دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر49

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر49
دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر49

  

کیا اس پر حیران نہیں ہونا چاہئے کہ دولہا جس کی عمر چالیس سے اوپر ہوچکی تھی،اس نے اپنی لیموزین کو بھی دولہن کی طرح سجا رکھا تھا۔وہ توسڑک پر کھڑی انتظار میں رہے اور دولہامیاں کی بجائے کوئی اوراس میں بیٹھ کر دلہن کے گھر کو پدھارجائے ،یہ کہاں کا انصاف تھا۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ ساز ش ان لوگوں نے کیونکر پکائی تھی ۔میں کسی طور گھوڑی پر سوار نہیں ہونا چاہتا تھا ۔میں نے دلائل دئیے’’ کوئی بوڑھا دولہا بھی گھوڑی پر سوار ہوتا ہے کیا۔پھر آپ لوگوں نے مجھے کلا بھی پہنانا ہے۔ہاروں سے لادنا ہے ‘‘

’’ لالہ یہ فیصلہ ہوچکا تو ہوچکا ۔اب بس آپ گھوڑی پر ہی بیٹھو گے اور ایک پٹھان کی آن بان شان بھی اس سے قائم ہوتی ہے ‘‘ناصر خان سب سے زیادہ اچھل اچھل کر بول رہا تھا ۔

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ ارے یہ تو دیکھو سائرہ کے گھر جانے والی سڑک ڈھلوانی ہے۔گھوڑی پھسل جائے گی‘‘ میں نے انہیں حقیقت سے آگاہ کرنا چاہا۔ 

آپا بولی’’ جو تم نے کہا ہم نے آمنا صدقنا کہہ دیا۔ایک فرمائش ہے وہ بھی پوری کردو،دو منٹ کا تو راستہ ہے ‘‘ آپا کی حسرت اور امنگ کو میں قائم رکھنا چاہتا تھا ۔میں پریشان ہوگیا۔سر تھام لیا ۔کوئی آسان کام نہیں تھا ۔پانچ سو باراتیوں کے سنگ میں گھوڑی پر بیٹھ کر جاناتھا مجھے ۔ 

مجھے مجبور ہونا ہی پڑا،سر جھکانا ہی پڑا۔گھوڑی پر سوار ہوا تو اسکی لگام ایک جانب سے پرتھوی راج اور دوسری جانب سے ناصر خان نے تھام لی۔

گھوڑی چلی تو اچانک دیکھا کہ باراتیوں کا ایک ہجوم امڈ پڑا ہے۔میں نے کلے پر ہاتھ رکھا کر دیکھا ،یہ میرے پرستاروں اور ان دوستوں کا ہجوم تھا جنہیں میں نے مدعو نہیں کیا تھا لیکن وہ میرے باراتی بن گئے ۔اس قدر ہجوم ہوگیا کہ گھوڑی کیلئے قدم اٹھانا مشکل ہوگیا۔مجھے دھکے لگنے لگے ،کئی بار کلا گرتے گرتے بچا۔بڑی مشکل سے گھوڑی کو قابو میں کیا اور جم کر بیٹھا رہا۔وہ فاصلہ جو سائرہ کے گھر تک دومنٹ میں طے ہوتا تھا وہ ایک گھنٹہ سے زیادہ میں طے ہوا اور اس دوران میں گھوڑی کو قابو میں کئے جم کر زین پہ بیٹھا رہا۔میں بڑی تکلیف میں تھا لیکن یہ سائرہ سے ملنے کی تڑپ تھی جس نے مجھے زین پر بیٹھے رہنے پر مجبور کئے رکھا ۔

گھوڑی کو جب ڈھلوان پر اتارا تو وہ پھسل پھسل جانے لگی۔اس وقت باراتی گھوڑی کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ جونہی گھوڑی پھسلتی وہ اسکو قابو کرلیتے۔میرا تو خیال ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ گھوڑی پریشان تھی جسے ہجوم کے شور اور ہاتھوں نے بری طرح نروس کیا ہوا تھا۔ 

ایک گھنٹے کے بعد جب بارات سائرہ بانو کے بنگلہ کے پاس پہنچی تو اُدھر مزید ہجوم ہمارا منتظر تھا۔میری نظر اس ہجوم کے درمیان گھرے ہوئے پیارے دوست پروڈیوسر ناصر حسین پر پڑی جو ایک وین کی چھت پر کیمرہ لئے میری شادی کے مناظر ریکارڈ کررہا تھا۔یہ اسکی محبت تھی کہ اس نے اس ہجوم کی پرواہ نہ کی اور پھر جب ہجوم نے دھکا لگایا تو ان کا لگایا سارا سیٹ برباد ہوگیا۔لوگ کچلے گئے لیکن خدا کا شکر ہے کوئی زخمی نہیں ہوا۔

گھوڑی کو بنگلہ کے اندر لے جانے کا موقع ملا تو اس سے پہلے ہی بن بلائے باراتی دھکے دیکر اندر چلے گئے۔بڑی مشکل سے گھوڑی بنگلے میں داخل ہوئی۔ ہر کوئی خوشی سے شاد تھا ،مجھ سے ملنا اور سائرہ کی جھلک دیکھنا چاہتا تھا ۔کوئی ایسا نہیں تھا جس کوہماری شادی نے دیوانہ نہیں بنارکھا تھا البتہ ایک نوشاد صاحب تھے جو حیران ہوئے اور انہوں نے مجھ سے یہ سوال بھی کردیا تھا ’’ یوسف آپ نے یہ فیصلہ کیسے کرلیا کہ اپنے سے آدھی عمر کی لڑکی سے شادی کررہے ہیں‘‘ انہیں تشویش تھی ۔وہ مجھ سے محبت کرتے تھے اور میں ان کا احترام کرتا تھا ،میں نے انہیں مطمئن کردیا اور کہا کہ ایک دن آپ ہماری جوڑی پر رشک کریں گے ۔

نوشاد صاحب ہمارے گھر باندرہ بھی آتے تھے اور آغا جی ان سے مل کر بہت خوش ہوتے تھے ۔وہ میرے گھریلو ماحول کو سمجھتے تھے اسی وجہ سے ان کا خدشہ اپنے تئیں بجا تھا۔

وہ مری شادی میں شریک نہیں ہوسکے تھے ،اسے سب نے محسوس کیا لیکن میرے دوستوں نے اس قدر ہنگامہ پیدا کئے رکھا کہ یہ بارات یادگار بن گئی۔راج کپور نے تو ایک ایسی حرکت کردی کہ پوری بارات چونک کر رہ گئی۔اس نے کہہ رکھا تھا کہ یوسف کبھی شادی نہیں کرے گا،جس دن وہ دلہا بنے گا میں اسکی بارات میں گھٹنوں کے بل چل کر آوں گا ۔اسے اپنا وعدہ یاد تھا ۔جب وہ آیا تو اس نے گھٹنوں کے بل چلنا شروع کردیا ،میں تو سمجھ گیا کہ وہ کیوں ایسا کررہا ہے۔اس اثنا میں آپا سکینہ نے بالکونی سے اسکو دیکھ لیا تو انہوں نے وہیں سے اسکو ڈانٹا اور کہا کہ سیدھے ہوکر چلو۔۔۔راجکپور فوراً سیدھا ہوگیا اور میرے گلے لگ گیا۔وہ میرے بہت قریب تھا ،بھائیوں سے بھی زیادہ قریب کہ جس سے میں ہر بات کہہ سکتا تھا ۔

بارات جب سائرہ کے گھر پہنچ گئی اور سائرہ کو اسٹیج پر لایا گیا تو سب اسے دیکھ کر چونک اٹھے ۔اس نے دلہنوں والا روائتی زرق برق لباس نہیں پہنا ہوا تھا۔پہلے تومیں بھی حیران ہوا کہ ا سنے یہ کیا کردیا ۔لیکن اسکی والدہ پری چہرہ نسیم بانوجو ملبوسات اور میک اپ میں اتھارٹی رکھتی تھیں انہوں نے سائرہ کے لئے ایک ایسا سادہ مگر اسکی شخصیت کے مطابق انتہائی جاذب نظر پروقارلباس تیار کیا تھا جو سائرہ بانو کے حسن وجمال کو زیادہ نکھارے اور مہکائے ہوئے تھا،اسکے نقوش زیادہ اُبھر گئے۔اس نے سب کے دل موہ لئے، دلاویز مسکان اسکے لبوں پر تھی۔وہ بے حد مسرور تھے۔آج اسکے خوابوں کو حقیقت مل رہی تھی۔

(جاری ہے )

مزید : کتابیں /میں ہوں دلیپ کمار