افغانستان کے معدنی وسائل

افغانستان کے معدنی وسائل
افغانستان کے معدنی وسائل

  



                            افغانستان کی سرزمین میں کیا کشش ہے کہ 19 ویں صدی اور 20 ویں صدی کی سپر پاورز نے اس سرزمین پر جارحیت کی اور اس میں ہر سپر پاور کو ذلت آمیز شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ فرنگی سامراج کو امان اللہ خان کے ہاتھوں تاریخی شکست ہوئی اور یہاں سے برطانوی سامراج کا جھنڈا لپیٹ دیا گیا۔ شاہ شجاع فرنگی استعمار کو لانے کا سبب بنا، اس کے بعد ایک طویل عرصے تک افغانستان پُرسکون رہا، 1973ءمیں سردار داﺅد نے اپنے بہنوئی ظاہر شاہ کا تختہ الٹ دیا، وہ اس وقت بیرونی دورے پر تھا یہ پُرامن تبدیلی تھی۔ سردار داﺅد افغانستان کے لئے ایک آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینے کے خواہش مند تھے، سوویت یونین کو یہ گوارہ نہیں تھا کہ افغانستان سوشلسٹ یونین کے دائرہ اثر سے باہر نکل جائے۔ سوویت یونین 1917ءکے انقلاب کے بعد سے افغانستان میں سوویت جمہوریہ کا خواب دیکھ رہا تھا۔ سردار داﺅد کے دور میں اسے احساس ہوگیا کہ اب افغانستان اس کے پنجے سے نکلنا چاہتا ہے ، جبکہ سردار داﺅد کو بھی اندازہ ہوگیا کہ اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ اس نے اس جال کو توڑنے کی بہت کوشش کی، مگر وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا، سوویت یونین نے تبدیلی کا بگل بجا دیا ۔ 54 سالہ کوششوں کا نتیجہ حاصل کرنے کا وقت آگیا تھا۔

 خلق پارٹی کے مارکسسٹوں نے بغاوت کا علم بلند کردیا اور فوج نے سردار داﺅد کو مع خاندان کے گولیوں اڑا دیا، اس کے بعد افغانستان ایک پُرامن ملک کی بجائے آگ اور خون اگلنے والا ملک بن گیا۔ خلقیوں اور پرچمیوں کی کشمکش اور سازشوں نے افغانستان کے استحکام کو تہہ و بالا کردیا ، اس کشمکش میں سوویت یونین کو مداخلت کی دعوت دی گئی اور سوویت یونین کے احمقانہ اقدام نے اسے جارحیت پر مجبورکردیا اور روسی صدر برزنیف نے تاریخ کی بھیانک غلطی کی سرخ فوج کو افغانستان میں داخل کیا اور تاریخی مزاحمت اور جہاد نے سوویت یونین کو اپنے منطقی انجام تک پہنچادیا اور سوویت یونین کے نام کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا کر دم لیا۔ اب 1917ءکے سوشلسٹ انقلاب کے نام سے وجود حاصل کرنے والا ملک تاریخ کا فسانہ بن کر رہ گیا ہے۔ جارحیت کی ایک خطرناک غلطی اس کے اختتام کا سبب بن گئی، اس کے بعد اس سے بھی بھیانک غلطی امریکہ اور نیٹو نے کی۔ گیارہ سال کے بعد امریکہ اور نیٹو ناکام و نا مراد افغانستان سے لوٹ رہا ہے۔ کل کے سوشلسٹ اور سیکولر دانشور ادیب اور پارٹیاں حیران ہیں کہ یہ کیا ہوا، نہ افغانستان تقسیم ہوا، نہ افغان قوم کا جذبہ مزاحمت کم ہوسکا، نہ طالبان ختم ہوئے اور نہ مجاہد ملا عمر ان کے ہاتھ آیا، بلکہ امریکہ طالبان کے ساتھ ٹیبل کے گرد جا بیٹھا ، جبکہ حامد کرزئی حیران و پریشان ہے کہ اسے اس گفتگو سے باہر کردیا گیا ہے۔

 تاریخ نے کیسا پلٹا کھایا ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور آج طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز سجانے پر مجبور ہوگئی ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ، بالآخر وہ مجبور ہوجائے گا اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے گا، پس پردہ، لیکن حامد کرزئی کا کھیل ختم ہوگیا، امریکہ اپنے مہروں کو استعمال کرتا ہے، پھر انہیں پھینک دیتا ہے۔ ہم اس کا 19 ویں صدی کے حکمرانوں کے انجام کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ امریکہ کو شکست ہوگی، اس کے طرفداروں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا، لیکن افغان قوم کے آہنی عزائم اور جذبہ مزاحمت نے اسے نا قابل شکست بنادیا ۔ سوویت یونین کے بعد امریکہ کا بھرم بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔

پاکستان میں تین طبقات ایسے تھے جو شاید اللہ رب العالمین پر اتنا یقین نہیں رکھتے تھے، جتنا سوویت یونین پر ان کا ایمان تھا کہ سوشلسٹ روس کو دنیا کی کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی ان تین طبقات میں سیکولر سوشلسٹ اور قوم پرست شامل تھے، لیکن جب اعصاب شکن شکست ہوگئی تو ایسے حواس باختہ ہوئے کہ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوا؟ کبھی کہتے کہ امریکہ نے شکست دلوائی، کبھی کہتے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی اس کا سبب بنی ہے۔ انہیں کوئی دلیل مطمئن نہ کرسکی، ایسی شکست کہ تاریخ سے اس کا وجود بھی مٹ گیا۔ شکست کا سارا ملبہ امریکہ اور پاکستان پر ڈال دیا۔ اب امریکہ بہ نفس نفیس اپنے حمایتیوں کے ہمراہ افغانستان میں آموجود ہوا۔ جدید اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی کی قوت قاہرہ کا بھر پور استعمال کیا ، مگر اسے بھی سوویت یونین کی طرح ذلت آمیز شکست کا منہ دیکھنا پڑا اب ان تینوں طبقات کے مورچوں میں مکمل خاموشی ہے اور ان کی توپوں سے صرف دھواں اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ قرآن کے فلسفہ جہاد نے دنیا کی تیسری بڑی سپر پاور کو زیر کردیا ہے اور واپسی کا راستہ تلاش کررہا ہے، کیا وہ پیچھے لوٹ کر دیکھے گا؟ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ نے اپنے ایک مضمون میں بڑا دلچسپ تجزیہ کیا ہے، جو یوں ہے۔

ہنری کسنجر نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کا کردار فاتح کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کا اندازہ دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی فتح کے بعد تین غیر فیصلہ کن جنگوں جیسا ہے، جوں جوں افغان جنگ طوالت اختیار کرتی جارہی ہے، امریکی عوام میں مایوسی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ کل تک افغانستان میں انخلاءکی حکمت عملی پر زور دیا جارہا تھا، اب زور انخلاءپر ہے، حکمت عملی پر نہیں۔ امریکی حکومت کو اس بات کی فکر لگی ہوئی ہے کہ 2014ءمیں مکمل انخلاءکے بعد تک افغان سیکیورٹی فورسز ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کی پوزیشن میں ہوںگی یا نہیں؟ افغانستان سے نکلنے کے معاملے میں امریکیوں کو ایک بات یقینی بنانا ہوگی کہ یہ انخلاءحتمی ہو، دوبارہ مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ اگر امریکہ نے افغانستان سے نکلنے میں دانشمندی سے کام نہ لیا اور دنیا کو یہ تاثر ملا کہ واحد سپر پاور شکست کھا گئی ہے تو علاقائی اور عالمی سطح پر جہاد ازم کو فروغ ملے گا۔ ہنری کسنجر 1973ءسے 1977ءتک امریکہ کے وزیر خارجہ رہے ....(واشنگٹن پوسٹ 8 جون2011ئ)۔

افغانستان میں معدنی ذخائر کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے ایک طائرانہ نگاہ صورت حال پر ڈالنا ضروری ہے تاکہ اصل مسئلے کو سمجھا جائے اور دیکھا جائے کہ مستقبل کا افغانستان کیسا ہوگا ؟معدنی ذخائر کا علم امریکہ کو کب ہوا؟ اس کا اظہار امریکی جنرل میک کرسٹل کی معزولی کے بعد نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر کی حیثیت سے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے 13 جون 2010ءکو میٹ دی پریس میں کیا کہ امریکی ماہرین ارضیات کو ان ذخائر کی موجودگی کا علم 2004ءمیں ہوچکا تھا، اب جبکہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کی تیاری کررہا ہے، معدنی ذخائر کی موجودگی کا انکشاف معنی خیز ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سابق سوویت یونین کو بھی افغانستان میں معدنی ذخائر کا علم تھا اور اس نے افغان جیالوجیکل سروے کو بھی بتایا تھا، جنہوں نے تمام متعلقہ نقشے اور چارٹس وغیرہ بحفاظت رکھے ہوئے تھے۔

 سوویت یونین کے انخلاءکے بعد افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا تھا۔ اس سے معدنی ذخائر کو منظر عام پر لانے کا کام مشکل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد طالبان کی حکومت قائم ہوگئی تو امکان مزید معدوم ہوگیا، معدنی ذخائر کے انکشافات کے بعد امریکی حکام کارپوریٹ سیکٹر کی مقتدر شخصیات کی رال ٹیکنے لگی ہے۔ سونے ، کوبالٹ اور دیگر قیمتی پتھروں کے ان ذخائر کی مالیت اندازوں کے مطابق 3 کھرب ڈالر بھی ہوسکتی ہے۔ افغانستان میں بھی با اثر شخصیات چاہتی ہےں کہ ان کے ملک میں آنے والی ممکنہ دولت سے انہیں بھی حصہ ملے۔ اگر معدنی ذخائر کی مالیت ایک کھرب ہو تو بھی افغانوں کو فی کس 35 ہزار ڈالر مل سکتے ہیں امریکی ماہرین نے بتایا کہ افغانستان میں کوئلہ ، فولاد ، تانبا، کوبالٹ، سونے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ لیتھیم موبائل فونز، بلیک بیری، بیٹریز کی تیاری میں استعمال ہونے والی دھات ہے، اگر ان معدنی ذخائر کو عمدگی سے بروئے کار لایا جائے تو افغانستان کی قسمت بدل سکتی ہے۔ لیتھیم آج کی دنیا میں صنعتی استعمال کی بڑی دھات ہے، یہ بھی کہاجارہا ہے کہ افغانستان اب لیتھیم کے میدان میں سعودی عرب کا مقابلہ کرسکتا ہے، اس میں شک نہیں کہ افغانستان کو ایسے ملک میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جو صنعتی طور پر یا ترقی یافتہ ممالک کو خام مال کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے یہ ذخائر افغانستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ افغانستان میں معدنیات کی موجودگی کا انکشاف ممکنہ طور پر مغرب کی لالچی قوتوں کو اور کرائے کے فوجیوں کو طویل جنگ کی بھٹی میں جھونک سکتا ہے۔ چین کے بارے میں خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ وہ افغانستان کی صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اپنے کردار کو مستحکم کرسکتا ہے۔ امریکہ اور اس کے ہمنوا ممالک نے تو افغانستان میں صرف خرابیاں پیدا کی ہیں، جبکہ چین نے لوگر صوبہ میں اب تک 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے افغانستان میں ترقی کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے کس نوعیت کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔ چین نے کسی بھی مرحلے پر خون خرابے کو اہمیت نہیں دی اور نہ اسے طول دینے کے بارے میں کبھی سوچا ہے۔ افغانستان میں جنگجو سردار سب کے سب امریکی پے رول پر ہیں، ان کی پرائیویٹ فوج بھی ہے۔

 افغانستان کے تمام معدنی ذخائر جنوب مشرقی اور جنوب مغربی افغانستان میں پائے جاتے ہیں۔ معدنی ذخائر کے لئے ان جنگجو سرداروں میں جنگ چھڑ سکتی ہے، حریص مغربی قوتیں افغانستان کے حالات کا فائدہ اٹھا سکتی ہےں ، معدنی ذخائر کو اپنے اپنے ممالک میں منتقل کرسکتی ہےں اور ملک کے ہاتھ شاید کچھ نہیں آئے گا۔ مشرقی اور جنوبی افغانستان میں امریکیوں اور اتحادیوں کو بدستور مشکلات کا سامنا ہے.... (کریسنٹ انٹر نیشنل جولائی 2010ئ) .... افغانستان کی معدنی دولت کے حوالے سے دیکھا جائے تو امریکہ اور مغربی ممالک کی جارحیت کچھ کچھ سمجھ میں آسکتی ہے۔ احمد شاہ مسعود اپنے بھائی کے ذریعے فرانس میں قیمتی پتھروں کی تجارت کررہا تھا۔ اب معلوم نہیں ہے کہ امریکہ اورمغربی ممالک کے حریص کاروباری حضرات نے افغانستان کو کتنا لوٹا ہے؟ کچھ چھوڑا بھی ہے یا نہیں؟ افغانستان کو تباہ اور برباد کرنے میں حامد کرزئی سب سے زیادہ ذمہ دار ٹھہر سکتا ہے۔ خدا کرے کہ افغانستان کے یہ قیمتی ذخائران ڈاکوﺅں اور لٹیروں سے محفوظ رہیں۔ امریکہ اور مغربی ملکوں کے انخلاءکے بعد افغانستان افغان ملت کا ایک طاقتور اور وسائل سے مالا مال ملک دنیا کے نقشہ پر ابھر سکتا ہے۔   ٭

مزید : کالم