لاہوراورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ

لاہوراورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ
لاہوراورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ

  

لاہور پنجاب کا سب سے بڑا جبکہ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہورکی آبادی میں دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کی طرح تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق لاہور کی آبادی ایک کروڑنفوس سے تجاوز کر چکی ہے اور اگر سڑکوں پر آمدورفت کے حجم کو دیکھا جائے تو روزانہ پندرہ لاکھ کے قریب اشخاص سفر کرتے ہیں۔شہر میں ٹریفک کے ہنگام، شور، رش اور ماحولیاتی آلودگی کو قابو کرنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کے مثالی منصوبوں کی ضرورت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ روڈسیفٹی یقینی بنانے کیلئے عوام الناس کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دلانا بھی وقت کی عین ضرورت ہے۔خوش قسمتی سے حکومت پنجاب نے ان دونوں عوامل پر خصوصی توجہ کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایک جانب ٹریفک ریفارمز متعارف کروائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان کی پہلی لاہوراورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ منصوبے سے لاہور جدید ترین ٹرانسپورٹ کے حامل بین الاقوامی شہروں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ جبکہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔میٹروبس منصوبے کی کامیابی سے تکمیل کے بعد اورنج لائن میٹرو ٹرین کا شاندار منصوبہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی طرف سے اہل لاہور کے لئے سبک رفتار ، محفوظ ، آرام دہ اور باکفایت ٹرانسپورٹ کا ایک شاندار تحفہ ہے۔حکومت پنجاب چین کے تعاون سے لاہور میں اس تاریخی میٹروٹرین منصوبے پر کام کا آغاز کر چکی ہے۔گزشتہ سال چین کے شہر شنگھائی میں وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف اور چین کی نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے چیئرمین (Xu-Shaoshi) ژوسوسائی نے منصوبے پر دستخط کئے تھے جسے اب عملی جامہ پہنایا جا رہاہے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ اس خطے میں بچھائی جانے والی پہلی ریلوے لائن ہوگی اور وہ بھی دنیا کی تیز رفتار میٹروٹرین سروس جسے دُنیا بھر میں آمدورفت کا جدید ترین ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔

لاہوراورنج لائن میٹر وٹرین منصوبے کا روٹ علی ٹاؤن رائیونڈ روڈ سے براستہ ٹھوکر نیاز بیگ، ملتان روڈ ، سکیم موڑ ، چوبرجی، ایم اے او کالج ،مال روڈ، لکشمی چوک ، ریلوے سٹیشن ، گڑھی شاہو پُل سے جی ٹی روڈ ، یو ای ٹی ، پاکستان منٹ سے ڈیرہ گجراں نزد رنگ روڈ انٹرچینج تک ہوگا۔ لاہور اورنج لائن ٹرین کے ٹریک کی کل لمبائی 27.1 کلو میٹر ہو گی،جس میں25.4 کلومیٹر ٹریک معلق یعنی ایلیویٹڈہو گا۔ منصوبے کے کل 26 اسٹیشنزمیں سے 24سٹیشن بھی ایلیویٹڈ ہوں گے۔یہ منصوبہ 27ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا جائے گا، جس کے لئے تمام سرمایہ کاری حکومت چین فراہم کرے گی۔ منصوبے کی ڈیزائنگ، تعمیر اور نگرانی کے کام کی تمام تر ذمہ داری چین کی حکومت پر ہوگی اورمنصوبے کی تکمیل بھی چینی فن تعمیر کے معیار کے مطابق کی جائے گی۔

پاکستان کی تاریخ کے اس پہلے جدید میٹرو ٹرین منصوبے کے آغاز میں تقریبا اڑھائی لاکھ شہری روزانہ سفر کریں گے اور2025ء تک مسافروں کی تعداد بڑھ کر دوگنا یعنی 5 لاکھ ہوجائے گی۔ایک کھرب 65ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے پاکستان کے اس پہلے میٹرو ٹرین منصوبے پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان جدیدذرائع آمدو رفت استعمال کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ بھی مکمل کی جا چکی ہے جسے عوام الناس کے لئے پنجاب پبلک لائبریری، دفتر لائبریری ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحول، نیشنل ہاکی سٹیڈیم اور دفتر چیف انجینئر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی جوہر ٹاؤن میں رکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ پر عوامی شنوائی کا اہتمام بھی کیا گیا جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی رائے دی۔ شہریوں کو منصوبے کے روٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ عوام الناس کو منصوبے کے روٹ پر زمین حاصل کرنے کا طریقہ اور اس کی ادائیگی بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعلی پنجاب پہلے ہی یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ میٹرو ٹرین منصوبے کے روٹ پر جن شہریوں سے زمین خریدی جائے گی انہیں فوری اور مکمل ادائیگی کی جائے گی۔پوری دنیا میں ٹرانسپورٹ ذرائع کو معاشی و معاشرتی ترقی میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ترقی یافتہ ممالک جدید ذرائع آمدو رفت سے نہ صرف ترقی کی تیز رفتار منازل طے کرتے ہیں، بلکہ ان ذرائع سے ان کے عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہوتا ہے۔میٹروبس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کا شماردنیا کے ان چند ممالک میں ہونے لگا ہے جو ماس ٹرانزٹ جیسے جدیدذرائع آمدورفت سے استفادہ کررہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے برادرملک ترکی کے تعاون سے میٹروبس منصوبے کومحض گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں کامیابی سے مکمل کیاتھا۔ آج ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسافر روزانہ آمدورفت کی اس جدید سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین بھی مقررہ مدت میں تعمیر کر لی جائے گی اور عوام اس سے مستفید ہو سکیں گے۔حکومت پنجاب نے شہریوں کو جدید اور بین الاقوامی معیار کی سفری سہولتوں کی فراہمی کا دائرہ کار بڑھانے پر بہت کام کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں پاکستان میٹروبس سروس کا منصوبہ تیزی سے مکمل کیا گیا۔ اب میٹرو بس ماس ٹرانزٹ کے اس منصوبے کو ملتان ، فیصل آباد اور دیگر شہروں تک وسعت دی جارہی ہے۔ اورنج لائن منصوبے پر کام کا آغازپاکستانی عوام کے لئے نہایت خوشی کا باعث ہے کیونکہ میٹرو ٹرین کا منصوبہ مُلک کی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگااور عوام کو جدید اور معیاری سفری سہولیات میسر ہوں گی۔ میٹرو بس کے بعد اپنی نوعیت کا یہ منفرداور پاکستان میں پہلا سسٹم ہے جوعام شہریوں کو ٹریفک جام اورشور شرابہ کی سنگین تکالیف سے نجات دلانے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ تیزترین نظام پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کر نے والوں کو بر وقت منزل مقصود پر پہنچا کران کا قیمتی وقت بھی بچائے گا۔ تیز رفتاری سے تکمیل کی جانب گامزن پراجیکٹ شہر میں مواصلاتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ یہ منصوبہ پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں ایک سنگ میل ہو گا اور اس کی کامیابی ایسے دیگر کئی منصوبوں کا پش خیمہ ثابت ہو گی۔ میٹروٹرین سروس سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ روزگار کے بیش بہا مواقع بھی لائے گی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین سروس سے عام آدمی بھی آبرومندانہ طریقے سے جدید سفری سہولت سے مستفید ہوسکے گا۔میٹروٹرین سروس سہولت اور جدت کا امتزاج ہے اوراس کی بروقت تکمیل نا صرف اہلِ لاہور، بلکہ تمام پاکستانوں کے لئے خوشی کی نوید ہو گی۔

مزید :

کالم -