وہ چھوٹی چھوٹی عادات جنہیں اپنا کر آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان بناسکتے ہیں

وہ چھوٹی چھوٹی عادات جنہیں اپنا کر آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان بناسکتے ہیں
وہ چھوٹی چھوٹی عادات جنہیں اپنا کر آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان بناسکتے ہیں

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) سین تیاگو ریمون کیجل، جو نیوروسائنس کے بانیوں میں سے ایک تھے، نے 100سال سے زائد عرصہ پہلے کہا تھا کہ ”انسان اپنے دماغ کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے اور اسے جتنا جوان اور تیز بنانا چاہے بنا سکتا ہے۔“ مگر کیسے؟ اب آئرلینڈ کی ایک معروف نیورو سائنس دان ڈاکٹر سبینہ برینن نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ٹرینٹی کالج ڈبلن کی ڈاکٹر سبینہ برینن کا کہنا ہے کہ ہماری کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی عادات ہیں جن میں تبدیلی لا کر بڑھتی عمر میں بھی دماغ کو پھر سے نوجوان بنایا جا سکتا ہے۔ ان عادات میں سماجی میل جول بڑھانا، غیرصحت مند اور موٹاپے کے شکار دوستوں سے گریز کرنا، فلاحی کام کرنا، اپنے دل کی صحت کا خیال رکھنا، خوراک میں زیادہ سے زیادہ سبزیاں اور پھل استعمال کرنا، زیادہ نمک کھانے سے گریز کرنا، متحرک رہنا اور یوگا وغیرہ کرنا، ڈپریشن اور ذہنی دباﺅ سے بچناوغیرہ شامل ہیں۔

ڈاکٹر سبینہ کے مطابق جو لوگ ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے کے عادی ہو جاتے ہیں، جو لوگ سست، کاہل اور موٹاپے کے شکار لوگوں کی صحبت اختیار کرتے ہیں، جو لوگ سماجی میل جول سے کتراتے اور سیر و سیاحت سے دور رہتے ہیں اور صحت مندانہ غذا نہیں لیتے ان کے دماغ جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ان عادات میں تبدیلی لانا ہو گی۔ روزانہ 15منٹ کی واک لازمی کریں، ہفتے میں کم از کم دو بار یوگا کریں۔ خود کو ہمہ وقت متحرک رکھیں اور جسمانی طور پر فٹ رہنے کی کوشش کریں، نئے نئے لوگوں سے ملیں اور نئی نئی جگہوں کی سیاحت کریں۔ میڈیٹیرینین ڈائٹ کو اپنائیں جس میں پھل اور سبزیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ اپنے کام اور آرام کے درمیان توازن پیدا کریں اور آرام کے وقت ای میلز چیک کرنے سمیت دیگر تمام ایسے کام مت کریں جن کا تعلق کام سے ہو۔ اپنے مشاغل کے لیے بھی وقت نکالیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ہلہ گلہ کریں اور قہقہے لگائیں۔ نئے ریڈیو چینل سنیں اور نئے مصنفین کی کتابیں پڑھیں۔“

ڈاکٹر سبینہ برینن کا کہنا تھا کہ ” یہ تمام عوامل ایسے ہیں جو انسان کو دل کی بیماریوں اور ذہنی تناﺅ سے بچاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ڈیمنشا جیسے عصبی امراض لاحق ہونے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ ان باتوں پر عمل کرنے سے دماغ میں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو اسے نوجوان رکھنے کے لیے ازحد ضروری ہیں۔اس سے دماغ میں نیا ’گرے میٹر‘(Gray Matter)پیدا ہوتا ہے جو مرکزی عصبی نظام کا انتہائی اہم جزو ہے۔“ڈاکٹر سبینہ کا کہنا تھا کہ ”دماغ کو اپنی خواہش کے مطابق بنانے کی سب سے بڑی مثال میں خود ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ سیکھنے کی ایک خاص عمر ہوتی ہے لیکن میں 42سال کی عمر میں یونیورسٹی گئی اور 6سال بعد وہاں سے سائیکالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری اور دماغی صحت کے لیے کام کرنے کا جذبہ لے کر نکلی۔بحیثیث نیوروسائنسدان میں جانتی ہوں کہ الزیمر جیسے اعصابی عارضوں کا تاحال کوئی علاج نہیں ہے لیکن اگر اپنی زندگی میں مذکورہ بالا تبدیلیاں لے آئیں تو ان امراض سے کماحقہ بچا جا سکتا ہے اور دماغ کو تادیر نوجوان رکھا جا سکتا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...