وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ...قسط نمبر 68

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ...قسط نمبر 68
وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ...قسط نمبر 68

  

ساحل نے ایک نظر اسامہ اور عمارہ کی طرف دیکھا اور پھر عارفین سے مخاطب ہوا ’’دعا کرو کہ اسامہ اور عمارہ اس عمل میں کامیاب ہو جائیں۔‘‘

’’ہاں۔۔۔اگر وہ دونوں اس عمل میں کامیاب ہوگئے تو ان ہمزاد سے ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لییچھٹکارا مل جائے گا۔بس وہ مٹی کی گولیاں پوری طرح گھلی نہ ہوں کاش ہمیں تھوڑا سا وقت اور مل جائے۔‘‘ عارفین نے ابھی یہ کہا ہی تھا کہ حوریہ کی دلفریب مسحور کن آواز ان دونوں کی سماعت سے ٹکرائی۔

وہ اپنی سحر انگیزآواز میں کوئی گیت گا رہی تھی اس کی آواز کے طلسم نے ان کے دلوں میں ہلچل سی مچا دی۔ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت معدوم ہوگئی وہ دیوانوں کی طرح اس آواز کی سمت کی طرف چلنے لگے۔

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ...قسط نمبر 67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسامہ اور عمارہ کو یہ آواز نہیں سنائی دی تھی۔ اسامہ اور عمارہ نے انہیں اس طرح بدحواس تہہ خانے کی دیوار کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تو وہ دونوں پریشان ہوگئے مگر وہ نہ تو ان سے پوچھ سکتے تھے کہ کہاں جا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں جانے سے روک سکتے تھے۔ انہوں نے انہیں اللہ کے سہارے چھوڑدیا اور یہ سوچ کر اپنا دھیان عمل کی طرف مرکوز کرنے لگے کہ اگر عمل کامیابی سے پورا ہو گیا تو ان دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا مگر وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ ساحل اور عارفین تو موت کی صدا کی طرف ہی بھاگے ہیں۔

وہ دونوں اس خوبصورت آواز کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ریسٹ ہاؤس سے باہر نکل پڑے۔ آواز کی مقناطیسیت انہیں اپنی طرف کھینچتی ہوئی ایک خوبصورت باغ میں لے آئی۔

ایک گھنے درخت کے قریب حوریہ خوبصورت لباس میں ستار تھامے بیٹھی تھی۔ حسن و زیبائش سے وہ کسی پری جیسی دکھائی دیرہی تھی۔ وہ گھاس پر بیٹھی تھی۔ اس کا فیروزی جالی کا فراک دائرے کی شکل میں گھاس پر پھیلا ہوا تھا۔ وہ اپنی خم دارلمبی انگلیوں سے ستار کی تاروں کو چھیڑتی اور اپنی مسحور کن آواز کے جادوئی سر ہوا میں بکھیر دیتی۔

پہلے وہ وقفہ کے ساتھ تھوڑا تھوڑا گا رہی تھی مگر اب وہ بغیر رکے مسلسل گا رہی تھی۔ اب عارفین اور ساحل کو اس کی آواز چبھنے لگی تھی اور دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہو گئی تھیں مگر ان پر کچھ ایسا سحر طاری تھا کہ وہ وہاں سے جانے پر آمادہ نہ تھے۔

آہستہ آہستہ وہ آواز اتنی تیز ہوگئی کہ ساحل اور عارفین کی دماغ کی رگیں پھٹنے لگیں۔ کانوں کے پردے چرنے لگے۔ دل ڈوبنے لگا۔ وہ دونوں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کے گھنٹوں کے بل بیٹھ کے چیخنے لگے’’خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ۔۔۔‘‘

حوریہ اٹھ کے اپنے گانے کے ساتھ ساتھ جھومنے لگی۔

ساحل اور عارفین زمین پر گر کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگے ہاتھ ان کے کانوں پر ہی تھے۔ ان کی دماغ کی رگیں باہر کی طرف ابھر گئی تھیں۔ وہ درد سے چلا رہے تھے۔

حوریہ گھومتے گھومتے اپنے خوبصورت روپ سے اپنے اصل روپ میں آگئی۔ وہی مردوں جیسی سفیدی مائل سرد جلد، مردہ آنکھیں، پپڑی جمے سیاہ ہونٹ، کفن جیسے سفید چولے میں وہ بدمست جھونکے کی طرح ادھر ادھر اڑ رہی تھی۔وہ دشمن کے شکار کے مزے سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

اس دوران روشنی کی ایک شعاع حوریہ کی طرف بڑھی اور پھر خیام کا روپ دھار گئی۔خیام کے ہاتھ میں ایک بڑا سا آئینہ تھا جو تقریبا چار فٹ لمبا اور دو فٹ چوڑا تھا۔

خیام کو دیکھ کر حوریہ کے لبوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ بکھر گئی۔ اسے یقین تھا کہ خیام اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اسے اب شکار کا زیادہ مزا آرہا تھا کہ خیام کے سامنے اس کے دوستوں کے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی اور ان کے کانوں اور ناک سے لہو بہے گا۔

وہ اپنے خاص انداز میں گاتی ہوئی ہوا میں ادھر ادھر اڑ رہی تھی۔

خیام بھی ہوا میں اڑتا ہوا ایک پہاڑ کے قریب کسی خاص جگہ پر کھڑا ہوگیا۔ وہ جانتا تھا کہ حوریہ اس کے پیچھے ضرور آئے گی۔ وہ اسی باغ میں ہی کھڑا تھا جہاں ساحل اور عافین زمین پر گرے پڑے تڑپ رہے تھے۔حوریہ بھی مسکراتی ہوئی خیام کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ سورج پوری آب و تاب کے ساتھ دمک رہا تھا۔ دھوپ بہت تیز تھی۔

جس جگہ خیام اور حوریہ کھڑے تھے سورج ان کے بالکل سامنے تھا۔

حوریہ کو اپنی شیطانی قوتوں پر بہت بھروسا تھا وہ ساحل اور عارفین کے ساتھ خیام کو بھی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

خیام نے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوا آئینہ حوریہ کے سامنے کیا تو حوریہ کا عکس اس آئینے پر روشنی کے ایک ڈاٹ کی صورت میں نمودار ہوا۔ خیام ایک روحانی جسم تھا اس لیے اس کے ہاتھ آئینے کو چھو نہیں رہے تھے آئینہ اس کے ہاتھوں میں گویا معلق تھا مگر اس کی روحانی قوتوں کے باعث وہ آئینہ خیام کی گرفت میں ہی تھا۔

خیام نے اپنے ہاتھوں کو تھوڑا ترچھا کیا تو آئینہ اس طرح ترچھا ہوگیا کہ روشنی کے اس ڈاٹ سے سورج کی شعاعیں ٹکرائیں۔ آئینے سے تیز روشنی نکل کر حوریہ سے ٹکرائی۔ حوریہ کا گیت چیخوں میں بدل گیا اور وہ اپنی جگہ سے غائب ہوگئی۔ آئینہ بھی کرچی کرچی ہو کے ہوامیں بکھرگیا۔

خیام نے ساحل اور عارفین کی طرف دیکھا وہ اب سکون میں آچکے تھے مگر نڈھال لیٹے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ ہمت کرکے اٹھ کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے تشکر آمیز نگاہوں سے خیام کی طرف دیکھا۔ حوریہ تو غائب ہوگئی تھی مگر خیام کو خطرے کی سرسراہٹیں محسوس ہورہی تھیں۔ آس پاس درختوں کے جھنڈ تیزی سے ہلے تھے جیسے کوئی چیز تیزی سے ان میں سے گزری ہے۔

فضا میں عجیب طرح غرغراہٹوں کی آوازیں بھی گونجنے لگی تھیں۔ پھر اچانک خیام کو تین ہیولے دکھائی دیئے جو زرغام، فواد اور وشاء کا روپ دھار گئے۔

وہ تینوں جیسے چلتے پھرتے مردے تھے مگر ان کے جسم ہوائی تھے۔ تینوں انتہائی طیش میں تھے۔ غصہ اور انتقام الاؤ بن کر ان کی آنکھوں میں سلگ رہا تھا۔

زرغام نے دہکتی آنکھوں سے خیام کی طرف دیکھا’’تم حوریہ کو تھوڑی دیر کے لیے غائب تو کر سکتے ہو مگر اسے مار نہیں سکتے کیونکہ روح کی موت کبھی نہیں ہوتی۔۔۔مگر جن مادی وجود والے انسانوں کو تم بچانے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔وہ ہم سے نہیں بچ سکتے۔۔۔ہاں ایک صور ت ہو سکتی ہے کہ تم خود کو ہمارے حوالے کر دو۔ میرے تابع ہو جاؤ۔ میں نہ صرف ان چاروں کی جان بخش دوں گا بلکہ انہیں ان کے گھروں تک پہنچا دوں گا۔‘‘

خیام نے ہنستے ہوئے زرغام کی بات کا جواب دیا۔

’’جن لوگوں کو تم بچانے کی بات کر رہے ہو وہ موت سے نہیں ڈرتے۔۔۔وہ تمہیں ختم کرنے کے لیے سر پر کفن باندھ کر آئے ہیں۔۔۔تمہاری بات ٹھیک ہے روح کی موت نہیں ہو سکتی مگر شیطان ہمزاد کو تباہ کیا جا سکتا ہے جو دنیامیں بھی انسان کو بہکاتا ہے اور مرنے کے بعد اگر تمہارے جیسے خناس کے قابو میں آجائے تو بھی تباہی کا باعث بنتا ہے۔۔۔پروردگار اگر چاہے تو ایک ساعت میں ہی شیطان کو ختم کر سکتا ہے مگر وہ شیطان کو ہمارے ایمان پرکھنے کے لیے زندہ رکھتا ہے۔‘‘ 

’’ہمیں کوئی ختم نہیں کرسکتا۔۔۔‘‘ فواد نے قہقہہ لگایا۔

’’اسامہ اور عمارہ قرآن پاک کی جو آیات پڑھ رہے ہیں۔۔۔تم سب اس سے برباد ہونے والے ہو کیونکہ ان کا عمل پورا ہونے والا ہے اور اس عمل کے دوران تم انہیں ختم نہیں کرسکتے۔‘‘

خیام کی اس بات پر زرغام پھر ہنسا’’ہم انہیں ختم نہیں کر سکتے مگر انہیں ڈرا کر اس عمل سے روک سکتے ہیں۔ ان کا حال دیکھو ان کے پورے جسم پر سانپ رینگ رہے ہیں۔‘‘

اس جال میں ان کی موت یقینی ہے۔ دہشت کے مارے ان کا عمل ٹوٹ جائے گا۔ جونہی ان کا عمل ٹوٹا یہ سانپ انہیں ڈس لیں گے۔‘‘

ساحل اور عارفین یہ سنتے ہی ریسٹ ہاؤس کی طرف بھاگے۔۔۔وہ اپنے نڈھال جسم کو گھسیٹتے ہوئے لمبے لمبے قدم رکھ رہے تھے۔

وہ تہہ کانے میں داخل ہوئے تو ان کی چیخیں نکل گئیں عمارہ اور اسامہ کے جسموں پر سینکڑوں سانپ اس طرح رینگ رہے تھے کہ ان کے جسموں کے حصے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔

(جاری ہے )

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟