دلالوں کے انڈے

دلالوں کے انڈے
 دلالوں کے انڈے

  

انڈے تو آپ کھاتے ہی ہوں گے ۔چلیں آپ نہ سہی ،گھر میں بال بچے تو کھاتے ہی ہوں گے ۔اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو انڈوں کے ریٹ کا بھی علم ہوگا ،آپ کونہیں ہے تو خاتون خانہ جانتی ہوں گی کہ سردیوں میں انڈے بھی گرم ہوجاتے ہیں ا ور ان کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں ۔کتنی عجیب بات ہے کہ وہی مرغی جو گرمیوں میں انڈے دیتی ہے وہی سردیوں میں بھی انڈے دیتی ہے مگر نہ جانے کیا کرشمہ ہے کہ سردیوں میں اسکے انڈہ دینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے کہ وہی انڈے جو ساٹھ روپے درجن ہوتے ہیں سردیوں میں ایک سو ستر میں بکنے لگتے ہیں ۔حیرت ہے کہ کیا یہ مرغیاں پیٹرول پر چلتی ہیں یا انہیں سونے کا کشتہ کھلایا جانے لگتا ہے ؟

دراصل یہ انڈے مرغیاں نہیں دیتیں بلکہ بروکرز ،دلال ،مڈل مین ایسے لوگ دیتے ہیں ۔ سردیوں میں مارکیٹ میں جو انڈہ دستیاب ہوتا ہے اس میں سے زیادہ تر مال انہیں بروکرز کا ہوتا ہے جو چار چھ ماہ تک خود سینکتے ہیں اور اپنے کولڈ سٹوریج میں رکھ کر خود اس پر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ سردیوں میں ان انڈوں سے مال نکالا جاسکے۔یہ تو اچھا ہوا کہ اب پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ان دلالوں کے انڈے توڑ دینے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اب 2019ءمیں مرغیوں کے ہی تازہ انڈے بکا کریں گے اور بروکرز کے انڈے خلاص ہوجائیں گے ۔

کہانی کچھ یوں ہے ۔بروکر پولٹری انڈسٹری کا سرمایہ دار تو نہیں مگر سرمایہ داری کرکے پولٹری و ایگ انڈسٹری کھڑی کرنے والوں کو چونا لگاکر سرمایہ بنانے والا ایساطاقتور ترین طبقہ ہے جو اپنی مرضی سے انڈے کا ریٹ جاری کرواتا ہے اور انڈے کوذخیرہ کرکے اگلے سیزن میں بیچ کر اربوں روپے کماتا ہے ۔بروکرز ایگ فارمز سے کم قیمت پر انڈہ اٹھاتے ہیں اور چار ماہ تک کولڈ سٹوریج میں رکھنے کے بعد سردیوں میں فروخت کرتے ہیں ۔پنجاب فوڈاتھارٹی نے اعلان کردیا ہے کہ اب جو بھی انڈہ مارکیٹ کیا جائے گا ،اس پر باقاعدہ مہر لگی ہوگی ،ڈیٹ آف ایکسپائری ہوگی تاکہ بوسیدہ انڈے فروخت نہ کئے جاسکیں ۔کولڈ سٹوریج میں رکھے انڈے چار ماہ بعد غذائی اعتبار سے ناقص ہوجاتے ہیں ،ان کی زردی سخت ہوجاتی ہے ۔جو مضر صحت ہوتی ہے ۔بروکرز جب گرمیوں میں انڈوں کا ایک کریٹ (360 انڈے )بالفرض 1800روپے میں خریدتا ہے مگر سٹور کرکے سردیوں میں 2500/2800 روپے میں بیچتا ہے ۔اس موقع پر ایک عجیب کام ہوتا ہے ۔وہ تازہ انڈہ بھی خریدتا ہے جس کا فارم ریٹ 2700/3300 ہوتا ہے اور اس کو وہ 3100/3500 روپے تک فی کریٹ فروخت کرتاہے ،یوں وہ ڈبل منافع کماتا ہے ،ظاہر ہے گرمیوں میں خریدے کم قیمت انڈے کے پیچھے اسکو دوہرا فائدہ ہوگا ۔ مگر اب اسکا گودامی انڈہ مارکیٹ نہیں ہوسکے گا ۔پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہمارے ایک مہربان ڈاکٹر عمر مسعود کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ملک میں دیسی مرغی سے کاروبار کا جو تصوّر دیا ہے یہ پولٹری انڈسٹری کو بڑی کامیابی دے سکتا ہے مگر حکومت کو چاہئے کہ اس بارے ریگولیشنز بنائے تاکہ ،انڈے ،مرغی اور چوزے کے کاروبار کو مستحکم کرکے پروڈیوسرز کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے ،ابھی تو زیادہ فائدہ بروکر اٹھا رہاہے ۔بروکرز کی وجہ سے خراب انڈہ بھی مارکیٹ ہوتا ہے اور اسکا کوئی سسٹمائز ریٹ نہیں ہے ۔مڈل مین ٹائپ بروکرز پولٹری انٹسٹری کے لئے بڑا خطرہ ہیں جس کا علاج کئے بغیر اس صنعت کو فروغ نہیں دیا جاسکے گا ،بلکہ انڈے اور مرغی کے اس بڑے کاروبار سے حکومت کو ٹیکسز میں بھی گھاٹا پڑے گا ۔

مشاہدہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈے کے کاروبار میں بھی بہت سے گندے انڈے موجودہیں ۔ان میں سے زیادہ تر لوگ بروکر ،دلال،مڈل مین کہلاتے ہیں ۔ویسے بھی جس کے ساتھ دلال کا لفظ لگ جائے اسکی نیک نامی تو ویسے ہی مرجاتی ہے اور بندہ خوامخواہ اسکے کردرا پر شک کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔یہ شک بلاوجہ بھی نہیں ہوتا کیونکہ دلالی میں منہ کالا کرنے والے بہت سے لوگ خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے مال خرچ کئے بغیر دوسروں کے مال سے اپنا مال اینٹھ لیا ہے ۔اپنے وطن میں تو ایسے لگتا ہے یہاں دلالوں کا راج ہے ،انہیں نہ منہ کالا ہونے کا ڈر ہے نہ ان کے دامن پر کوئی دھبہ لگتا ہے ۔ان کی نطر میں کرپشن عین عبادت ہے اور دلالی زبردست باعزت کاروبارہے۔ یہاں کرپشن انہی دلالوں کی وجہ سے کاروبار بن گئی ہے ۔سیاست اور معیشت کی ماں ترقی کی منڈھیر پر بیٹھی اپنا سینہ کوٹ رہی ہے ۔کتنی ماوں اور بہنوں کے پیاروں کے ارمانوں کویہی دلال چاٹ گئے ،وہ ڈگریوں میں پکوڑے لپیٹ کر بیچتے رہ گئے ہیں اور دلالوں نے بینکوں میں گھوسٹ اکاونٹ بنا کر اپنا پیسہ چھپالیا ،گھروں میں نوٹوں کی بوریاں اور زیورات کی دیگیں دبا کر رکھ لیں ۔اب یہ سارا کالا دھن سامنے آرہا ہے تو قوم حیران و پریشان ہے ۔کہ اتنا پیسہ ہے پاکستان میں ۔حقیقتیں کھل رہی ہیں کہ اس ملک کی تقدیر کا پیسہ کن لوگوں نے کمایا اور کہاں کہاں چھپایا ۔یہ سرمایہ دار نہیں تھے جنہوں نے سائیکل پر سفر شروع کیا اور چند سالوں میں لینڈکروزرز کے مالک بن بیٹھے ،پنج مرلے سے پنج ہزاری بن کر ہاوسنگ سکیموں کے مالک بن گئے ۔ان میں سے زیادہ تر مڈل مین ،دلال،ایجنٹ ،بروکر ،فرنٹ مین ہی نکل رہے ہیں ۔نیب اور سپریم کورٹ کا جمال گھوٹا کام دکھا گیا ہے اور اب ایسوں پر نہ دوا کام کررہی ہے نہ انہیں فی الحال این آر او کا پیمپر نصیب ہورہا ہے ۔ان کی غلاظتوں کودھونے کے لئے ہسپتالوں کی بجائے جیلوں میں بڑے پیمانے پر بندوبست کیا جارہا ہے ۔

بات دلالوں سے شروع ہوئی ہے تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ دلال ہماری زندگیوں کا روگ ہیں ۔یہ بہلا پھسلا کر ترغیبات دیکر ،چمک دکھا کر لال بتی کے پیچھے لگانے والا وہ قماشیہ ہے جو اب اشرافیہ کہلاتا ہے ۔زراعت پر بھی یہی اشرافیہ قابض ہے جس نے چھوٹے اور بڑے کاشتکار اور زمیندار کو مزید چھوٹا کردیا ہے اور بڑے کاشتکار کو اپنا محتاج بنا رکھا ہے ۔پیداوار اُن کی ہوتی ہے اور یہ صاحب اونے پونے میں ان کی سبزیاں ،پھل ،دالیں اور دیگر اجناس ادھار پر لے جاتے ہیں ۔اصل منافع یہ کماتے ہیں اور زمیندار اور کاشتکار وہی روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتا ہے ۔ جب کبھی جوش میں آتا ہے تو حق لینے کے لئے سڑکوں پر نکلتا ہے تو ڈنڈے کھا کرپورا سیزن زخم سینکتا رہتا ہے ۔کسی بھی قسم کی صنعت کے لئے لائنسس اور پھر پیداوار اٹھانے میں بھی دلال آپ کی مدد کرتے ہیں ،کاشتکاروں سے سستے داموں زمینیں ہتھیاکر ہاوسنگ سوسائٹیاں بنوانے میں بھی دلال کا سُرمہ بکتا ہے اور اسکے سورمے گاوں پر گاوں کھا جاتے ہیں ۔جہاں کبھی کٹیاہوا کرتی تھی اب ان دلالوں کے طفیل عالی شان فارم ہاوسز کھڑے ہیں،گاوں کی زمین پر شہر کھڑے کرنے والے ان دلالوں میں سے بہت سے خود یا ان کے مرہون منت اسمبلیوں میں جابیٹھے ہیں،یہ طبقہ ملک کا امیر ترین اور طاقتور ترین طبقہ ہے جس نے کوئلوں کی دلالی کرکے عزت پائی ہے ۔معاف کیجئے گاہم لوگ اب دلال کو مہذب پیشہ سمجھتے ہوئے اسے بروکر تو کہ لیتے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مافیا اور استیصالی طبقہ یہی ہے ۔یہ معیشت کا ناگ ہے جس کو پٹاری میں بند کرنے اور اسکا زہر نکالنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کوصرف بین بجانے پر ہی اکتفا نہیں کرنا ہوگا ،سپیرے جیسے جرات و دانائی سے اسکو قابو کرنا ہوگا ۔ملک کو بنانا ہے تو ملک میں پیداوار لانے والے حقیقی سرمایہ دارکو دلالوں اور ان کے انڈوں سے بچانا ہوگا ۔

۔۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے 

مزید :

بلاگ -