وہ بہت چالاک ہیں تم ان کے مونھ کا نوالا بن چکے ہو

 وہ بہت چالاک ہیں تم ان کے مونھ کا نوالا بن چکے ہو
 وہ بہت چالاک ہیں تم ان کے مونھ کا نوالا بن چکے ہو

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:33

 لیکن یہ سب باتیں اس واقعے کے سامنے کچھ اہمیت نہیں رکھتی تھیں جو چند دن بعد پیش آیا۔وہ بوڑھی دادی سے پوچھتے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ لوگ گھر کی قیمت ادا نہیں کر پاتے اور حساب کتاب سے اسے سمجھاتے کہ یہ بالکل آسان ہے۔ دادی انہیں بتاتی ” تم کہتے ہو مہینے کے 12 ڈالر۔۔۔ لیکن اس میں سود شامل نہیں ہے۔“

انھوں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور بہ یک وقت بولے ” سود !“ 

” اس رقم پر سود جو ابھی تمھارے ذمے ہے۔ “ اس نے وضاحت کی۔

” لیکن ہم نے تو سود نہیں دینا۔“ ان میں سے تین چار نے اکٹھے کہا۔ ” ہم نے تو صرف 12ڈالر فی مہینا دینے ہیں۔“

یہ سن کر دادی ہنسی ” تم بھی باقی سب جیسے ہو۔ وہ بہت چالاک ہیں اور تم ان کے مونھ کا نوالا بن چکے ہو۔“ دادی نے کہا ” وہ سودکے بغیر کبھی مکان نہیں بیچتے۔ اپنی دست آویز نکال کر دیکھ لو۔“

آنٹ الزبیٹا نے ڈوبتے دل کے ساتھ الماری کا تالا کھول کر وہ کا غذ نکالا جس نے انہیں پہلے ہی بہت پریشان کیا تھا۔دادی کو انگریزی پڑھنی آتی تھی۔ جتنی دیر اس نے کا غذ پڑھا سب سانس روکے بیٹھے رہے۔ ”ہاں “ دادی نے سر اٹھا کر کہا” یہ رہا، صاف تو لکھا ہے۔۔۔ماہانہ سود،سالانہ7 فی صد کے حساب سے۔“

سارے میں موت کا سنّا ٹا چھا گیا۔” اس کا کیا مطلب ہے ؟ “ بالآخر یورگس نے سرگوشی میں پوچھنے کی ہمت کی۔ 

” اس کا مطلب ہے کہ اگلے مہینے تمہیں12ڈالر کے ساتھ7 ڈالر سود کے بھی دینے پڑیں گے۔“ دادی نے جواب دیا۔

ایک بار پھر ہر طرف خاموشی چھا گئی۔یہ ایک ایسے ڈراؤنے خواب جیسا تھا جس میں آدمی کے پاؤں کے نیچے سے یک دم زمین نکل جائے اور وہ بے پیندے کے خلاءمیں ڈوبتا ہی، ڈوبتا ہی ڈوبتا چلا جائے۔ ان کی بدنصیبی نے انہیں تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا تھا۔ امیدوں کا سارا محل چکنا چور ہو چکا تھا۔ بڑھیا بنا رکے بولے چلی جا رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ چپ کر جائے۔ اس کی آواز کسی منحوس کوّے کی آواز کی طرح ان کے کانوں میں آ رہی تھی۔ یورگس کی مٹھیاں بھنچی تھیں اور اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے تھے۔ اونا کے گلے میں جیسے کچھ پھنس گیا تھاجو اس کا سانس روک رہا تھا۔اچانک آنٹ الز بیٹا کی چیخ نے خاموشی توڑ دی، ماریا بھی ہاتھ مل مل کر رونے لگی ” ہائے ہم برباد ہو گئے !“

ان کے رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ سرا سر بے ایمانی تھی۔۔۔ لیکن اس بات کا ایمان داری سے کیا لینا دینا تھا۔ یقینا ً انہیں اس شرط کا علم نہیں تھا یا شاید انھوں نے یہ جاننا چاہا ہی نہیں تھا۔ دست آویز میں لکھا تو ہوا تھا اور اب نہ سہی بعد میں سہی، انہیں پتا توچلنا ہی تھا۔

بڑی مشکل سے انھوں نے اپنی مہمان کو رخصت کیا اور ساری رات روتے دھوتے گزار دی۔ ان کی آہ و بُکا سن کر بچے بھی جاگ گئے اور یہ محسوس کر کے کہ کوئی پریشانی ہے، خود بھی رونے لگے۔ صبح اٹھ کر ان سب کو کام پر بھی جانا تھا کیوں کہ پیکنگ ہاؤسز ان کے دکھ میں کام تو بند نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن صبح ٹھیک 7بجے اونا اور اس کی سوتیلی ماں ایجنٹ کے دفتر کے دروازے پر کھڑی تھی۔ ایجنٹ نے تسلیم کیا کہ انہیں سود دینا پڑے گا۔آنٹ الزبیٹا نے غصے میں وہ لعن طعن کی کہ راہ چلتے لوگ رک کر کھڑکی سے اندر جھانکنے لگے۔ ایجنٹ کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس نے ان سے کہا کہ اسے بہت دکھ ہے کہ وہ یہ بات انہیں پہلے نہیں بتا سکا لیکن اس کا خیال تھا کہ انہیں اس بات کا پہلے ہی پتا ہوگا کیوں کہ یہ تو معمول کی بات تھی۔

وہ گھر واپس آگئیں۔ اونا نے دوپہر کو یورگس سے مل کر اسے ساری بات بتائی جس نے بہت تحمل سے سنا۔۔۔ وہ اپنے ذہن میں سوچ چکا تھاکہ یہ ان کے مقدر کا لکھا ہے۔ وہ جیسے تیسے اسے بھی سہ لیں گے۔ اس نے اپنا مخصوص جواب دیا ” میں زیادہ محنت کر لوں گا۔“ اس مسئلے نے فی الوقت ان کے دوسرے منصوبے تلپٹ کر دیے۔ اب اونا کے لیے کام ڈھونڈنا ضروری ہو گیا تھا۔اونا نے مزید بتا یا کہ آنٹ الزبیٹا نے فیصلہ کیا ہے کہ ننھے سٹینس کو بھی کام پر لگانا ہوگا۔ یہ مناسب نہیں تھا کہ صرف یورگس پر ہی سارے خاندان کا بوجھ آجائے۔ خاندان کو بھی اس بوجھ کو بانٹنے میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا۔پہلے تو شاید یورگس اس قسم کی تجویز پر قیامت اٹھا تا لیکن اس وقت اس نے ماتھا سہلاتے ہوئے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ ٹھیک ہے، شاید ان حالات میں یہی بہتر رہے گا کہ ہر فرد قربانی دے۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -