ایرانی میزائل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایرانی میزائل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
 ایرانی میزائل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

  

جب سے شام کی خانہ جنگی میں ایران نے انٹری ڈالی ہے، چھ سال ہونے کو آئے ہیں، پہلی بار ایران نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر میزائل حملہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت اور اسلامی انقلابی محافظ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ حملہ18جون کو کیا گیا اور یہ حملہ تہران میں خود کش حملوں کا جواب تھا جو پارلیمینٹ اور امام خمینی کے مزار پر کئے گئے تھے۔یہ حملے ایران کے صوبہ کرمان شاہ اور کردستان سے کئے گئے تھے۔ داعش کے دستے عراق سے پسپا ہونے کے بعد شام میں جہاں اکٹھے ہو رہے تھے اور اسلحہ جمع کر رہے تھے، ان کو ’’ٹارگٹ‘‘ کیا تھا،لیکن یہ ایک ’’کھلا پیغام ‘‘ اور وارننگ سمجھی جانی چاہئے۔ترجمان کے کہنے کے مطابق تو یہ پیغام دہشت گردوں کے لئے ہے،لیکن تجزیہ کار اسے خطے میں موجود مقامی اور بین الاقوامی ’’پلیئرز‘‘ کے لئے قرار دیتے ہیں، کچھ کے لئے عمومی اور کچھ کے لئے ’’خاص طور پر‘‘ایران کے اعلیٰ عہدیداران حسین امیر عبدالحیان، محسن رضائی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک جیسے بیانات میں کہا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر مزید حملے کئے جائیں گے اور یہ حملے اپنے شہریوں کے دفاع کے لئے اور دہشت گردی، دہشت گردوں کے خلاف عالمی کوششوں کا حصہ ہوں گے،لیکن یہ اُن ’’طاقتوں‘‘ کے لئے وارننگ ہے جو ایران میں ’’Regime Change‘‘ اور جنگ ایران کے اندر لڑے جانے کی بات اور دھمکی دیتے ہیں۔

ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ ایران کے شہید فوجیوں کے خاندانوں سے بات کر رہے تھے: ’’ہم مضبوط ہیں، دشمن ہم پر حملہ کرنے کی جرأت اور حماقت نہیں کرے گا‘‘۔۔۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا نام لے کر انہوں نے کہا کہ ہم38سال سے کوشش کر رہے کہ ایران میں ’’Regime Change‘‘ ہو گی،لیکن ہر بار تم ایک مضبوط قلعے سے سر پھوڑتے ہو، تم سے پہلے بھی کئی یہ تمنا لے کر آئے کہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، قبروں میں چلے گئے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا‘‘۔ جس وقت یہ حملے گئے گئے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال تھا کہ ’’شہاب3میڈیم رینج بلیسٹک میزائل ہے، لیکن بعد میں انہیں پتہ چلا کہ یہ ’’ذوالفقار بلیسٹک میزائل ہے‘‘ جو700کلو میٹر یعنی435 میل تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس میزائل ایران نے خود تیار کئے ہیں۔ اسرائیل کے لئے یہ میزائل ایک ڈراؤنا خواب ہیں اور اسرائیل کے دفاع کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ اسرائیل کے نزدیک اگر یہ میزائل لبنان میں ایران کی حامی حزب اللہ استعمال کرے تو اسرائیل کی تمام دفاعی تنصیبات اس کی زد میں ہیں،لیکن اسرائیل کا سرکاری ردعمل یہ تھا کہ سات میں سے صرف ایک میزائل نے ٹارگٹ کو نشانہ بنایا، باقی آس پاس یا نزدیک گرے ہیں اور اسے تجربہ کہا جا سکتا ہے۔اسرائیل جو بھی کہے ،ان حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، ان میزائل حملوں کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایران ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے ائر فورس استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا،خاص طور پر جب سے امریکی لڑاکا طیاروں نے ایک شامی جہاز کو نشانہ بنایا ہے،لیکن یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ ایران میزائل بنانے،اسے لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسرائیل کے لئے خطرہ ہے۔ ایران مشرق وسطیٰ میں موجود رہے گا اور اپنی موجودگی ثابت بھی کرے گا۔

موجودہ صورتِ حال میں، جبکہ شام کے صدر بشارالاسد روس اور ایران کی مدد سے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں،خاص طور پر عراق کے ساتھ سرحدی علاقے میں اور یہ ایران کی تہران سے بحرۂ روم تک بالادستی کی طرف پیش قدمی کا مظہر ہے اور روس ایران اتحاد ایک طرف اور امریکہ اسرائیل دوسری طرف، دونوں اطراف کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور سعودی عرب اور عرب امارات کی قطر کے ساتھ کشیدگی نے صورتِ حال اور بھی گھمبیر کر دی ہے۔اسرائیل کے وزیر دفاع کے روس کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں کئی شعبہ جات میں باہمی تعاون بھی کرتے ہیں،لیکن بین الاقوامی سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا،وقت کے ساتھ ساتھ مفادات اور اُن کے حصول کے لئے حکمت عملی تبدیل ہوتی رہتی ہے اور ہو رہی ہے۔روس کی جولان کے پہاڑی علاقے میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کی مدد اِس کا اظہار ہے،جو آئے دن اسرائیل پر حملے کرتے رہتے ہیں۔دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ شام کے باغی گروپوں کی مدد کر رہے ہیں تاکہ اس علاقے میں توازن قائم رکھا جا سکے۔مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہر پلیئر امن کی بات کرتا، اختلاف کو مذاکرات سے حل کرنے کی بات کرتا ہے، لیکن ساتھ ساتھ خود کو اور اپنے اپنے اسلحہ کو ’’حالتِ جنگ‘‘ میں رکھتا ہے ،اگر کوئی چنگاری شعلہ بنی تو سب پہلے لمحہ میں ہی اپنی اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں گے۔ ایسی صورتِ حال میں یہ آگ مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی۔ چین اور بھارت کا سرحدی تنازعہ، چین کا امریکی بحری جہاز کو تحویل میں لینا، کسی بڑے حادثے کا پیشہ خیمہ بن سکتے ہیں، ہم آج ایک ’’گلوبل ویلج‘‘ میں رہ رہے ہیں۔

مزید :

کالم -