گوادر میں پہلے سائنسی میلے کا شاندار انعقاد

گوادر میں پہلے سائنسی میلے کا شاندار انعقاد
گوادر میں پہلے سائنسی میلے کا شاندار انعقاد

  


بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بلوچستان اور گوادر کی تاریخ کے پہلے سائنسی میلے کاانعقاد گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول گوادر میں کیا گیا۔میلے کے افتتاح چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نورمحمد مسکانزئی، کمشنر مکران محمد ایاز مندوخیل، ڈپٹی کمانڈر 440بریگیڈر عبدالرشید، چیرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین جمالدینی اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اشرف حسین نے کیا۔

گوادر کے تاریخ کے پہلے سائنس میلے میں استاتذہ،ماہر تعلیم،سیاسی و سماجی شخصیت، سائنسی ماہرین سمیت ہزاروں طلبا و طالبات شریک رہے۔ سائنس میلے کا انعقاد ضلعی حکومت گوادر، ضلعی ایجوکیشن آفس گوادر،گوادر ایسوسی ایشن آف پروفیشنلز، حمید ہنڈا، بامسار اور پاکستان الائنس فار میتھ اور سائنس کے مشترکہ تعاون سے ممکن ہوئی۔ ضلع گوادر کے 28 سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے 3500 طلبا و طالبات شریک رہے۔ جہاں طلبا نے سائنسی آلات بناکر اس میلے میں نہ صرف مذید نکھار پیدا کیا بلکہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سائنسی ایجادات کے جوہر کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ جبکہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے انکے ہمراہ پاکستان سائنس کلب کی سرگرمیوں میں خود بھی حصہ لیا۔

گوادر کی تاریخ کے پہلے سائنسی میلے میں مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے ریاضی اور سائنس کے ذریعے اپنے شہریوں کو بہتر آمدن سے مضبوط بناکر اپنی معیشت کو ترقی دیا۔ ریاضی اور سائنس کی تعلیم نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے بلکہ ملکی سلامتی کا ایک اہم جز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ چونکہ تجارت کا مرکز بننے کے لئے تیار ہے جو کہ ملک کو صنعتی،تکنیکی اور اسٹریٹیجک حوالے سے آگے لے جانے میں اہم ہے۔ اسی پس منظر کے تحت گوادر کے طلبا کو ورلڈ کلاس ریاضی اور سائنس کی تعلیم فراہم کیا جارہا ہے۔تاکہ مسقبل قریب میں وہ معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں تبدیلی لانے میں معاون کردار ادا کریں۔

گوادر سائنسی میلے کے آرگنائزر کی جانب سے جاری کردہ اعدا و شمار کے مطابق اس وقت ضلع گوادر میں سرکاری سکول تربیت کے حوالے سے بحران کے شکار ہیں۔پانچویں جماعت کے 26فیصد طلبا اردو میں ایک کہانی تک نہیں لکھ سکتے ہیں،23 فیصد طلبا انگریزی کا ایک فقرہ تک نہیں پڑھ سکتے ہیں، جبکہ پانچویں جماعت کے 29فیصد طلبا کو 2 ہندسی تقسیم کرنا تک نہیں آتی ہے۔ پروگرام کے ایک آرگنائزر نصیر محمد نے بتایا کہ پروگرام کے انعقاد کا مقصد گوادر کے طلبا و طالبات کے رجحانات کو سائنسی علوم کی طرف راغب کرنا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ پروگرام کے انعقاد سے پہلے ہماری ٹیم نے ضلع گوادر کے تمام سکولوں کا دورہ کیا۔ طلبا و طالبات اور اساتذہ کے ساتھ ڈسکس کرکے اس میلے کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے تاریخ کے پہلے سائنسی میلے کی کامیاب انعقاد کے بعد اب گوادر کے طلبا و طالبات مین نہ صرف سائنسی تعلیم کے حوالے سے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ وہ اس قابل ہوجائیں گے کہ وہ نئے سائنسی ایجادات کرسکیں۔ 

سائنسی میلے میں طلبا کے جانب سے تیار کردہ 100 سے زائد سائنسی ماڈل نمائش کے لئے پیش کئے گئے ۔ جبکہ طلبا نے نہ صرف سائنس اور ٹٰیکنالوجی کے لیے اپنی لگن کا اظہار کیا بلکہ شرکاء کو جدید تصورات سے بھی متعارف کروایا۔

شمولیتی سیشنز اور براہ راست تجربات، جن میں سے کچھ میں روبوٹکس، ہائیڈرولکس، زلزلہ کی نشاندہی، ویب سے متلعق اپلیکیشنز اور ماحول سے متعلق پراجیکٹ شامل تھے۔ مقامی تعلیمی اداروں کے طلبا اور ملک بھر سے آئے ہوئے چار سائنسی تنظیموں ایجاد ٹٰیک، سٹیمر، پاکستان سائنس کلب اور سبق کی جانب سے پیش کیے گئے۔ دو طلبا کی جانب سے گوادر میں حالیہ مجوزہ ایکسپریس وے کے لیے ایسے ہائیڈرلک برج کا ماڈل تیار کیا جس کے نیچے سے فشنگ بوٹس بھی گزر سکتی ہیں۔ اسی طرح بہت سے طلبا نے مقامی ایشوز اور مسائل کو مدنظر رکھ کر اپنے اپنے ماڈل تیار کیے ان میں سے کچھ طلبا نے سائنس اساتذہ کی عدم دستیابی کے باعث اپنی مدد آپ کے تحت ماڈل تیار کیے تھے۔ 

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...