دے جا سخیا راہ خدا

دے جا سخیا راہ خدا
دے جا سخیا راہ خدا
کیپشن: ali qasim

  

دے جا سخیا راہ خدا“ یہ التجا روز ہمارے کانوں سے کہیں نہ کہیں ضرور ٹکراتی ہے۔ بازاروں ،چوکوں ،چوراہوں ،اڈوں اور شاہراہوں پر ہمیں بھکاریوں سے روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔ ان بھکاریوں نے اس طرح کا ڈھنگ اختیار کیا ہوتا ہے کہ ہر آدمی ترس کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے، اس پر ان کی پر سوز صدا جیب سے کچھ نہ کچھ نکلوا ہی لیتی ہے خاص طور پر بوڑھی عورتیں پاﺅں میں بیٹھ جاتی ہیں اور اس وقت تک ہلنے کا نام نہیں لیتیں جب تک چند پیسے نہ مل جائیں یہی حالت مرد بھکاریوں کی بھی ہے۔ قارئین اس طرح کے بھکاریوں کو اگر پیشہ ور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کیونکہ کم خرچ بالا نشیں کے مصداق بغیر سخت محنت کے ان لوگوں کو اچھی خاصی آمدن ہو جاتی ہے ۔ایسے بھکاریوں کے بارے میں پہلے پہل تو یہی خیال کیا جاتا تھا کہ یہ لوگ زیادہ تر خانہ بدوش ہیں، لیکن اب تو اس دھندے میں اچھے خاصے لوگ شامل ہیں۔ایک واقعہ یہاں عرض کرتے جائیں ایک دفعہ یونیورسٹی سے واپسی پر ایک اچھی خاصی وضع قطع کے شخص نے ہمیں آواز دی بھائی صاحب ایک منٹ بات سننا ہم نے استفسار کیا تو وہ شخص کہنے لگا کہ میں کوئی پیشہ ور بھکاری نہیں ہوں میری جیب کٹ گئی ہے ،کرایہ کے لئے پیسے نہیں آپ برائے مہربانی پچاس روپے دے دیں۔

 اتنے میں میرے دوست بھی وہیں آپہنچے جنہیں دیکھ کر وہ آدمی فوراً رفو چکر ہو گیا میں نے وجہ پوچھی کہ وہ شخص آپ کو دیکھ کر غائب کیوں ہو گیا ؟تو ہمارے دوست نے الٹا سوال کر دیا کہ اس شخص نے پچاس روپے تو نہیں مانگے ؟جب وجہ دریافت کی تودوست نے بتایا کہ وہ آدمی اسے بھی یہی کہانی سنا چکا تھا اور یہ ان لوگوں کا پیشہ ہے ۔ اسی طرح اگر آپ کو کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہو تو یہ لوگ ایسے من گھڑت قصے سنائیں گے کہ نہ صرف آپ کا دل بھر آئے گا، بلکہ آپ کچھ خیرات بھی دینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔خیر گزشتہ دنوں ایک دوست کے کلینک پر ایک مانگنے والی عورت سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آپ لوگوں کو ایسا کرتے ہوئے کچھ شرم محسوس نہیں ہوتی اس نے جواب دیا کہ وہ ایسا محض شوق کی خاطر کرتی ہے اس جواب نے کم از کم ہمیں شرم سے پانی پانی کر دیا ۔قارئین اس پیشے نے اب تو باقاعدہ انڈسٹری کی شکل اختیا ر کر لی ہے اور اس کام میں بڑے بڑے نامی گرامی گینگ ملوث ہیں جو کہ زیادہ تر یہ کام چھوٹے بچوں سے کروا رہے ہیں ذرائع کے مطابق پاکستان میں 1.2 ملین بچے سڑکوں اور گلیوں میں بھیک مانگ رہے ہیں۔

 بڑے شہرو ں میں یہ گینگ بچوں کو علی الصبح مختلف جگہوں پر بٹھا دیتے ہیں جنہوں نے مختلف روپ دھار رکھے ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو ان بیچاروں کو اپاہج بنا دیا جاتا ہے پھر شام کو انہیں چند پیسوں پر ٹرخا کر باقی سارے پیسے لے لئے جاتے ہیں ۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ ٹریفک سگنل پر جونہی آپ کی گاڑی رکتی ہے تو چھوٹے بچے گاڑی کے دروازے کو کھٹکھٹا کر پیسے مانگنا شروع کر دیتے ہیں آپ اس بچے کو چند سکے دے کر دیر تک سوچتے رہتے ہیں کہ یہ بچہ کون تھا ؟کیا یہ مستحق تھا یا نہیں ؟یہ بچہ اس رقم کو کہاں استعمال کرے گا ؟ سب سے اہم سوال کہ یہ بچے رات کو کہاں غائب ہو جاتے ہیں ؟تو یقینا یہ ساری کار ستانی ان متحرک گینگ کی ہے جو بچوں سے روزانہ بہت سارا پیسہ اکٹھا کروا لیتے ہیں اور رات کو مخصوص ٹھکانوں پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے وہی مکروہ دھندہ ۔اس کے ساتھ ساتھ اب کچھ ماڈرن بھکاری بھی میدان میں اتر آئے ہیں انکا طریقہ واردات یہ ہے کہ آپ کو اپنے موبائل پر ایک ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے جس میں یہی کہا جاتا ہے کہ میں اس وقت ہسپتال میں ہوں اور بہت مشکل میں ہوں ،اللہ کے نام پر پچاس روپے کا بیلنس کروا دیں ،لیکن ہوتا سب فراڈ ہے ۔

بہر حال آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں گدا گری کی بڑی وجوہات کیا ہیں ؟اور انکا ممکنہ تدارک کیا ہے ؟پاکستان میں عموماً خانہ بدوش افراد اس پیشہ سے منسلک رہے ہیں، لیکن اب تو پروفیشنل بھکاریوںکی ایک بڑی کھیپ مارکیٹ میںموجود ہے اس قسم کے بھکاری مساجد کے باہر ،مقبروں ،بازاروں،ریلوے اسٹیشن اور تمام پبلک مقامات پر پائے جاتے ہیں وجہ وہی ہے کہ کم خرچ بالا نشیں مطلب تھوڑی محنت زیادہ پیسے ۔ان کے علاوہ مختلف گینگ نے اَت مچا رکھی ہے جن کا قلع قمع نہایت ضروری ہے ۔ آج کل وطن عزیز میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد تقریباً ساٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور زیادہ تر افراد بھیک مانگ کر اپنا نشہ پورا کرتے ہیں ان افراد کے بھیک مانگنے کا طریقہ اتنا مکارانہ ہے کہ مجال ہے آپ انہیں پیسے نہ دیں ایسے افراد اور منشیات پر قابو پانا وقت کی عین ضرورت ہے الغرض اگر تدارک کی بات کی جائے تو پہلی بات یہ ہے کہ یہ لوگ ہر جگہ ہمارا قومی تشخص بربار کرنے میں مصروف عمل ہیں یہ ایک بہت بڑی بدی ہے جو بد قسمتی سے ہمارے ہاں فیشن اور انڈسٹری بن گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صحت مند بھکاریوں سے کام لیا جائے، جبکہ معذور اور مستحقین کو (Companstate)کیا جائے ان کے لئے الگ گھر بنا دئیے جائیں جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اولڈ ہوم یا معذور افراد کے لئے گھرموجود ہیں اور ان کا نان نفقہ حکومت کی ذمہ داری ہو۔ گدا گری کو ترقی یافتہ ممالک کی طرح غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے ۔

پاکستان میں بھیک مانگنے پر تین سال قید کی سزا ہے، لیکن یہاں بھی بڑے بڑے مسائل ہیں۔ پولیس ایک ایک دن میں اتنے بھکاری پکڑ لاتی ہے ان کو قید رکھنا عذاب بن جاتا ہے اور اگر بھکاری کو سزا ہو بھی جائے تو وہ کچھ دن بعد پھربھیک مانگنا شروع کر دیتے ہےں۔ امید ہے بھکاری بچوں کو ضروری پرائمری تعلیم کے بعد فنی تعلیم دے کر معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جائے اور ان گینگ کے لئے جو بچوں سے ایسا کرواتے ہیں کسی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے بچوں سے بھیک منگوانے کے خلاف پنجاب اسمبلی ایک قراداد بھی پاس کرنے والی ہے جو ایک نہایت ہی خوش آئند بات ہے ۔اسی طرح اس معاملے میں علماءکرام بھی دلچسپی لیں اور لوگوں کو بتائیں کہ گدا گری کتنی بڑی لعنت ہے اب لوگ کشمکش میں ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے نام پر مانگتے ہیں اگر نہ دیں بھی تو گناہ گار ،دیں تو بھی جا کے نشہ کرتے ہیں ۔کریں تو کیا کریں ۔آخر میں معاشرے کے تمام افراد سے گزارش ہے کہ باہم مل جل کر اس معاشرتی ناسور کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں وطن عزیز کے لوگ سالانہ تقریباً70 ملین کی خیرات دیتے ہیں، جن میں زیادہ خیرات یہی بھکاری لے جاتے ہیں تو ان کا بائیکاٹ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تب جا کر ان لوگوں کی کہیں حوصلہ شکنی ہو گی اور یہ معاملہ قابو میں آئے گا ۔

مزید :

کالم -