ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 56

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 56
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 56

  

خدا کی کارسازی

ہم اپنے میزبان مدثر صاحب کے گھر کے پچھلے حصے میں واقع ٹیرس ہی میں بیٹھے رہے ۔ وہاں سے بڑ ا خوبصورت منظر نظر آتا تھا۔ یہ گویا کہ جنگل کے اندر بنے ہوئے کسی ہٹ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ مدثر صاحب نے بتایا کہ وہ کچھ عرصے قبل ایک سخت بحران سے گزرے جس کے نتیجے میں ان کی زندگی ہر پہلو سے بہت متاثر ہوئی۔ جس کے بعد انھوں نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا ۔جب وہ قرآن مجید پڑ ھتے ہوئے سورہ مزمل کی اس آیت پر پہنچے ۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلاً

یعنی اللہ مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کو اپنا کارساز بنالو تو ان کو دوبارہ نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کا حوصلہ ملا۔میں نے ان کی تائید میں اس آیت کا وہ مفہوم بیان کیا جو اسی جگہ سے تھوڑ ی دیر بعد فیس بک پر لائیو بھی بیان کیا تھا۔ یعنی ایک ایسی دنیا میں جہاں اللہ ہی جج کی کرسی پربیٹھا ہر فیصلہ کر رہا ہے ، اگر اسی کو وکیل بنالیا جائے تو انسان اپنا کوئی مقدمہ کبھی نہیں ہار سکتا۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 55 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسی روز اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب پہلو سے مجھے اس بات کا تجربہ کرایا۔ ذوالفقار صاحب اسی روز برسبین پہنچ کرکسی الرجی کا شکار ہوگئے جبکہ رات کا مرغن کھانا کھا کر بھی ان کوایسیڈیٹی ہوگئی۔جس کے بعد اگلے دن وہ بیمار ہوگئے ۔ اس سے مجھے احساس ہوا کہ میں اس پورے سفر میں مسلسل بے آرامی، موسم اور آب و ہوا کی تبدیلی، غذا اور کھانے پینے کے اوقات کی تبدیلی اور نیند کے مسائل کا شکار رہا۔ مگرالحمدللہ میں اس سب کے باوجود بیمار نہیں ہوا۔روزانہ ہونے والے تمام پروگراموں ، تقریروں اور ملاقاتوں کے علاوہ میں باہر بھی بہت گھوما پھرا۔ مگر الحمدللہ کوئی معمول متاثر نہیں ہوا۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دنیا میں ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر رہا ہوتا ہے ۔ کس کو بیمار ہونا ہے کس کو نہیں ہونا، کس کو کیا ملنا ہے ، کیا نہیں ملنا؛ اس کا آخری فیصلہ وہی کرتا ہے ۔ اسباب اپنی جگہ مگر ان کو موثر ہونے دینا یا نہیں ہونے دینا بھی اسی کے اختیار میں ہے ۔ انسان کو اسی کو اپنا کارساز بنانا چاہیے ۔

تزکیہ نفس

برسبین میں ہمارا پروگرام گریفتھ یونیورسٹی میں تھا۔موضوع تزکیہ نفس تھا۔تقریر میں میں نے یہ عرض کیاکہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے دین کا نصب العین بنایا ہے اور کس طرح دین کا ہر حکم اسی سے متعلق ہے ۔ ساتھ میں علم نفسیات کی روشنی میں اس کے بعض دیگر اہم پہلوؤں کی طرف بھی توجہ دلائی۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے بعض گروہ تزکیہ نفس کے نام سے چڑ تے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید سے واقف نہیں ہیں ۔انھوں نے تزکیہ کا نام تصوف کے حوالے سے سن رکھا ہے جس کے بعد وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی خانقاہی عمل کا نام ہے جس میں انسان دنیا سے کٹ کر اور سماج اور ریاست کے معاملات سے بے تعلق ہوکر زندگی گزارتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ نفس کو قرآن جنت میں جانے کا معیار اور رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل دعوت قرار دیتا ہے ۔جو لوگ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کو اپنا مقصد بناتے ہیں وہ بہترین حکمران، بہترین عالم، بہترین والدین اور سماج کے بہترین فرد بنتے ہیں ۔ اس کو چھوڑ کر انسان ساری دنیا میں اسلام کی دہائی دیتا رہے ، مگر اندر سے کھوکھلا ہوجاتا ہے ۔ وہ اندھا ہوکر دوسروں کو راہ دکھاتا ہے ۔ وہ خود جہنم کے راستے کا مسافر ہوتا ہے اور دوسروں کی جنت و جہنم کے فیصلے کرنا اپنا حق سمجھتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت ہمارے معاشر ے میں مذہب کے نام پر ایسے ہی اندھے راہ دکھانے والے جگہ جگہ مل جاتے ہیں ۔ان کی اندھی سوچ کے خلاف لڑ نا اس وقت سب سے بڑ ا جہاد ہے ۔ورنہ یہ لوگ خود بھی کھائی میں گریں گے ، باقی لوگوں کو بھی گرائیں گے ۔

برسبین کی بہترین ٹیم

برسبین کا پروگرام انتظامی طور پر بہت شاندارتھا۔ خاص طور پر اس پس منظر میں اس کے منتظمین بھی اس پروگرام کے لیے پہلی دفعہ اکٹھے ہوئے تھے ۔ان میں مدثر صاحب کے علاوہ، عمار اور دو خواتین اسما اور ارم بھابھی پیش پیش تھیں ۔عمار انڈیا سے پڑ ھنے کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے ۔ اسما کوئنزلینڈ یونیورسٹی میں پڑ ھاتی تھیں جبکہ ارم بھابی ایک اشاعتی ادارے میں مینیجر تھیں ۔ان سب نے بڑ ی محنت سے یہ پروگرام آرگنائز کیا تھا۔کچھ دوسرے لوگ بھی معاونین میں تھے لیکن وہ اس نشست میں شریک نہ تھے ۔ اس ٹیم کے ہر شخص کا اپنا رول تھا اور یہ پوری ٹیم ہی قابل تحسین تھی، مگر اسما اور ارم بھابھی نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے غیر معمولی محنت کی تھی، جس پر وہ مبارکباد کی مستحق تھیں ۔خاص کر اس پس منظر میں کہ ہمارے ہاں خواتین فرنٹ پر آ کر کوئی کام نہیں کرتیں ، مگر ان دونوں نے اس روایت کو توڑ دیا اور بہترین کام کیا۔یہ اس ٹیم ہی کا کمال تھا کہ میں برسبین میں جمعہ پڑ ھ کرمسجد سے باہر نکلا تو میرے پروگرام کے پمفلٹ میرے ہی ہاتھ میں پکڑ ادیے گئے ۔ غالباً انھی لوگوں نے کچھ نوجوانوں کو مساجد کے باہر پمفلٹ تقسیم کرنے کی ڈیوٹی پر لگایا ہو گا۔

والدین اور بچے

رات کے کھانے پر ہم ایک انڈین ریسٹورنٹ میں ایک ساتھ جمع تھے ۔ارم بھابھی کے شوہر احتشام صاحب اور ان کا چھوٹا بیٹا نادربھی ساتھ موجود تھا۔دوسرا بیٹا زید یہاں نہیں تھا لیکن پروگرام میں موجودتھا۔ اس دوران میں کافی چیزوں پر گفتگو ہوئی۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑ ی خوشی ہوئی کہ ان کے بیٹے نے گفتگومیں حصہ لیا۔ عام طور پر لوگ اپنے بچوں کو ایسی مجالس میں نہیں لاتے ۔ کیونکہ بچے ان چیزوں سے کچھ بھاگتے ہیں ۔لیکن والدین کسی طرح بچوں کو آمادہ کر لیں تو پھر بچوں کی شخصیت پر اس کا بہت اچھا اثر پڑ تا ہے ۔

یہی بات میں نے مدثرصاحب سے ایک دوسرے پہلو سے عرض کی تھی۔ ان کی بھی ایک بچی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ جب دعوت کے کام میں لگیں گے تو اس کا ایک اثر آپ کی اولاد پر پڑ ے گا۔ پھر یہی بچے جو غیر مسلموں کے درمیان پلے بڑ ھے ہیں ، ا ن لوگوں پر اصل دعوت کا کام یہی لوگ کریں گے ۔کیونکہ یہ ان کے کلچر، محاورے اور افکار سے کہیں زیادہ واقفیت رکھتے ہیں ۔مگر شرط یہ ہے کہ والدین بچوں کی تربیت پر توجہ دیں ۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

عالم اور داعی کا امتحان

اسماء نے گفتگو میں کسی موقع پر یہ کہا کہ لوگ سیلیبرٹی سے ملنے سے خوش ہوتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ لوگ سیلیبرٹی ہونا بڑ ی بات سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ دین کے اعتبار سے سیلیبرٹی ہونا ایک خوفناک امتحان میں کودنے کے مترادف ہے ۔ آپ جیسا ایک عام کارکن اپنا کام کر کے اللہ سے بہترین اجر پالے گا۔ مگر پبلک میں نمایاں ہونے والے ایک شخص کو سخت ترین احتساب سے گزرنا ہو گا۔ اس لیے کہ لوگوں کی تعریف سننے اور سیلیبرٹی بننے کے بعد نفس بہت آلودہ ہوجاتا ہے ۔ ریاکاری، خودنمائی، حب جاہ ، خودستائی اور خود پسندی جیسے امراض اتنی خاموشی سے انسان کو لاحق ہوجاتے ہیں کہ معلوم ہی نہیں ہوتا۔یہ وہ امتحان ہے جس سے کم لوگ ہی سرخرو ہو سکتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی عالم یا داعی کو کیا کرنا ہے ، اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کر چکے ہیں ۔ وہ جس سے جو کام لینا چاہتے ہیں لے لیتے ہیں ۔اس عالم کا فیصلہ اس کے اِس کام پر نہیں ہو گا۔ بلکہ اس پر ہو گا کہ اس نے کس جذبے سے یہ سب کچھ کیا۔خود اس کا اپنا عمل کیا رہا۔دنیا میں کسی کی شہرت ہونا اور لوگوں کا اس کوسننے کے لیے جمع ہوجانا ایک بہت بڑ ا امتحان ہے ۔کسی داعی کو اس امتحان کا اندازہ ہوجائے تو اس کے ہر لفظ کا مخاطب دوسروں سے پہلے اس کی اپنی ذات بن جائے ۔ یہی وہ چیز ہے جو آج کے اکثردینداروں میں ناپید ہے ۔ (جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 57 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سیرناتمام