہنچنا ممکن نہیں رہا اور اگر کوئی پہنچ بھی جائے، اس کے لئے پانچ سال گزارنا اسی صورت میں ممکن ہے، جب وہ ان سے سمجھوتہ کئے رکھے۔ لاشعور میں پنہاں شاید اسی احساس کے تحت کہ ان حالات میں وزارت عظمیٰ پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ کانٹوں کا بستر ہے، لیکن وہ جہاں بھی رہیں گے۔

وزارت عظمیٰ کا بوریا بستر تو ان کے ساتھ ہی جائے گا اور ضمیر کا وہ بوجھ بھی جس کا اظہار یہاں امریکہ میں مقبول عام ایک ٹویٹ میں عبدالباسط نے کیا ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا ہے، ’’عمران خان تم سے اللہ پوچھے گا(اور مجھ سے بھی) کہ تم نے مجھ سے عامر لیاقت کو ووٹ ڈلوایا۔ یہاں عبدالباسط جیسے عمران خان کے حامی اس بات پر بہت خوش تھے کہ عامر لیاقت ہار گیا، حامیوں میں بڑی تعداد نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تھی، جنہوں نے عمران خان کی کامیابی پر بے حد خوشی کا اظہار کیا۔

کیلیفورنیا میں مشہور زمانہ سلیکون ویلی میں مقیم پاکستانیوں نے ’’مرچی‘‘ نامی ایک ریسٹورانٹ کے سامنے جمع ہو کر جشن منایا، جن کے اندر لاہور کے دلی دروازے کی بہت بڑی تصویر آویزاں ہے۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ اکثر لوگ پاکستان کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، ان میں سے کچھ لڑکے لڑکیوں کا یہ کہنا تھا کہ اب وہ کینیڈا کے خوبرو وزیر اعظم جسٹین ٹروڈو کے مقابلے میں فخر سے اپنے وزیر اعظم کو پیش کرسکیں گے۔

یہ اور بات ہے کہ ٹروڈو کی عمر چھیالیس سال ہے، اس کی تیس رکنی کابینہ میں چار سکھوں سمیت پندرہ نوجوان ہیں۔ویسے ٹروڈو کو بھی ایک الزام کا سامنا ہے۔ اٹھارہ سال قبل ایک خاتون صحافی سے چھیڑ چھاڑ کا!

مزید :

رائے -کالم -