چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔۔۔چودہویں قسط

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔۔۔چودہویں قسط
چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔۔۔چودہویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ ۔ایم وقاص مہر

وانگ زاؤجون (wang zhaojun) (52-19 BC) ،جس کا ابتدائی نام چھی آنگ تھا،صوبہ ہو بی(hubei) کے ملک شنگ شانگ(xing shang) کے گاؤں باؤپنگ(baoping) میں پیدا ہوئی تھی۔اس کو مغربی ہان میں بادشاہ یوآن کے دورِحکومت میں منتخب کیا گیا تھا،لیکن کئی سال تک وہ نظرانداز کی جاتی رہی تھی۔33 ق م میں ہنز کا چیف ہوہان یی(huhanye) شاہی محل میں آیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ وہ ایک چینی عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے۔زاؤجون نے رضاکارانہ طور پر چیف سے شادی کرنے کی حامی بھرلی تھی۔رخصتی سے قبل یوآن کو اس کی غیر معمولی خوبصورتی کے بارے میں دریافت ہوا تو اسے اس کے بارے میں کیے گئے اپنے فیصلے پر بڑا افسوس ہو ا تھا۔تاہم، اس نے ہنز کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے اپنے ذہن کو تبدیل نہیں کیا تھا۔وہ بے دلی سے زاؤجون کوشادی کے لئے بھیج دیتا ہے۔

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔۔۔تیرہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

زاؤجون کی دیارے غیر میں روانگی کی یاد میں ،شہنشاہ یوآن نے اس سال کا نام تبدیل کر ’’جِنگ ننگ (jingning)‘‘پرْامن سرحد کا نام دے دیا تھا۔ چیف ہوہان یی(huhanye) ،زاوجون سے شادی کر لیتا ہے اور اسے’’ ننگو یانزی(ninghu yanzi)‘‘ کا نام دیتا ہے۔تاریخ میں لوگ زاوجون کو ’’امن کی سفیر ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔

زاوجون کی قبر اندرونِ منگولیا میں ہوہ ہوٹ(hohhot) کے شمالی مضافات میں موجود دریائے داھی(dahei) کے کنارے پر واقع ہے۔تاریخی ریکارڈ اور لوگ کہانیاں دونوں ہی پچھلے 2000سال سے زاوجون کی قبر سمجھتے آرہے ہیں۔آجکل یہ اندرونِ منگولیا میں ایک بنیادی یادگار مقام ہے۔مقبرے کی اونچائی 33میٹرز ہے۔یہ چین مین موجود ہا ن کے بڑے مقبروں میں شمار ہو تا ہے۔

زاؤجون کی قبر چونکہ مکمل طور پر گھاس سے ملفوف ہے اس لئے اسے ’’سبزمقبرے‘‘کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔یہ سبز مقبرہ خود میں ایک چینی پینٹنگ کا سا دیکھائی دیتا ہے۔

چین کی تاریخ میں زاؤجون ایک عظیم امن خاتون کے طور پر جانی جاتی ہے ،جس نے قومی امن کی خاطر خود کو پیش کر دیا تھا۔لوگ اسے خاتونی خوبصورتی کی علامت بھی سمجھتے ہیں۔کئی ہزار سالوں سے اس کے بارے میں لوک کہانیا ں اور قصے ہر جگہ پھیل گئے ہیں۔تانگ اور سونگ (tang and song )(618-907ق م)کے بعد اسکالرز نے زاؤجون کے عنوان پر شاعری ،گانے ،ڈرامے اور پینٹنگز تخلیق کی ہیں۔ تاریخ کے ایک عظیم اسکالر جی آن بوزان(jian bozan) ،زاؤجون ثقافت کا خلاصہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں،’’وانگ زاؤجون نسلی گروہوں کے درمیان صرف ایک نشان ہی نہیں ہیں بلکہ وہ نیک شگون کی ایک علامت ہیں ۔زاؤجون کی قبر صرف ایک قبر ہی نہیں بلکہ یہ نسلی دوستی کی ایک یادگار ہے ‘‘

جاری ہے، اگلی اور آخری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دنیا میں کہنے کو ہر ملک اپنے ماضی کی شاندار عظمتوں پر ناز کرتا ہے لیکن چین جیسی مثال پر کوئی کم ہی اترتا ہے جس نے اپنے ماضی کو موجودہ دور میں شاندار نظام سے جوڑ رکھااور ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔چین نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماضی کو کیوں زندہ رکھا ،اس بات کی اہمیت کا اندازہ مشہور چینی موؤخ ڈنگ یانگ کی ہسٹری آف چائنہ پڑھنے سے ہوجاتا ہے۔

مزید : چین کی عظمت رفتہ کا سفر