کتاب دوستی کے سفر کا آغاز!

کتاب دوستی کے سفر کا آغاز!

اچھی اور معیاری کتابوں کے مطالعہ سے نہ صرف انسان کا وقت ضائع ہونے سے بچتا ہے بلکہ کتاب انسان کی غمخوار و مددگار، علم و آگہی کا بہترین زینہ، تنہائی کی بہترین رفیق، زندگی کی ناہموار راہوں میں دلنواز ہمسفراور اضطراب و بے چینی کی معالج بھی ہے۔جب انسان زندگی کے تلخ واقعات اور ذاتی مشکلات کے ہجوم میں الجھ کر مایوس لمحات کے اندھیروں میں بھٹکتا ہے تو اس وقت کتاب امید کی کرن بن کرانسان کو تاریکیوں سے نکال کر کامیابی کی منور راہوں کی طرف لے جاتی ہے۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن فروغِ مطالعہ اور کتاب کلچرکے حوالے سے اہم اقدامات کرتے ہوئے علوم و فنون کی دنیا میں سستی اور معیاری کتابوں کی اشاعت کو عام آدمی کی قوتِ خرید اور رسائی تک لے جانے میں ہمیشہ متحرک رہا ہے۔حال ہی میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی سربراہی ایوانِ اقبال ایجرٹن روڈ، لاہور میں خصوصی اجلاس کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں 50 سے زائد سرکاری و غیر سرکاری پبلشرز اور بُک سیلرز نے شرکت کی۔ سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن ڈاکٹر ندیم شفیق ملک اور مینجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اس اجلاس میں بک پبلشنگ اور کتب بینی سے متعلق مسائل اور تجاویز سننے کے بعد شفقت محمود نے دس نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا۔ جس سے نہ صرف مطالعہ کتب کو فروغ ملے گا بلکہ کتاب کی اشاعت سے متعلق مسائل بھی حل ہوں گے۔ اس دس نکاتی ایجنڈے میں فروغِ کتب کے سلسلے میں آئندہ سال 2020 ء کو کتاب کا سال قرار دیا جائے گااور حکومتی سطح پر تحائف کی صورت میں کتاب پیش کرنے کے کلچر کو فروغ دیا جائے گا، پرائیویٹ بُک انڈسٹری کے مسائل حل کرنے میں حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، سکول، کالجز اور یونیورسٹیز کی لائبریریوں کے لیے کتب براہِ راست بُک پبلشرز سے خریدی جائیں گی۔

ہر ملک کا نظامِ تعلیم اس کی قوم و ملت کے مذہب، رسوم و رواج، ضروریات اور موقع محل کے مطابق ہوتا ہے۔لیکن افسوس کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا اور پاکستان کا نظامِ تعلیم اسلام کے مطابق نہیں بلکہ یہاں تو وہی انگریز کا چھوڑا ہوا نظامِ تعلیم آج بھی برقرار ہے۔ ہمارے نجی سکولوں میں زیادہ تر انگلش میڈیم ہونے کی وجہ سے نصاب سرکاری سکولوں سے ہٹ کر پڑھایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں وزیرِ تعلیم نے کہا کہ پورے ملک میں یکساں نصاب اور نظامِ تعلیم کا قیام عمل میں لایا جائے گا، ایچ ای سی کے تعاون سے پبلشنگ کے حوالے سے نصابی کورسز کا اجراء کیا جائے گا۔

کتب بینی کے فروغ کے لیے لائبریریوں کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ درکار ہے کیونکہ ایک قاری جب کسی لائبریری میں کتابوں سے بھری ہوئی الماریوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے تو دراصل وہ علم و دانش کے ایسے جہان میں کھڑا ہوتا ہے جہاں تاریخ کے ہر دور کے علماء، عقلاء اوراہلِ علم و ادب کی روحیں موجود ہوتی ہیں کیونکہ لائبریریوں میں موجود ہزاروں /لاکھوں کتابیں خاموشی سے رہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ اس اس سلسلے میں وزیرِ تعلیم نے کہا کہ محلہ کی سطح پر لائبریریوں کے قیام کو عمل میں لانے کیلیے کوششیں کی جائیں گی جہاں سے قارئینِ کتب آسانی سے اپنی پسند کے موضوعات کی کتب کا مطالعہ کر سکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ نومبر میں یومِ اقبال کے حوالے سے ایک عظیم الشان کتاب میلے کا انعقاد کیا جائے گا، بیرونِ ملک کتاب میلوں میں پاکستانی پبلشرز کی نمائندگی کے اضافے کو یقینی بنایا جائے گا، سستی کتب کے لئے کاغذ اور اشاعت پر ٹیکس کم کرنے کی کوششیں کریں۔گے اس سلسلے میں جلد ہی قومی کتاب پالیسی وضع کی جائے گی۔ کتاب میلوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سالانہ کتاب میلے کو پاکستان کا کامیاب کتاب میلہ قرار دیا اور اس سلسلے میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی جدو جہد کو بھر پور انداز میں سراہا۔ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک نے یقین دہانی کرائی کہ فروغِ کتب کے حوالے سے ہر ماہ ایسے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا۔جس میں کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے ہونے والی پیش رفت پر بات کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پرنیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے وزیرِ تعلیم اور ڈاکٹر ندیم شفیق ملک کو یادگار شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔اجلاس میں شریک دیگر پبلشرز اور بُک سیلرز کی جانب سے وزیرِ تعلیم اور سیکرٹری کو کتابوں کے تحائف بھی پیش کیے گئے۔اس موقع پر اخباری رپورٹرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔مختلف ٹی وی چینلز نے تمام پروگرام براہِ راست نشر کیا۔

قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں لاہور ایک بڑا اشاعتی مرکز رہا ہے۔ کئی ممتاز اشاعتی اداروں نے بہت عمدہ کتابیں شائع کیں جن میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، ریجنل آفس لاہور کا نام نمایاں ہے۔ سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن ڈاکٹر ندیم شفیق ملک نے این بی ایف ریجنل آفس کا دورہ کیا اور کتب بینی کے فروغ کے سلسلے میں ریجنل آفس لاہور کی ڈائریکٹر مِسز نزہت اکبرکی کاوشوں کو سراہا۔ علاوہ ازیں انہوں نے مصطفیٰ ٹاؤن لاہور میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی زیرِ تعمیر بلڈنگ کا بھی دورہ کیا۔

کسی بھی ملک کی ترقی اورخوشحالی کا رازوہاں کے تعلیمی شعبے کی ترقی اور کارکردگی میں مضمر ہے۔ جو قومیں علم کے میدان میں پیچھے رہ جائیں وہ ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اگر ہم نے کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط نہ کیاتو آنیوالے دورمیں ہماری نسلوں پرعلم کے دروازے بند ہو سکتے ہیں اور جس معاشرے میں علم کے دریچے بند ہوجائیں وہاں صرف جہالت کے اندھیرے چھا جاتے ہیں۔مطالعہ کے لیے معیاری کتب کا انتخاب بہت ضروری ہے کیونکہ اچھی کتب انسان کوگمراہی کے بھنورمیں ڈوبنے نہیں دیتیں بلکہ ساحل ِ ہدایت تک پہنچاتی ہیں۔

٭٭٭

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

مزید : ایڈیشن 1


loading...