اپنے ہونے والے بچوں کا نام رکھنے سے قبل یہ تحقیق ضرور پڑھ لیں

اپنے ہونے والے بچوں کا نام رکھنے سے قبل یہ تحقیق ضرور پڑھ لیں
اپنے ہونے والے بچوں کا نام رکھنے سے قبل یہ تحقیق ضرور پڑھ لیں

  

نیویارک(نیوزڈیسک)والدین اپنے نئے پیدا ہونے والے بچے کا نام رکھنے سے قبل اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ نیا نام ایسا ہونہ کوئی اسے بگاڑے اور نہ ہی کوئی ملتا جلتا برا نام بنایا جاسکے۔بچے کو سکول میں نام کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ تمام باتیں تو ایک حد تک ٹھیک ہیں لیکن حال ہی میں کی گئی تحقیق میں یہبات سامنے آئی ہے کہ ناموں کا شخصیت پر گہرا اور دیرپا اثر ہوتا ہے۔

مزیدپڑھیں:ہوائی سفر کے بارے میں وہ تمام باتیں جو آپ کے ذہن میں ہیں

PBS Digital Studios' BrainCraft seriesکی جانب سے اکٹھی کی گئی مختلف تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لوگوں کے ناموں کے ابتدائی لفظ ان کے پیشے اور شخصیت پر اثر رکھتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کسی لفظ یا نام کے قریب جتنا ہم ہوتے ہیں اتنا ہی اس کا اثر ہمارے اوپر ہوتا ہے۔ماہرین نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سینٹ لوئس میں زیادہ تر لوگوں کے نام ’لوئس‘سے شروع ہورہے تھے اور اسی طرح فلاڈیلفیا میں زیادہ لوگوں کے نام’فلپس‘ تھے یعنی اپنے اردگرد ناموں کی وجہ سے ہم کافی اثر لیتے ہوئے آگے بھی ایسے ہی نام پسند کرتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی دیکھا کہ اگر ایک گروپ کے ناموں کے ابتدائی لفظ ملتے جلتے ہوں تو کام کرنے کی صلاحیت بہتر رہتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ناموں کے انتخاب میں اکثر لوگ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ نام معاشرے میں اچھے لگیں اور ایسے نام چنے جاتے ہیں جو جگہیں یا لوگ ہمیں پسند ہوں۔ان کا کہنا ہے کہ ان ناموں کا اانے والے دنوںمیں بچوں پر گہرا اثر ہوتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس