دولت تعفن زدہ کیوں ہے ؟

دولت تعفن زدہ کیوں ہے ؟

  



پاکستان سے لے کر امریکہ تک اخبارات کی شہ سرخیاں اور ٹی وی کی بریکنگ نیوز چیخ رہی ہیں .... ”حکمران طبقے کا کمایا ہوا پیسہ تعفن زدہ ہو کر قوت ِ شامہ کو چیلنج کر رہا ہے“....چاہے یہ امریکہ کے صدارتی امیدوار میٹ رومنی کے خفیہ سوئس اکاﺅنٹس ہوں، صدر آصف علی زرداری ہوں، فوزیہ گیلانی کی ”ہیروڈز “ پر کوئی سرگرمی ہو، یا ان کے بیٹے موسیٰ گیلانی کا ایفی ڈرین کو دولت میں ڈھالنے کا فن ہو یا عمران خان کا ”Eminent Persons Group“ ہو ، جس کی بنیاد نیویارک کے ایک مشہور اداکار البریچ موتھ نے رکھی ، سے تعلق ہو، یا ایک مشہوریونیورسٹی لمز اپنے ایک ڈیپارٹمنٹ کا نام ٹیٹرا پاک کے ارب پتی سویڈیش باشندے اور ٹیٹرا پیک کے مالک ہانس راوزنگ کے نام پر رکھ رہی ہو۔

عمران خان نے دولت ، شہرت اور طاقت کی طرف رغبت 1999ءمیں محسوس کی ۔ اداکار موتھ بھی خبروں میں ہے، کیونکہ اس پر اپنی بیوی وایولا ، جو ایک امیر خاتون اور اس سے عمرمیں 44سال بڑی تھی، کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ ان کا واشنگٹن ڈی سی میں گھر شاید این پیٹرسن (این پیٹرسن پاکستانیوں کو یاد ہوں گی....اسلام آباد میں امریکہ کی سفیر رہ چکی ہیں )، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انٹونین سیلیا اور نائب صدر ڈک چینی کی رہائش گاہوںسے بھی بہتر ہو گا۔ موتھ نے یواین کے جنرل سیکرٹری مسٹر کوفی عنان کو قائل کر لیا کہ وہ ان کے قائم کردہ ”Eminent Persons Group“ سے مشاورت کریں۔ عمران خان کے علاوہ اس گروہ کے لئے موتھ نے امریکہ کے سابقہ سیکرٹری دفاع اور ورلڈ بینک کے صدر مسٹر رابرٹ میکن مارا کو شامل کیا۔ ارب پتی جارج سورس نے بڑی فیاضی سے اس گروہ کو عطیات دیئے۔ یہ تھا وہ مشہور گروہ ، مگر آج موتھ پر اپنی اکانوے سالہ بیوی کو قتل کرنے کا الزام ہے اور اس کی تمام شہرت خاک میں مل چکی ہے۔ یہ ہے کہانی نمبر ایک کا اختتام۔

اب ٹیٹرا پیک کی کہانی سنیں: اس پیکنگ میں دودھ کا ڈبہ پاکستان کے تقریباً ہر گھر میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی سید بابر علی کے تخیل اور ذہانت کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں ٹیٹرا پیک کا آغاز مسٹر ہانس راوزنگ کے تعاون سے 1982ءمیں ہوا۔ سات سال بعد لمز میں ”راوزنگ ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ سنٹر“ کا قیام عمل میں آیا ۔ اس کامقصد طلبہ کو بزنس کی تعلیم دینا تھا۔ ہانس راوزنگ کے بیٹے کریسٹن اور اس کی امریکی بیوی ایوا حال ہی میں خبروں کی زد میں آگئے، جب ایوا کی لاش کوڑا کرکٹ ڈالنے والے بڑے سے بیگ ، جس کو ٹیپ لگا کر بند کیا ہوا تھا، سے اس کے لندن کے لگژری ہوم سے برآمد ہوئی۔ وہ منشیات کی عادی تھی اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس جوڑے نے منشیات کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لئے لاکھوں ڈالر عطیہ کئے تھے۔ 2006ءمیں ایک خیراتی ڈنر کے موقع پر شہزادہ چارلس نے کہا تھا....”راوزنگ بہت انسان دوست ہے“۔ یہ درست ہے کہ کریسٹن کا ٹیٹرا پیک میںکوئی عمل دخل نہیںہے، مگر یہ دیکھنا بہت افسوس ناک ہے کہ ایک شخص ، جس نے ساٹھ سال پہلے اس عظیم الشان کمپنی کی بنیاد رکھی تھی، کا پوتا نشے کا شکار ہو کر اپنے چاربچوں کی کفالت کے حق سے اور اب بیوی سے محروم ہو چکا ہے۔

اب ذکر کریں گے ڈاکٹر رشید جمعہ کا۔یہ نام بہت معتبر ہے، کیونکہ ان کے والد صاحب بھی ان کی طرح برین کے سرجن تھے۔ یہ دونوں باپ اور بیٹا میڈیکل کے حلقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ اب ڈاکٹر رشید وزارت ِ صحت میں بہتری لا کر آصف علی زرداری کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ انہوںنے اپنا کام چھوڑ کر اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے عہدے پر خدمات سرانجام دینا شروع کر دیں۔ کیایہ دولت یا عہدے کی خواہش تھی کہ جب سابقہ وزیر ِ اعظم گیلانی صاحب نے ان کو کچھ غلط کام کرنے کے لئے کہا تو ڈاکٹر صاحب نے پھر بھی ملازمت سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی؟ اب موسیٰ گیلانی کا کہنا ہے کہ اصل ”مجرم “ رشید جمعہ ہی ہے، جو کہ گواہ بن گیا ہے۔

”نیویارک ٹائمز “ کے کالم نویس ڈیوڈ بروکس ان قانون شکن ”معززین“ کے بارے میں لکھتے ہیں.... ”یہ لوگ احمقانہ حرکتیںکرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی ادارے کے سربراہ تھے، کسی اعلیٰ مقام پر تھے اور اُن کے افعال یا فیصلوں پر بہت سے لوگوں کا دارومدار تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن کے سینے میں ضمیر نامی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ “اپنی کتاب ”Twilight of the Elites“ میں کرسٹوفر ہابز لکھتے ہیں .... ”امریکہ میں اشرافہ طبقے کے لوگ اچھی تعلیم، محنت، صلاحیتوں اور مواقع کی بنیاد پر آگے آتے ہیں، لیکن جب وہ کسی مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو اُن کے کردار آلودگی کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں“۔مقبول ِ عام انگریزی محاورہ ہے کہ ”جتنی طاقت ملتی جاتی ہے، انسان اتنا ہی بدعنوان ہوتا جاتا ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی صاحب ِ اختیار لوگ ہیں، یہ بات کم و بیش ان پر صادق آتی ہے۔

تاہم ڈیوڈ بروکس دلیل دیتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں....”مسئلہ یہ ہے کہ آج کل جو اصل اشراف ہیں وہ خود کو اشراف کہلانے سے گریز کرتے ہیں ۔ وہ اس کو ایک الزام سمجھتے ہیں“۔اس کا مطلب ہے کہ اصل عظمت کے حامل عام محنتی انسان ہیں، مگر وہ اپنی عظمت تسلیم ہی نہیںکرتے، یا ان کو اس کا احساس ہی نہیںہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ ( اور شاید مَیں بھی) بھی اشراف سے ہیں، مگر آپ اس بات کی تردید میںلگے رہتے ہیں۔ شاید ہم خود کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔ بروکس لکھتا ہے.... ”زیادہ ترلوگ سوچتے ہیںکہ وہ استعمار کے باغی ہیں۔ خود کو پارسا سمجھنے والے روایتی لوگ عام طور پر سب کو بُرا سمجھتے ہیں اور اس کا اظہار ہر ٹی وی پروگرام میںہوتا ہے، جہاں ہر کوئی اسٹبلشمنٹ کے خلاف بول کر اپنے باغیانہ نظریات کا پرچار کرنے میں مصروف ہوتا ہے“۔

کیا ہم پاکستانی اس رویے کے حامل نہیںہیں ؟ کیا ہم بہت بڑے منافق تو نہیں ؟ ہم اس نظام ، جو بدعنوانی پر مبنی ہے ، سے مفاد حاصل کرتے ہیں ۔ ہم ایسے لوگوں کے ساتھ روابط رکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، جنہوں نے مشکوک ذرائع سے مال کمایا ہوتا ہے اور پھر ہم اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس کو ادا نہ کرنا مہارت سمجھتے ہیں۔ کیا ہم دیگر لوگوںسے ناجائزمفاد حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں رہتے ہیں ؟غلط کام ہم خود کرتے ہیں اور الزام زرداری حکومت پر عائد کرتے ہیں۔ دوسروںکے مقابلے میںخود کو سونے جیسا خالص سمجھنے کی پالیسی کب بدلے گی ؟ ہم میںسے کتنے لوگ بدعنوان افرادسے لاتعلق ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں ؟اگر کوئی ایسا کرے تو وہ نہ صرف بے وقوف کہلائے گا، بلکہ معاشرہ بھی اس سے لا تعلق ہو جائے گا۔

مسٹر مٹ رومنی،جو کہ ریپبلکن کے صدارتی امیدوار ہیں، کے لئے اس بات کی وضاحت کرنا دشوار ہو رہا ہے کہ انہوںنے 250 ملین ڈالر کیسے جمع کر لئے؟ وہ امریکی عوام سے اپنی ٹیکس ریٹرن چھپارہے ہیں اور نہ ہی وہ یہ بتانے کے لئے تیار ہیں کہ انہوں نے سوئس بنکوں اور برمودا اور کیمن (Cayman) جیسے ٹیکس فری جزیروں میں کتنی دولت چھپائی ہوئی ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ رہے ہیںکہ ان کے پاس جو دولت ہے، وہ انہوں نے قانونی ذریعے سے کمائی ہے اور انہوں نے کسی کو کوئی بھی دھوکہ نہیںدیا ۔ آخر میں، یہ ووٹرز ہیں جنہوں نے حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ان کو ووٹ دیں گے یاایک مرتبہ پھر مسٹر باراک اوباما کو اگلے چار سال کے لئے منتخب کر لیںگے۔ باراک اوباما ٹیم کا کہنا ہے کہ مسٹر مٹ رومنی یا تو جھوٹ بول رہے ہیںیا مکاری سے کام لے رہے ہیں۔

پن ا سٹیٹ یونیورسٹی کے سیکس سکینڈل ، جس میں ایک اسسٹنٹ کوچ جیری سنڈسک کئی عشروںسے ملوث تھا، میں بھی پیسے نے ہی کام دکھایا ۔ اس کا باس جو پیٹرنو اور دیگر اعلیٰ عہدیداران اس معاملے سے کافی دیر سے باخبر تھے، مگر وہ اس لئے خاموش رہے، کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ اس سکینڈل کے منظر ِ عام پر آنے سے وہ اس بھاری رقم سے محروم ہو جائیںگے جو یونیورسٹی کی فٹ بال ٹیم کو ملتی ہے۔ آخری بات، جب تک دانشور ، صحافی، بزنس مین اور دیگر پیشہ ورحضرات اس بات کو تسلیم نہیں کریںگے کہ وہی اصل اشرافیہ ہیں، معاشرے سے دولت کا تعفن ختم نہیںہوگا۔  ٭

مزید : کالم