گونگے بہرے ایوانوں پر بزرگوں کی دستک

گونگے بہرے ایوانوں پر بزرگوں کی دستک

  

دنیا بھر کے مہذب طبقوں، معاشروں اور قوموں میں بزرگوں کو غیر معمولی اہمیت، انفرادیت اور عظمت حاصل ہے۔ ان کا علم، تجربہ، مشاہدہ اور مطالعہ زندگی کا انمول عطر ہوتا ہے جس کی خوشبو سے معاشروں اور آنے والی نسلوں کو مہکایا جاتا ہے۔ معمر لوگ ان کے نزدیک ایسا قیمتی اثاثہ اور سرمایہ ہوتے ہیں جن کی ہر ممکن حفاظت کی جاتی ہے، انہیں بے انتہا احترام اور اکرام سے نوازا جاتا ہے اور وہ تمام آسانیاں اور آسائشیں فراہم کی جاتی ہیں، جن سے انہیں اپنی زندگی خوشگوار، راحت انگیز، دلکش اور کار آمد محسوس ہوا۔

مجھے کچھ عرصہ قبل امریکہ کی مختلف ریاستوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس معاشرے میں جہاں خاندان کا تصور اور رشتوں کے تانے بانے بکھر چکے ہیں، ہر ریاست نے تلافی ء مافات کے طور پر اپنا فرض غیر معمولی انداز میں نبھاتے ہوئے تنہا والدین اور معمر لوگوں کی آسائش و راحت اور تعظیم و تکریم کا ہر جگہ شاندار اہتمام کر رکھا ہے۔ مَیں خود چونکہ ایک سینئر سٹیزن (معمر شہری) ہوں، اس لئے میری دلچسپی اس شعبے سے زیادہ رہی۔ مَیں نے دیکھا کہ چھوٹے سے چھوٹے شہر میں بھی عمر رسیدہ لوگوں کے لئے اولڈ ایج ہومز، کلب اور دارالمطالعہ موجود ہیں۔ مجھے ایک دارالمطالعہ میں جانے کا اتفاق ہوا، کتابوں سے سجے شیلف، آرام دہ نفیس فرنیچر، اے سی اور ہیٹر کا انتظام، ٹھنڈے پانی کا ڈسپنسر،فریج اور کافی بنانے کی مشین! چند بوڑھے خواتین و حضرات مطالعہ میں مصروف…… امیر اخیر مقدم کیا گیا، گرما گرم کافی کے ساتھ گرما گرم گفتگو رہی، پاکستان و بھارت کے حوالے سے بعض افراد کی معلومات حیرت انگیز تھیں، مجھے بتایا گیا کہ اپنوں کی محبت و رفاقت کے سوا انہیں زندگی بسر کرنے کی ہر سہولت موجود ہے۔ وہ سرکاری ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہیں، ان کے وظائف بھی مقرر ہیں۔ سنیماؤں، تھیٹروں، تفریح گاہوں اور کئی منزلہ عمارتوں میں معذوروں اور بوڑھوں کی وہیل چیئرز کے لئے علیحدہ ٹریک موجود ہیں۔ مَیں نے کئی بڑے بڑے آڈیٹوریمز کی بالائی بالکونیوں میں اپنی نشست کے ساتھ لوگوں کو اپنی اپنی وہیل چیئرز پر بے تکلف براجمان دیکھا۔

مَیں سوچتا ہوں غالباً پورے یورپی ملکوں اور فلاحی مملکتوں میں جہاں خاندانی اور ازدواجی نظام زوال پذیر ہے،وہاں بزرگوں کا احترام اوجِ کمال پر ہے، دوسری طرف مشرق ہے، جہاں بڑی حد تک یہ نظام محفوظ ہے،مگر بزرگوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے حکومتی سطح پر بے اعتنائی اور بے توجہی بدترین شکل اختیار کر گئی ہے، حالانکہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے تمام مقتدر اربابِ بست و کشاد کا موجودہ نام و مقام اور مناصب جلیلہ ان کے والدین اور بزرگوں کی محنت و ریاضت اور ایثار و قربانی کے مرہون منت ہیں۔ بزرگوں نے ان کے بہتر مستقبل کے لئے اپنی زندگیاں اور وسائل وقف کئے رکھے، کیاوہ ان کا حال خوشگوار بنانے کے لئے تھوڑا سا وقت نہیں نکال سکتے۔ ان کے ایک فکری لمحے،ایک جنبشِ قلم سے بزرگوں کے لئے معاشرے میں آرام، آسائش اور احترام کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، ابھی یہ بات بہت غنیمت ہے کہ ہمارے ہاں لاکھوں والدین اور بزرگوں کو ان کی اولادیں سنبھال رہی ہیں، لیکن بزرگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو بے سہارا اور بے وسیلہ ہونے کے سبب اذیت ناک حالات سے دوچار ہے۔

وہ تو بہت سی نجی فلاحی تنظیموں نے ضرورت مند اور درماندہ معمر عورتوں اور مردوں کے لئے دارالامان بنا رکھے ہیں،جہاں انہیں عزت سے روٹی مل رہی ہے، مگر ایسے ادارے بہت کم ہیں،بیشتر بڑے شہروں تک محدود ہیں لیکن سرکاری سطح پر تو یہ کام برائے نام بھی نہیں ہو رہا، عدالت عظمیٰ کے احکامات کے باوجود ابھی تک سرکاری پنشنروں کو پورا انصاف نہیں مل سکا، ابھی تک بوڑھے لوگ سردی گرمی میں اداروں کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں، ان کے لئے خصوصی کاؤنٹر موجود نہیں اور شاذ و نادر کہیں پر ہیں بھی تو وہاں عملہ موجود نہیں ہوتا، ان کی مالی امداد اور وظائف کا کوئی تصور نہیں۔ اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت کے دعوے اور مدینے کی ریاست کے وعدے کے باوجود عام معمر شہریوں کے لئے زندگی کی آسائشیں، سہولتیں اور اولڈ ایج ہوم تو کجا معذور، مستحق اور بے وسیلہ بوڑھوں کی خاطر کوئی سرکاری انتظام نہیں، تفریح گاہوں، عمارتوں اور اداروں میں وہیل چیئر ٹریک بھی نہیں، تعلیمی نصاب میں بزرگوں کی تعظیم و تکریم کا کوئی باب نہیں اور عملی زندگی میں ان کے احترام و اکرام کے کہیں پسندیدہ مظاہر نہیں۔

ابھی چند روز پہلے میرے دیرینہ دوست بہاولپور کے ایک نوے سالہ سینئر سٹیزن اور صاحب فکر کالم نگار ملک حبیب اللہ بھٹہ سے اسی حوالے سے ذکر چلا تو انہوں نے اصرار کیا کہ مَیں نہ صرف اس موضوع پر لکھوں، بلکہ اسے ایک مشن اور تحریک بناؤں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو معمر شہریوں کی بہتری کے لئے ایک خصوصی پیکیج دینا ہو گا۔ خالق کائنات نے بزرگوں کی خاطر دین کے ارکان و فرائض میں استثنیٰ اور رعایت دی ہے۔ حج روزے اور نماز تک میں سہولتیں عطا کی ہیں حکومت کا بھی فر ض ہے کہ اپنے معمر شہریوں کے لئے خصوصی مراعات کا اعلان کرے۔65سال سے زائد ہر شہری کو ٹیکسوں سے مستثنیٰ کیا جائے اور ہر سطح پر انہیں عزت و احترام کے ساتھ زندگی کی سہولتیں دی جائیں۔

مَیں محسوس کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے اس طبقے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے جو زبانی کلامی والدین اور اساتذہ کے احترام کی تلقین کرتا ہے، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا، پھر گونگے بہرے ایوان اقتدار و اختیار کے مسند نشینوں سے مخاطب ہونے کی ضرورت ہے جو آج جس شعبے میں بھی جو کچھ ہیں، وہ اپنے والدین کی محنت شاقہ کا حاصل ہیں، دنیا میں ہرجنس، محبت اور احسان کا صلہ دیتی ہے۔ کیا وہ وقت آنہیں گیا ہے کہ ہر کوئی اپنا قرض اور فرض ادا کرنے کے لئے آگے بڑھے اور ملک کے معمر شہریوں پر ان کے شایان شان زندگی کی سہولتیں، آسائشیں اور عظمتیں نچھاور کرنے کے لئے خود بھی اپنا حصہ ڈالے اور حکومت کو بھی اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے پر مجبور کرے جس میں یورپ اور فلاحی ریاستوں کے تجربات و اقدامات، اسلام کے احکامات اور پاکستان کے معروضی حالات و مقتضیات کو سمو کر ایسا جدید فلاحی نظام ترتیب دیا جائے جو سارے عالم اسلام کے لئے مثالیہ ہو۔تاریخ اور وقت ہمیں للکار رہا ہے اور آپ کے اور ہمارے بزرگوں کی بے بسی، بے چارگی اور تنہائی مسلسل آواز دے رہی ہے یہ دل سوز آواز کب سنی جائے گی؟ آخر کب؟

مزید :

رائے -کالم -