کوہاٹ،ری سائیکلنگ پلانٹ منصوبہ کھنڈر نما بلڈنگ تک محدود

کوہاٹ،ری سائیکلنگ پلانٹ منصوبہ کھنڈر نما بلڈنگ تک محدود

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ شہر میں صفائی کی صورت حال کو بہتر بنانے اور بے روزگاری میں کمی کے لیے بنایا جانے والا ری سائیکلنگ پلانٹ منصوبہ کھنڈر نما بلڈنگ بنانے تک محدود‘ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی فلاحی منصوبہ عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکا روزانہ ہزاروں ٹن کچرا ضائع ہونے لگا تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت کے پہلے ہی سال میں عوامی ایم پی اے ضیاء اللہ بنگش نے رائلٹی فنڈ سے کوھاٹ میں ری سائیکلنگ پلانٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ منظور کیا مجموعی طور پر اس منصوبے پر ابھی تک ایک اندازے کے مطابق 7 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں مگر تاحال مشینری خریدنے کے لیے کوئی رقم مختص نہ کی جا سکی بدقسمتی سے گزشتہ سال ویرانے میں تعمیر اس عمارت میں دیدہ دلیری سے لاکھوں روپے کا سامان چوری کر لیا گیا جس کا تاحال کوئی پتہ نہ چل سکا کہ مذکورہ سامان کہاں پڑا ہے چوری کی اس واردات کے بعد عمارت کسی کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے مگر محکمہ بلدیات کے افسران کے کانوں پر جوں تک نہ رینگ سکی واضح رہے جب اس منصوبے کا آغاز کیا جا رہا تھا تو عوام کو خوش خبری سنائی گئی تھی کہ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد کوھاٹ شہر میں گندگی کا نام و نشان تک نہ رہے گا اور کوھاٹ کا شمار خوبصورت اور صاف ستھرے شہروں میں ہو گا تو دوسری جانب اس منصوبے سے سینکڑوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے مگر بدقسمتی سے 6 سال گزرنے کے باوجود اس منصوبے کے لے نہ تو صوبائی حکومت نے کوئی خصوصی فنڈ فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اور نہ ہی رائلٹی فنڈ سے اس منصوبے کے لیے کوئی فنڈ مختص کیے جا سکے شہریوں نے صوبائی مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس عظیم الشان منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے فنڈز مختص کریں یا پھر اس منصوبے کو کسی پرائیویٹ کمپنی کے حوالے کریں تاکہ کوھاٹ شہر میں صفائی کی حالت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آ سکیں۔ 

مزید : پشاورصفحہ آخر