پانامہ لیکس اور عمران خان

پانامہ لیکس اور عمران خان
پانامہ لیکس اور عمران خان

  

پی ٹی آئی کے 126 روزہ دھرنے کے دوران کئی بار ایسے مقامات بھی آئے کہ قوم کو لگا اب واقعی ہی قوم کی روایتی سیاست اور سٹیس کو سیاست دانوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ اسی بنیاد پر ہم سب کرنٹ افیئرز کے پروگراموں میں تجزئیے کرتے پائے گئے کہ اب ظلم کا استحصالی نظام بہت جلد زمین بوس ہو جائے گا۔ برادرم فیصل رضا عابدی نے تو یہ دعویٰ کر دیا کہ ہماری روایتی اور سٹیٹس کو کی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی اکثریت کی شکلوں پر Expiry Date لکھی جا چکی ہے جب ان سے پوچھا جاتا کہ Expity Date کون سی ہے تو وہ سال دو سال کی ہی بات کرتے تھے۔

ہمارا بھی خیال تھا کہ عمران خان کے دھرنے کے نتیجہ میں جو عوام کو شعور ملا ہے اور ملک کی نوجوان نسل جس طرح موبلائز ہوئی ہے اس کا یقیناًکوئی نہ کوئی نتیجہ نکلے گا خاص کر عمران خان کی آواز پر جب ہمارے اس طبقے نے لبیک کہا جس کو ہم سفید پوش اور مڈل کلاس کہتے ہیں تو مجھ سمیت قوم کا مزید حوصلہ بڑھا کہ یہ وہ طبقہ ہے جو جو ایک طرح سے سسٹم سے کٹ چکا تھا۔ یہ لوگ الیکشن کے دن ووٹ ڈالنے کی بجائے گھروں میں چھٹی کے طور پر منایا کرتے تھے۔ سویا کرتے تھے اور اسی روز ووٹ کی پرچی سے عوام کی اور ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہو رہا ہوتا تھا تو یہ طبقہ پکنک منا رہا ہوتا تھا۔ اس عمل کو ہم نے اس سفید پوش طبقہ کی سسٹم سے ناراضگی سے تعبیر کر لیا۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی تھی پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ تھا۔ یہ مڈل کلاسئیے اپنے تمام وسائل اور بیوی بچوں کے ساتھ سخت گرمی میں جلسے ، جلوسوں سے لے کر پولنگ سٹیشنوں تک ہر جگہ موجود تھے۔ مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

2013ء کے انتخابات کے نتائج کو چرانے کے نام پر 126 دنوں تک طویل دھرنے نے چند لوگوں کو امیر اور چند کو غریب کر دیا۔ انفرادی طور پر پوری قوم کے ذہنوں میں عجیب و غریب فرسٹریشن بھر دی مگر مجموعی طور پر نہ جمہوریت مضبوط ہوئی نہ نظام تبدیل ہوا البتہ ایک تبدیلی ضرور آئی وہ عمران خان کی زندگی کی تبدیلی تھی جو بوجوہ نامکمل رہی۔ رودھو کر پورے دھرنے سے ریحام خاں برآمد ہوئی جس کرپٹ حکومت کو عمران خان گھر بھیجنے کیلئے نکلے تھے وہ پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دی۔ دھرنے کا فائدہ ہمیشہ کی طرح کسی تیسری طاقت کو ہو گیا اس کے بعد سے لے کر اب تک عمران خان کمپرومائز پر کمپرومائز کرتے جا رہے ہیں اور کسی معجزے کے انتظار میں ہیں جس کے نتیجے میں کوئی غیبی طاقت آئے جو نواز شریف کو کرسی سے اتارے اور عمران خان کو کرسی پر بٹھا دے لیکن عمران خان کو کون بتائے گا کہ اب معجزوں کا دور گزر چکا ہے اب تو سیاست میں بھی غلطیوں کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ویسے بھی نواز لیگ کی غلطیاں آپ کی خوبیاں کیسے بن سکتی ہیں۔

آج پوری قوم عمران خان سے سوال کر رہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں آپ کو حکومت ملی اس کی پرفارمنس کیا ہے۔ پنجاب میں بھی آپ کی پارٹی کی اپوزیشن ہے مگر آپ کی پارٹی کے اپوزیشن لیڈر کے ن لیگ کے ساتھ مک مکا کی خبریں عام ہیں، اگر ایسا نہیں ہے تو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے بطور اپوزیشن لیڈر اور بطور سربراہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب حکومت کے کون سے سکینڈلز ایکسپوز کئے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے اندر کئی گروپ اور پارٹیاں بن چکی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ایک چھوٹی سی نواز لیگ بھی موجود ہے جس کا سائز آہستہ آہستہ بڑا ہو رہا ہے اور عمران خان کی شخصیت کے گرد آج بھی دو تین مضبوط ترین حصار ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ ایک حصار ان کے رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کا ہے ۔ دوسرا دوستوں کا ہے جبکہ تیسرا انویسٹرز کا ہے۔ عمران خان کی ٹریجڈی یہ بنتی جا رہی ہے کہ وہ ان تینوں حصاروں سے نکل کر عام پارٹی کارکن تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں جبکہ عام کارکن اور نظریاتی پارٹی لیڈران تینوں حصاروں کو کراس کر کے اپنے قائد تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ عمران خان کا ذاتی خرچ سے لے کر گھریلو خرچ تک کے دوسروں پر انحصار کی پالیسی نے بھی ان کو اور ان کی پارٹی کو نقصان پہنچایا، اب ان کو جیب میں پرس رکھنے کی بھی عادت ڈال لینی چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ عمران خان ایسے ہیرو ہیں جن کو پرستش کی حد تک چاہا گیا ہے ہیرو چونکہ لاکھوں ، کروڑوں لوگوں کا آئیڈیل ہوتا ہے اس کی اپنے چاہنے والوں سے نیچرل ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ تمام دنیا اس کو چاہے مگر وہ کسی کو نہ چاہے تمام دنیا اس پر مرے مگر وہ کسی پر نہ مرے۔ ہیرو دراصل ایک شمع کی طرح ہوتا ہے جس پر پروانے آ کر دیوانہ وار گرتے ہیں مگر شمع کسی پروانے کے پاس خود چل کر نہیں جاتی۔ لیکن جب کوئی ہیرو سیاست کرتا ہے تو اس کو یکسر تبدیل ہونا پڑتا ہے۔

عمران خان کو ان چند سوالوں کے جوابات اپنی ذات اور اپنی شخصیت سے تلاش کرنے ہونگے اگر ان سوالوں کا جواب مل گیا تو عمران خان واقعی ایک جینوئن اپوزیشن بھی کر سکیں گے حکومت کو ٹف ٹائم بھی دیں گے۔ حکمرانوں کی کرپشن کی دولت کو بھی واپس لانے کے نعرے کو عملی جامہ پہنا سکیں گے اور حکومت میں آ کر کرپٹ حکمرانوں کو جیل میں بھی ڈال سکیں گے لیکن اگر ان سوالوں کے جوابات نہ ملے تو پھر وکی لیکس ہوں یا پانامہ لیکس ہوں، دھرنا ون یا دھرنا ٹو ہو یا پھر دہشت گردی اور سہولت کاروں کیخلاف آپریشن کی آڑ میں نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں ہوں نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ عمران خان نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے قوم کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے ایک بار پھر قوم کی واحد امید بننا ہے یا کمپرو مائز کی سیاست کر کے قوم کی کشتی کو منجدھار میں چھوڑ دینا ہے اگر عمران خان نے کمپرو مائز کی سیاست کو چھوڑ کر واپسی کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ ان کی ذاتی یا پارٹی کا نقصان نہیں ہو گا بلکہ یہ قومی المیہ اور قومی نقصان ہو گا ۔ عمران خان کے نظریاتی کارکن اور رہنما آج بھی ان کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوا تو آئندہ 2018ء کے انتخابات میں نواز شریف کا متبادل ایک بار پھر نواز شریف ہو گا اور آصف علی زرداری، میاں نواز شریف کے ہمرکاب ہونگے لہٰذا اگر عمران خان واقعی ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ، بلا امتیاز احتساب چاہتے ہیں تو ان کو سسٹم کی تبدیلی کی طرف جانا ہو گا ۔ الیکشن ریفارم کی جانب بڑھنا ہو گا اور یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک 20 کروڑ عوام میں سے کم از کم 10 کروڑ عوام ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں ورنہ تماشا چل رہا ہے یہ تماشا اسی طرح چلتا رہے گا۔ پانامہ کا ہنگامہ بھی جاری رہے گا اور نتیجہ بھی کچھ برآمد نہ ہو گا۔

اگر عمران خان واقعی پانامہ سے کوئی نتیجہ برآمد کرنا چاہتے ہیں تو ان کو پارٹی اور اپنے آپ کو انقلاب کیلئے سٹیٹس کو سے مکمل لڑائی کیلئے تیار کرنا ہو گا ورنہ موجودہ کرپٹ نظام اور اسٹیٹس کو اس کو کھا جائے گا۔ جمہوریت کا حسن دیکھئے پورے ملک میں پانامہ کیس کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں ہورہا۔ تمام ریاستی مشینری بادشاہ سلامت اور ان کی فیملی کے دفاع پر لگی ہوئی ہے، قوم خاموشی کے ساتھ تماشا دیکھ رہی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے قوم نے احتساب کی پوری ذمہ داری صرف اور صرف عمران خان پر ڈال دی ہے یا پھر انہوں نے خود سے اپنے ذمہ لے لی ہے۔ اکیلے عمران خان منظم ایلیٹ کلب کے ساتھ لڑ لڑ کر تھک جائیں گے مگر سسٹم شاید تبدیل نہ ہو سکے اور پانامہ کیس بھی فائلوں کی نذر ہو جائے۔۔۔

مزید :

کالم -