ویل ڈن اعزازاحمد چوہدری

ویل ڈن اعزازاحمد چوہدری
ویل ڈن اعزازاحمد چوہدری

  

کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہونے کی تشخیص کے ہولناک انکشاف کے ساتھ ہی ڈاکٹر نے مزید دل ہلا دینے والی تنبیہ کی کہ بس اب آپ کے پاس زندگی کے 15دن باقی ہیں ، یہ الم ناک خبریں وزارت خارجہ کے گریڈ 21کے اعلیٰ افسر کو ان کے ڈاکٹر نے 2013ء میں دیں لیکن یہ خبریں ہمت ، استقامت اور یقین محکم کے پہاڑ جیسی اس شخصیت کا بال بیکا بھی نہ کر پائیں ، ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کے فیصلہ کن لمحات تھے جب ان کی ٹیسٹ رپورٹ موصول ہوتے ہی ا نکے ڈاکٹر نے انہیں فون کرکے سرا سیمگی کے عالم میں فوری طورپر اپنے پاس پہنچنے کی ہدایت کی تھی لیکن وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ایک لیکچر دینے کیلئے جارہے تھے تاہم انہوں نے چند لمحات کیلئے سوچا پھر فیصلہ کیا کہ وہ اپنے معمول کے مطابق پہلے لیکچر دینے جائیں گے وہاں سے فرصت پاکر ہی ڈاکٹر سے ملیں گے ، انہوں نے ایک طویل لیکچر کے بعد تفصیلی سوالات و جوابات کی نشست بھی کی جب ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو انہیں یہ بری خبریں سننے کوملیں لیکن اس شخصیت نے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھتے ہوئے اسے خدا کا فیصلہ سمجھ کر اس پر سچے دل سے سر تسلیم خم کیا لیکن ہمت نہیں ہاری اوراس بیماری سے اسی جذبہ کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت وہ پاکستان ائیرفورس میں اپنی نوکری کے ابتدائی ایام میں لڑاکا پائیلٹ کے طورپر دشمن پر جھپٹتے تھے ، بعد میں وہ فارن سروس میں آگئے ائیر فورس میں ان کے بیچ میٹ موجودہ ائیر چیف سہیل امان ہیں ۔ان کی پامردی کا عالم دیکھ کر خدا بھی ان پر مہربان ہوا اور 2013ء میں ہی دوران علاج انہیں نہ صرف گریڈ22ملا بلکہ وہ وزارت خارجہ کے اعلیٰ ترین عہدہ سیکرٹری خارجہ پر فائز ہوئے ، یہ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری ہیں ، بطور سیکرٹری خارجہ خطے میں نئی صف بندیوں ، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی اور امریکا کے ساتھ نشیب و فراز کی طویل تاریخ کے حامل تعلقات کی بناء پر مہیب چیلنجز کا سامنا رہا ، لیکن انہوں نے سول ملٹری تعلقات کی تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے کبھی اپنا توازن خراب نہیں ہونے دیا اب کاایک ایسے وقت میں جب ایک طرف پاکستان امریکا کے ساتھ عمومی طورپر اس وقت اپنے تعلقات کی نشیب پر ہے تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کے پاک افغان پالیسی پر مبہم رویہ کی وجہ سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا ہے تو ائندہ چند روز میں بطور سفیر عازم امریکہ ہونے والے ہیں ۔

بطورسیکرٹری خارجہ جاتے جاتے انہوں نے ای سی او سمٹ کے کامیاب انعقاد سے پاکستان کو تنہا کرنے کے بھارتی پراپیگنڈے کو بھی شکست فاش سے دوچار کردیا ہے بھارت نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت صرف پاکستان کو تنہا کرنے کی غرض سے خطے کے اہم اتحاد سارک کو یرغمال بنا کر جنوبی ایشیاء کی اقوام کی خوشحالی پر سوالیہ نشان لگا دیا بھارت سارک سمٹ کے پاکستان میں انعقاد کو ملتوی کروا کر دنیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا تھا کہ پاکستان میں کسی سربراہی کانفرنس کیلئے سیکورٹی کی فضاء ساز گار نہیں ہے نہ ہی پاکستان کا رویہ خطے کے ممالک سے دوستانہ ہے ، ای سی او کے انعقاد سے قبل دہشتگردی کے واقعات کا سلسلہ بھی اس تاثر کو مزید پختہ کرنا تھا تاکہ کسی طورپر یہ سربراہ کانفرنس ناکام ہو جائے لیکن دفتر خارجہ کو اس طرح کی مذموم سازش کا پہلے سے ہی ادراک تھا اوراسی بناء پر سیکورٹی اداروں نے فوری طورپر نہ صرف پاکستان کے اندر پاک افغان سرحدی علاقہ میں جہاں ان سازشوں کا تانہ بانہ ملتا تھا فوری موثر کارروائی کی ۔

صرف 6ہفتے کی قلیل مدت میں ایڈیشنل سیکرٹری مڈل ایسٹ تصور خان کی سر کردگی میں وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرلوں نے ای سی او سمٹ کے انعقاد کو ممکن بنایا ، ان ڈائریکٹر جنرلوں میں احمد حسین ڈھائیو ، ترجمان نفیس ذکریا ، چیف پروٹوکول صاحبزادہ احمد خان ، محمد حسن ، احمد نسیم وڑائچ ، شجاع سالم ، شجاعت علی راٹھور، رحیم حیات قریشی ، خلیل الرحمن ہاشمی ، شفقت علی خان اور فرحانہ آصف شامل ہیں ۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی ای سی او سمٹ کے انعقاد میں غیر معمولی دلچسپی لی ، انہوں نے دو مرتبہ اس پر بریفنگ لی اور سربراہان کی میزبانی کے حوالے سے جزئیات تک کاخود جائزہ لیا ، فنڈز کے حوالے سے بھی فراخدلی کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ وزارت خارجہ نے سارک سمٹ کے انعقاد کے پیش نظر سربراہان کے پروٹوکول اور سیکورٹی کے تقاضوں کے مطابق پہلے سے ہی گاڑیاں منگوا لی ہوئی تھیں ، اس بناء پر پاکستان آنے والے تمام سربراہان کے شایان شان انکا استقبال کیا گیا اور ان کے قیام و طعام کا بندوبست کیا گیا ، تاجکستان کے صدر کو میریٹ ہوٹل کے خصوصی سویٹ میں ٹھہرایا گیاتھا جبکہ دیگر سربراہان کو سیرینا ہوٹل میں ٹھہرایا گیا جہاں پہلے صرف دو صدارتی سویٹ تھے لیکن مختصر مدت میں تین تین کمروں کو توڑ کر انہیں صدارتی سویٹ میں تبدیل کیا گیا ، دارالحکومت میں 10ملکوں کے 400سے زائد مندوبین 4دن تک ٹھہرے ، تمام مہمانوں کی پاکستانی کھانوں کے علاوہ ان کے اپنے اپنے ملکوں کے کھانوں سے تواضع کی جاتی رہی ، اس حوالے سے سرینا ہوٹل نے دفتر خارجہ کے ساتھ ایک پارٹنر کا کردار ادا کیا ، دفترخارجہ کی جانب سے سرینا ہوٹل کے چیف ایگزیکٹیو عزیز اے بولانی کی خصوصی تحسین کی گئی تمام انتظامات میں فوجی و سول اداروں کے مابین تال میل نہایت مثالی بنائی گئی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے ای سی او سمٹ کے بعد اپنے افسران کے کام کر سراہنے کی غرض سے ایک اجلاس میں کہا کہ یہ ایک’’نقص سے بالا تر‘‘ کانفرنس تھی اگرچہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کانفرنس کے مقام پر صرف آفیشل میڈیا کو رسائی دی گئی لیکن ترجمان نفیس ذکریا بروقت سوشل میڈیا پر تشہیر کرتے رہے ۔

اگلے ہفتے چارج لینے والی پاکستان کی پہلی خاتون سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی ای سی او کانفرنس میں شرکت کیلئے خصوصی طورپر جنیوا سے آئی تھیں، انہوں نے کانفرنس میں خاموشی سے شرکت کرتے ہوئے ماحول اور افسروں سے شناسائی کی کیونکہ انہیں چارج لیتے ہی جہاں سفارت کاری کی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے کا چیلنج درپیش ہوگا تو دوسری طرف دفتر خارجہ میں بعض انتظامی مسائل بھی سامنے آئیں گے کیونکہ ان کے بعض سینئر افسر شاید ہیڈ کوارٹر میں ان کے ساتھ کام کرنے میں دقت محسوس کرینگے بالخصوص ہندوستان میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے بارے میں شنید ہے کہ وہ تہمینہ جنجوعہ کے ساتھ کام کرنے کیلئے آمادہ نہیں اورانہوں نے استعفیٰ بھی دے دیا ہے ،تاہم واقفان حال کا کہنا ہے کہ ان کا استعفیٰ دفتر خارجہ میں ہی تاحال رکھا ہوا ہے اسے منظوری کیلئے وزیراعظم ہاؤس نہیں بھیجوایا جارہا اور قریبی دوستوں کے ذریعے عبدالباسط سے استعفیٰ واپس لینے اور ایل پی آر پر جانے کی استدعا کی جارہی ہے سفیر غالب اقبال کا بھی معاملہ ایسا ہی لگتا ہے ۔تاہم انتظامی معاملات اپنی جگہ پرلیکن اعزاز احمد چوہدری نے ای سی او سمٹ کے انعقاد سے پاکستان کو قید تنہائی کاسامنا کرنے کے تاثر کوجھٹک دیا ہے ۔وہ تہمینہ جنجوعہ کو بہترین سفارتکاری کا یہ تحفہ دیکر جارہے ہیں ،ویل ڈن اعزازاحمد چوہدری۔

مزید : کالم