دریاکے مغربی کنارے پر ہنزہ کے تاریخی ارتقا ءکی سیڑھی کے 3پائے دان ہیں،یہ سیڑھی وادیٔ ہنزہ کے سیاسی و سماجی ارتقائی ادوار کا حوالہ بھی ہے

 دریاکے مغربی کنارے پر ہنزہ کے تاریخی ارتقا ءکی سیڑھی کے 3پائے دان ہیں،یہ ...
 دریاکے مغربی کنارے پر ہنزہ کے تاریخی ارتقا ءکی سیڑھی کے 3پائے دان ہیں،یہ سیڑھی وادیٔ ہنزہ کے سیاسی و سماجی ارتقائی ادوار کا حوالہ بھی ہے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:153

ارتقائی سیڑھی اور قلعہ گنیش کے فریج:

گنِیش دراصل ہنزہ کی بنیاد ہے۔ شاہ راہ ِ ریشم پر واقع قدیم ترین آبادی۔ ایک زمانے میں یہاں کے لوگ کوہ ہندو کُش عبور کر کے کشمیر میں داخل ہونے والے تجارتی کاروانوں اور قافلوں سے ٹیکس وصول کیا کرتے تھے۔ اس کے نام سے مغالطہ ہوتا ہے کہ شاید یہ کبھی ہندو آبادی رہی ہو جس کی وجہ سے اس کا نام "گنَیش“ (ہاتھی کے سر والے ہندو دیوتا کانام) رکھا گیا ہو لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ اس کا تلفظ ”نون“ کے نیچے زیر سے ہے اور بروشسکی میں اس کا مطلب ”سونا“ (دھات) ہے جو زما نہ  قدیم میں یہاں کے لوگ دریائے ہنزہ سے نکالتے تھے۔ایک خیال یہ ہے کہ اس کا مطلب ”دوراہا“ ہے کیوں کہ یہ بستی ہنزہ اور نگر کے دوراہے پر ہے۔یوں سمجھیے کہ دریاکے مغربی کنارے پر ہنزہ کے تاریخی ارتقا ءکی سیڑھی کے 3پائے دان ہیں۔یہ سیڑھی وادیٔ ہنزہ کے سیاسی و سماجی ارتقائی ادوار کا حوالہ بھی ہے۔ پہلے پائے دان پر گنیش کی آبادی ہے۔ دوسرے پائے دان پر التیت اور آخری پائے دان پر، جو سب سے اونچا ہے، بلتیت یا کریم آباد ہے۔ اب کریم آبادسے اوپر دوئکر میں ایک نئی آبادی وجود میں آرہی ہے جو شاید آگے چل کر تاریخی تو نہیں لیکن ایک نئی تجارتی شناخت حا صل کر لے گی۔ 

 ہمیں گنیش پل کے پار شاہراہ ِ ریشم پر ان چٹانوں تک جاناتھا جن پر قدیم عہد کی تحریریں کندہ ہیں۔ وہ قدیم چٹانیں یہاں سے پاس ہی تھیںاس لیے ہم باتیں کرتے ادھر چل پڑے۔ آ سمان سے بادل چھٹ گئے تھے اور تیز دھوپ نکل آئی تھی۔

 گنیش ایک چھو ٹی سی آبادی ہے، علی آباد اور کریم آباد کی نسبت کافی کم آباد۔قدیم ترین آبادی ہونے کی وجہ سے میرا خیال تھا کہ یہاں آثار ِ قدیمہ بھی ہونے چاہئیں۔ لہٰذا میں انہی کی تلاش میں دائیں بائیں دیکھتے چل رہا تھا کہ کوئی سراغ ملے اور ہم ادھر کا رخ کریں۔ایک جگہ پتھر پر بیٹھ کر ہم دونوں باقی ساتھیوں کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دیر میں ندیم، سمیع، معاویہ اور حاجی اعظم آتے دکھائی دیے۔ چوک کے قریب ہی ایک چھوٹا مینار سر ِ راہ موجود تھا جو حا ضر امام کے ورود ِ مسعود کی یادگار تھا اس سے ذرا آگے بائیں ہاتھ ”قلعہ گنیش“ کا بورڈ نصب تھا۔ سڑک سے ذرا ہٹ کر دکانوںکے پیچھے ایک تالاب کی جھلک نظر آئی تو ہم آوارگان قلعہ گنیش کی طرف مڑ گئے۔

دور قدیم میں یہ قلعے دفاعی حوالے کےساتھ ساتھ رہائشی مقصدکےلئے بھی بنائے جاتے تھے۔انہیں اُس دور کے” جاتی امرا“ اور” بلاول ہاؤس“ سمجھ لیں۔سبھی قلعے تقریبا ً ایک ہی نمونے پر بنے ہوئے ہیں اور ایک کو دیکھ لینا سب کو دیکھ لینے کے مترادف ہے۔ ان میں مغلوں وغیرہ کے قلعوں جیسا تزک و احتشام نہیں ہے۔ پہاڑوں کے باسیوں کی شان و شوکت اور آسائش والی زندگی، میدانی لوگوں کےلئے اچھی خاصی سخت اور کٹھن تھی۔ ان سنگلاخ قلعوں کی تعمیر میں حسن و شکوہ کی نسبت سخت موسم اور کٹھن ماحول میں survival کا پہلو زیادہ غالب محسوس ہوتا ہے۔

” دو دومِیل کے فا صلے پر تو قلعے بنائے ہوئے ہیں۔“ ندیم نے اعتراض نما سوال کیا۔ ”کیا ہر گاو¿ ں کا بادشاہ الگ ہوتا تھا؟“

”ہر دور کے حکمرانوںکو شہر شہر بستی بستی محلات بنا نے کاشوق ہوتا ہے،“ میں نے جواب دیا۔”یا پھر یہ ہوگا کہ یہاں قلعہ بنایا، آبادی زیادہ ہو گئی تو عالم پناہ عوام سے دور التیت میںقیام پذیر ہو گئے، عوام کو پرستش کےلئے کوئی نا کوئی اور کچھ نا کچھ چاہیے ہوتا ہے اس لیے شاہ کی قربت اور قدم بوسی کےلئے وہاں بھی ڈیرے ڈال کر آبادی بڑھا دی توخواجگان ِبلند بام مزید بلندہونے کےلئے بلتیت پہنچ گئے۔ اس سے اوپر جانا ممکن نہ رہا تو عوام سے کہیں دور جا بسے۔“ 

”اس کام کی ضرورت کیا تھی؟“ سمیع نے سوال کیا۔

”ساراڈراماعوام سے دور رہنے یا عوام کو دور رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ دوری سے لوگوں پر رعب پڑتا ہے۔پہلے یہاںقلعوں اور محلوںمیں رہتے تھے اب اسلام آباد، کراچی اور دوسری جگہوں پر بنگلے بناتے ہیں۔ یہ کھنڈر مقامی لوگوں کے روز گار اور ہم جیسوں کی دلچسپی کےلئے رہ گئے ہیں۔“ اعظم نے سیاسی و سماجی پہلو سے اپنی دا نش وری بگھاری۔ 

”حا جی صا حب آپ اپنے نام کے ساتھ آغا خان لکھنے کا منصوبہ تو نہیںبنا رہے تھے ؟ “ ندیم نے اعظم سے سوال کیا جس پر اعظم سمیت سب نے قہقہہ لگا یا۔

بائیں ہاتھ ایک احا طے میں سبز پانی کا تالاب جس میں مجور اور تریک کے در ختوں کا عکس ،دائیں ہاتھ ایک مقفّل عمارت۔۔۔ مقفل دروازے، بند کھڑکیاں، گرے ہوئے پردے اور خاموش لوگ اپنے اندر کشش، اسرار اور تجسس کا ایک جہان رکھتے ہیں۔ 

”اُدھر کیا ہے؟“میں نے تالاب کے گرد کھیلتے بچوں میں سے دس بارہ سال کے عقیل اور نوشاد سے مقفل عمارت کا پوچھا۔

”یہ امام باڑہ ہے۔“ نوشاد نے جواب دیا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -