خنزیر کا گوشت حرام کیوں ہے؟سائنسسی تحقیق میں خوفناک وجہ سامنے آگئی

ڈیلی بائیٹس

لندن (نیوز ڈیسک) اسلام میں خنزیر کو ناپاک اور حرام قرار دیا گیا ہے مگر مغرب میں لوگ اس جانور کے گوشت کے نہایت شوقین ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے دین نے ہمیں اس جانور سے دور رہنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جدید سائنسی تحقیق میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ٹیپ ورم نامی کیڑے کی ایک خاص قسم سؤر سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور یہ کیڑا دماغ میں پہنچ کر اسے کھانا شروع کردیتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس کیڑے کو سﺅر کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس کا نام بھی Pork Tapeworm یعنی ”سؤر ٹیپ ورم“ رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیپ ورم کی متعدد اقسام میں سے ایک خصوصی طور پر ایسا ہے کہ جو انسانی دماغ پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر ہیلنا ہیلبی کہتی ہیں کہ پورک ٹیپ ورم خاص طور پر انسانی دماغ کو نشانہ بناتا ہے۔

ادھیڑ عمر جوڑے نے ایک دوسرے کو مار مار کر ہسپتال پہنچادیا، لیکن لڑائی کی وجہ کیا بنی؟ خبر پڑھ کر آپ کو ہنسی آجائے گی

اس کیڑے کی قسم Teenia Solium دو طرح سے انسانی جسم میں داخل ہوسکتی ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ سﺅر کا نیم گلا ہوا گوشت کھا لیا جائے۔ گوشت پوری طرح پکا نہ ہونے کی صورت میں کیڑے کے انڈے اس میں موجود رہتے ہیں اور آنتوں میں جاکر ان انڈوں سے کیڑے نکل آتے ہیں جو اعصابی نظام میں شامل ہوکر سیدھے دماغ تک جاتے ہیں۔ دوسری صورت اس کیڑے کے لاروا کی صورت میں سؤر کے فضلے میں پائی جاتی ہے۔ سؤروں کے قریب موجود لوگ فضلے سے براہ راست یا اس کے پانی میں شامل ہونے سے کیڑے کا شکار بن جاتے ہیں۔ جب یہ کیڑا جسم میں داخل ہوجاتا ہے تو Neurocysticercosis نامی بیماری جنم لیتی ہے جو شروع میں مرگی، اعضاءکا فالج اور بالآخر موت کا سبب بنتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس خوفناک بیماری کا تاحال کوئی مکمل علاج دستیاب نہیں ہے البتہ کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی چند ادویات کو اس بیماری پر قابو پانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق سؤر سے دور رہنا ہی اس دردناک مرض سے بچنے کا اصل طریقہ ہے۔