فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر485

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر485
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر485

  


’’ شاردا ‘‘ کار دار پروڈکشنز کی پہلی تخلیق تھی ، جس نے آئندہ کے لیے اے آر کار دار اور نذیر اجمیری کے روشن مستقبل کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا۔ ’’ شاردا‘‘ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک معاشرتی فلم تھی جس میں اصلاحی پہلونمایاں تھے۔ ہدایت کار کاردار نے اس کہانی کے لیے بہت موزوں اداکاروں کا انتخاب کیا تھا۔ جن کے فقرے ، مکالمے اور اداکاری کا انداز بعد میں آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے ۔ اس فلم کے ٹائٹل پر کہانی و مکالمہ نویس کے طور پر ایم نذیر کا نام لکھا ہوا تھا لیکن یہ نذیر اجمیری ہی تھے۔ نوشاد اس کے موسیقار تھے۔ وہ اس سے پہلے بھی بمبئی کی فلمی دنیا میں بڑے بڑے کارنامے سرانجام دے کر برصغیر کے ممتاز موسیقار تسلیم کیے جا چکے تھے۔ ’’شاردا‘‘ نے ان کی اس شہرت میں مزید اضافہ کر دیا۔ اس فلم کے گانے بہت مقبول ہوئے تھے۔ ڈی این مدھوک نے اس زمانے کے مطابق سیدھے سادے الفاظ میں گیت لکھے تھے جن کی دلکش طرزوں نے انہیں مزید دلفریب بنا دیا تھا۔ ہم اس زمانے میں بہت چھوٹے تھے مگر ’’ شاردا‘‘ فلم کے گانے گاتے پھرتے تھے۔ اس زمانے میں خدا جانے طرز سمیت یہ گانے لوگوں کی زبانوں پر کیسے چڑھ جاتے تھے جبکہ نہ تو ویڈیو اتنا عام ہوا تھا اور ریڈیو اور ٹیلی وژن کا تو دور دور تک نشان نہ تھا۔ اس کے باوجود ہٹ فلموں کے گانے لوگ سائیکلوں پر ، تانگوں ، ریڑھیوں اور پیدل چلتے ہوئے بلند آواز میں جب گاتے تھے تو سماں بندھ جاتا تھا اور یہ دلوں میں اتر جاتے تھے ۔ ان لوگوں سے سن سن کر دوسروں کو بھی یہ گانے یاد ہوجاتے تھے ۔ گویا یہ تمام کام سینہ بہ سینہ یا زبانی کلامی ہوتا تھا لیکن اس زمانے کی موسیقی کا تاثر دیکھئے کہ آج نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ گانے لوگوں کو یاد ہیں۔ خود ہمیں بھی بعض گانے طرزوں سمتی یاد ہیں مثلاً۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر484 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پنچھی جا 

پیچھے رہا ہے بچپن مرا

اس کو جا کرلا 

شاعری کے اعتبار سے آپ چاہے جو کہہ لیں مگر الفاظ کی سادگی اور تاثر کے اعتبار سے یہ مکالموں کے مانند ہے۔ ایک لڑکی پنچھی سے مخاطب ہو کر کہہ رہی ہے کہ جاؤ اور میرے کھوئے ہوئے بچپن کو ڈھونڈ کر لاؤ۔ 

گھر آئی بدریا گھر آؤ

کچھ کہہ جاؤ ، کچھ سن جاؤ

یہ بھی ایسا ہی سادہ اور پر تاثیر گیت ہے

ایک غزل جو ہمیں بہت بھائی تھی اور آج بھی یاد ہے وہ یہ تھی ۔

تم نہیں آتے تو نہیں آؤ

یاد سے کہہ دو وہ بھی نہ آئے

ہم یہ گانا گاتے پھرتے تھے مگر اس کا مطلب کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ پہلے یہ سمجھے کہ شاعر مخاطب سے کہہ رہا ہے کہ میرا یہ پیغام دینا نہ بھولنا کہ اگر تم خود نہیں آتے تو تمہارے یاد کیوں آتی ہے؟ بعد میں احساس ہوا کہ دراصل شاعر کہتا ہے کہ تم خود جا کر یاد سے کہہ دو کہ جب تم نہیں آتے تو تمہاری یاد بھی نہ آئے۔ 

اس فلم میں ’’ پنچھی جا ‘‘ والاگیت ثریا نے گایا تھا۔ باقی نغمات نرملا دیوی کے گائے ہوئے تھے۔ 

ایک اور گانایاد آرہا ہے۔

بیچ بھنور میں میری ناؤ

ات ات پارلگاؤ۔

بہترحال اپنی کہانی ، اداکاری اور موسیقی کی وجہ سے ’’ شاردا‘‘ ایک انتہائی مقبول اور یاد گار فلم بن گئی تھی۔ اس کی کہانی کیونکہ معاشرتی اور خواتین کو پسند آنے والی تھی اس لیے یار لوگوں نے بعد میں اس پہ خوب ہاتھ صاف کیے۔ بھارت اور پاکستان میں معمولی سی تبدیلیوں کے ساتھ یہ کہانی بار رہا بنائی گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر بار ہٹ ہوئی ۔ 

پاکستان میں فلم سازو ہدایت کار اشفاق ملک نے ’’ سلمیٰ‘‘ کے نام سے بہت سپرہٹ فلم بنائی تھی جس میں مرکزی کردار (شاید) بہار نے ادا کیا تھا۔ اشفاق ملک کاردار صاحب کے بھانجے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس رشتے سے ان کی فلمی پر اپنا حق سمجھتے ہوں مگر یہ نذیر اجمیری صاحب کے ساتھ نا انصافی تھی کہ ان کی ہٹ فلم کو کسی او رمصنف کے نام سے بنالیا جائے۔ نذیر صاحب اس بات سے بہت شاکی تھے۔ کچھ اور پنجاب اور اردو فلمیں بھی اسی کہانی کو نچوڑ کر بنائی گئی تھی۔ 

1957-59 میں جب لقمان صاحب کی فلم ’’فرشتہ‘‘ کی نمائش ہوئی تو ہمارا ان سے جھگڑا ہوچکا تھا اور ہم نے اختلافات کی بنا پر کہانی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی مگر بنیادی طور پر مشہور ناول ’’ کرائم اینڈ پنشمنٹ‘‘ کو ہم نے ہی فلم کے لیے اخذ کیا تھا۔ لقمان صاحب نے اس کاکلائمکس بدل دیا ۔ علاؤالدین صاحب کے کردار کا کہانی میں اضافہ کردیا اور بھی کئی تبدیلیاں کیں مگر بنیادی ڈھانچا اور بہت سے سین ہمارے لکھے ہوئے بھی تھے۔ ہم تو قطع تعلق کر چکے تھے مگر عطاء اللہ شاہ ہاشمی مرحوم نے ہمیں ایسا جوش دلایا کہ ہم نے مطالبہ کر دیا کہ فلم پر مصنف کی حیثیت سے ہمارا نام دیا جائے۔ لقمان صاحب نے صاف انکار کردیا۔ ہم نے پروڈیوسرز ایسوسی ایشن میں مقدمہ دائر کر دیا جس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو امگر لقمان صاحب اپنی ضد سے باز نہ آئے۔ ہمیں بھی ضد چڑھ گئی تھی۔ ہم نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ 

یہ طول کہاں تک پہنچا، ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ یہ مقدمہ بالآخر ہم جیت گئے تھے۔ اس واقعے کا حوالہ یوں آیا کہ ان دنوں ہم عدالتوں ہی میں زیادہ وقت گزارتے تھے اور ہمیں مقدموں میں مزہ آنے لگا تھا۔ 

وہاں ایک دن نذیر اجمیری صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ وہ ایک درخت کی چھاؤں میں سیمنٹ کی بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے پاس جاکر سلام عرض کیا۔ علیک سلیک کے بعد انہوں ے پوچھا ’’ حیریت تو ہے ۔ عدالت سے کیسے آئے؟‘‘ 

ہم نے مختصراً قصہ سنا دیا ور کہا کہ ہم لقمان صاحب کی فلم کی نمائش کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

وہ اپنے مخصوص مشفقانہ انداز میں مسکرائے اور بولے ’’ میاں کیوں اپنا وقت اور پیسہ برباد کرتے ہو۔ ہندوستان اور پاکستان کی فلمی تاریخ میں لکھنے والوں کے ساتھ ایسی زیادیتاں ہوتی آئی ہیں مگ آج تک کسی رائٹر کو حکم امتناعی نہ مل سکا۔‘‘ 

ہم کہا ’’ اللہ مالک ہے۔ کوشش تو کرنی چاہیے۔ ‘‘ 

ان کی ایک دو کہانیاں بھی یار لوگوں نے توڑ مروڑ کر اپنے ناموں سے بنالی تھیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس روز بھی وہ کسی ایسے ہی مقدمے کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔ 

ہمیں حکم امتناعی حاصل ہوگیا۔ اس میں ہماری بھاگ دوڑ ، ہوشیاری اورضد کے علاوہ ہمارے نوجوان وکیل دوست سلطان کا بھی بڑاہاتھ تھا۔ افسوس کہ اس کے ایک ڈیڑھ سال بعد ہی وہ اسکوٹر کے حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ اللہ غریق رحمت کرے۔ 

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ’’ فرشتہ ‘‘ کا مقدمہ انڈو پاکستان کی فلمی تاریخ کا تاریخی اور انوکھا مقدمہ تھا۔ بعد میں لقمان صاحب سے ہمارے دوبارہ تجدید دوستی ہوگئی جو آخر تک قائم رہی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...