شادہ شدہ خاتون سے دو افراد کی زیادتی، مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزمان آزاد

جرم و انصاف

گڑھ مہاراجہ (ویب ڈیسک) شادی شدہ لڑکی سے دو افراد کی زیادتی، مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی، پولیس کا صلح کیلئے دباﺅ، متاثرہ لڑکی کا وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق گڑھ مہاراجہ کے نواحی علاقہ موضع کنڈل کھوکھراں تحصیل احمد پور سیال ضلع جھنگ کی رہائشی لڑکی مسمات ام لیلیٰ اور اس کے خاوند ناصر علی قوم سیال نے بتایا کہ چند ماہ قبل وہ اپنے خاوند سے ناراض ہوکر اپنے والدین کے پاس چلی گئی تھی اس کے والدین غریب تھے اس لئے میں نے اپنا پیٹ پالنے کیلئے ڈاکٹر شہزاد انور کے گھر کام کاج شروع کردیا۔ ایک رات اچانک ڈاکٹر شہزاد انور اور اس کے دوست محمد نعیم نے اسے گھر پر ہی بند روک لیا اور ایک کمرے میں بند کرکے زیادتی کر ڈالی، صبح کو موقع دیکھ کر میں فرار ہوگئی اور اپنے خاوند کے گھر پہنچ گئی اس کے بعد میں نے پولیس کو کارروائی کیلئے درخواست دی۔ میڈیکل رپورٹ ہونے کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا۔ ایک ماہ بعد خواتین کو ہراساں خرنے والے پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن میں درخواست گزاری تو میری ایف آئی آر درج ہوئی لیکن دو دن گزرنے کے باوجود پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کررہی ۔

بھائی بھابی کو بھگا کر لے گیا، بغیر طلاق نکاح پڑھوالیا ورثاءکو سنگین نتائج کی دھمکیاں

اس سلسلہ میں ایس ایچ او تھانہ اسرار احمد سہوگڑھ مہاراجہ، تفتیشی آفیسر نعیم علم الدین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت ملنے تک ہم گرفتاری عمل میں نہیں لاسکتے۔ متاثرہ لڑکی نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔