جماعت اسلامی کی دکھی انسانوں کی خدمات!

جماعت اسلامی کی دکھی انسانوں کی خدمات!
جماعت اسلامی کی دکھی انسانوں کی خدمات!

  

یہ سب کا ایمان ہے، ہم سچے دل سے یہ فہم رکھتے ہیں کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہر مسلمان اللہ کاشکر ادا کرتاہے کہ وہ رسول اللہ کی امت میں شامل ہے۔ اسلام محبت، خیر خواہی، انسانوں کے دکھ درد کا احسا س کرنے کا دین ہے۔ جماعت اسلامی دینی، سیاسی، اصلاحی، افکار و کردار کی تطہیر اور تعمیر و تربیت کی منظم تنظیم ہے۔ ملک میں نفاذ اسلام اور نظام مصطفے ٰ کے قیام کے لئے آئینی، سیاسی، جمہوری جدوجہد جہاں جماعت اسلامی کا طریقہ کار ہے وہیں دنیا بھر میں انسانوں خصوصاً پاکستان بھر میں رنگ و نسل، مذہب و مسلک، سیاسی گروہی، علاقائی تقسیم سے بالاتر ہو کر خدمات انجام دینا اور خدمت خلق کرنا جماعت اسلامی نے قومی، دینی، انسانی، اخلاقی فریضہ جان کر اوڑھنا بچھونا بنایاہواہے۔ جماعت اسلامی کے ہر سطح کے ذمہ داران، کارکنان اور ہمدردان مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کا یہ قاعدہ رکھاہے کہ نیکی، بھلائی، ہمدردی اور خیرخواہی کا عام حکم ہے۔ انسانوں کی زندگی میں بھلائی، خیر خواہی، ہمدردی عمومی جذبہ اور اسلوب بن جائے تو انسانی معاشرہ جنت نظیر ہوجاتاہے۔ انسانی معاشرہ میں دولت کی تقسیم ایک جیسی نہیں، انسانوں کی اکثریت وسائل سے محروم اور انسانوں کے اندر ہی محدود طبقات کے پاس وسائل کی بہتاب ہوتی ہے۔ اسی لئے شریعت کا اصول یہی ہے کہ بخل اور تنگ دلی سے بچو اس لئے کہ یہ برائیوں کی جڑ اور بدیوں کی ماں ہے۔ اپنے اخلاق میں اللہ کا رنگ اختیار کرو جو ہر وقت اپنی مخلوق پر بے حدو حساب اپنے فیض کے دریا بہا رہاہے۔ اہل ثروت کو حکم دیا گیا ہے کہ راہ خدا میں جو خرچ کر سکتے ہو کرو۔ اپنی ضرورتوں سے جتنا بچا سکتے ہو بچاﺅ اور اس سے خدا کے دوسرے ضرورت مند بندوں کی ضرورتیں پوری کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت مندوں اور مستحقین کے لئے سخاوت اور مدد کی بھی اعلیٰ صفات رکھتے تھے۔ آپ کی عطا و بخشش حد درجہ اعلیٰ مقام کی حامل تھیں۔ رسول اللہ کے پاس حاجت مند آتے، آپ سے مانگتے۔ آپ سے اپنی ضرورتوں کا سوال کرتے، سیرت کے اوراق رہنمائی دیتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ آپ سے جب کسی چیز کا سوال کیا گیا تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے اس کے جواب میں سائل کو ناں کی ہو۔ سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ سے اپنی ناداری اور مفلسی کا تذکرہ کیا اور کچھ مالی امداد چاہی۔ آپ اندازہ کریں آپ نے اسے کیا کچھ عطا کیا، دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی ساری بکریاں اس کو عطا کر دیں۔ وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور ان سے کہنے لگا ” میری قوم تم سب کے سب اسلام قبول کر لو کیونکہ محمد تو اتنا کچھ عطا کر دیتے ہیں کہ انہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہی نہیں رہتا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہی درس دیاہے کہ ”آدمؑ کے بیٹے تم لوگوں پر خرچ کرو، میں تم پر خرچ کروں گا۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کا سوال کیا جاتا آپ وہ عطا کر دیتے یا خاموش ہو جاتے۔

جماعت اسلامی نے قرآ ن و سنت کی روشنی میں ضرورت مندوں، حاجت مندوں، بیواﺅں، یتیموں، ہونہار طلبہ وطالبات، سماوی آفات، سیلاب، زلزلہ، حادثات کے متاثرین کے لئے اور انسانوں کے غم اور خوشی کے موقع پر ان کی بروقت مدد کے لئے خدمت خلق کا منظم نظام ترتیب دیاہے۔ جماعت اسلامی نے انسانوں کی خدمات کے حوالہ سے سال2013-14 ءمیں مخیر حضرات، غیر سرکاری قومی اور عالمی تنظیموں کے تعاون سے دو ارب 29کروڑ روپے خرچ کیے ہیں جس سے ایک کروڑ چھپن لاکھ انسان مرد و خواتین، مسلم، غیر مسلم مستفید ہوئے ہیں۔یہ جماعت اسلامی کا طرہ امتیاز ہے کہ الحمدللہ اندرون و بیرون ملک مخیر حضرات اور عالمی رفاحی ادارے جماعت اسلامی پر اعتماد کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کو سراہتے ہیں، امسال آنے والے تباہ کن سیلاب کے موقع پر بھی پاکستانی عوام نے کروڑوں روپے جماعت اسلامی اور الخدمت کے ذریعے متاثرین کی بحالی اور امداد کیلئے دیے ہیں، جماعت اسلامی بھی لوگوں کی امانتوں کو حقداروں تک پہنچانے میں کسی تساہل سے کام نہیں لیتی اور جہاں بھی کوئی سماوی اور زمینی آفت اور مصیبت آتی ہے جماعت اسلامی اور الخدمت کے کارکنان سب سے پہلے میدان عمل میں نظر آتے ہیں۔

جماعت اسلامی کو امتیاز حاصل ہے کہ اندرون و بیرون ملک اس کے لاکھوںکارکنا ن ایک ایسی تنظیم کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں، جنہیں زندگی میں اگر کوئی چیز مطلوب ہے تو وہ اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر وقت پاکستان کی سلامتی، قومی یکجہتی و اتحاد کیلئے دعائیں کرتے ہیں اور پاکستانیوں کو کسی مصیبت میں دیکھ کررنجیدہ اور غمزدہ ہوجاتے ہیں، اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی پریشانیوں کو دور کرنے کیلئے بے چین رہنے والے یہ لاکھوں پاکستانی جماعت اسلامی، الخدمت فاﺅنڈیشن اور دیگر فلاحی تنظیموں کے ذریعے ہر موقع پر اپنے بھائیوں کی مدد کرتے رہتے ہیں اورعید قربان پر ان کی طرف سے خیرات و صدقات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

مزید : کالم