مرحوم ججز اور قانون دانوں کی خدمات کو سراہنے کیلئے فل کورٹ تعزیتی ریفرنس

مرحوم ججز اور قانون دانوں کی خدمات کو سراہنے کیلئے فل کورٹ تعزیتی ریفرنس

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، لاہور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی زیر صدارت عدالت عالیہ لاہور کے مرحوم جج صاحبان اور قانون دانوں کی خدمات کو سراہنے اور ان پر روشنی ڈالنے کیلئے فل کورٹ تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ کی 150سالہ تقریبات کے حوالے منعقدہ مذکورہ ریفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار، مسٹر جسٹس محمد یاور علی، مسٹر جسٹس محمد انوار الحق، مسٹر جسٹس سردار محمد شمیم احمد خان، مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ اور مسٹر جسٹس محمد قاسم خان سمیت لاہور ہائی کورٹ کی پرنسپل سیٹ پر کام کرنے والے دیگر فاضل جج صاحبان، مرحوم جج صاحبان اور وکلاء کی فیملیز شریک تھے جبکہ اس موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ کورٹ نمبر ون میں سابق چیف جسٹس جاوید اقبال، سابق چیف جسٹس عبدالشکور الاسلام،سابق چیف جسٹس راشد عزیز خان،سابق چیف جسٹس افتخار حسین چودھری،سابق جج صاحبان میں مسٹر جسٹس چودھری اعجاز احمد ،مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی، مسٹر جسٹس میاں نثار احمد، مسٹر جسٹس عبدالغفور خان لودھی، مسٹر جسٹس محمد حسن سندھڑ، مسٹر جسٹس گل زریں کیانی،مسٹر جسٹس آصف جان، مسٹر جسٹس میاں غلام احمد، مسٹر جسٹس عبدالمجید ٹوانہ، مسٹر جسٹس امیر عالم خان، مسٹر جسٹس شیخ عبدالمنان ،مسٹر جسٹس محمد غنی، مسٹر جسٹس شیخ امجد علی،مسٹر جسٹس ارشد محمود تبسم اور مسٹر جسٹس شیخ عبدا رزاق، کے نام ہیں جبکہ مرحوم قانون دانوں میں محمد الیاس خان ایڈووکیٹ، خواجہ سلطان احمد ایڈووکیٹ،حاکم قریشی ایڈووکیٹ، خواجہ سعید الظفرایڈووکیٹ، میا ں اقبال حسین کلانوری ایڈووکیٹ ،ایس ایم مسعود ایڈووکیٹ، سردار محمد اسحاق خان ایڈووکیٹ اور اعجاز حسین بٹالوی ایڈووکیٹ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔فل کورٹ تعزیتی ریفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی 150سالہ تقریبات عدالت عالیہ لاہور کے مرحوم جج صاحبان اور قانون دانوں کی اس ادارے کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قبل عدالت عالیہ میں تعزیتی ریفرنس 7سال پہلے منعقد ہوا تھا ۔چیف جسٹس نے ریفرنس پڑھتے ہوئے کہا کہ مرحوم جسٹس کے ایم اے سمدھانی13 مئی1932 کو پیدا ہوئے انہوں نے سول سروسز جوائن کیا اور بعد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے پر فائز ہوئے، وہ 1972 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 1981 تک اپنی ذمہ داریاں اداکرتے رہے، انہوں نے 1981 کے پی سی او تحت کے حلف لینے سے انکار کیا اور ریٹائرڈ ہوگے، فاضل جج گیارہ اپریل انیس سو تیرہ کو اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔ فاضل چیف جسٹس نے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ اکتوبر انیس سو چوبیس کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، آپ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں فلسفہ کے پروفیسر رہے ، ڈاکٹر جاوید اقبال 30 جولائی 1971 ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 1985میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ فائز ہوئے، ڈاکٹر جاوید اقبال کو 5اکتوبر 1986ء کو سپریم کورٹ پاکستان کا جج تعینا ت کردیا گیا، ڈاکٹر جاوید اقبال پچھلے سال اس دنیافانی سے کوچ کر گئے۔جسٹس (ر) عبد الغفورخان لودھی نو جون 1978ء کو لاہور ہائی کورٹ کا حصہ بنے قبل ازیں وہ مختلف جوڈیشل پوسٹوں پر فائز رہے، وہ رواں برس 24فروری کو انتقال کر گئے ۔ جسٹس عبد الشکور السلام کے بارے میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ 1974ء کو لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج بنے اس قبل وہ 12برس سے زائد پنجا ب بار کونسل کے ممبر رہے، مرحوم انیس سو اٹھاسی کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور پھر انہیں 1989ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج بنا دیا گیا۔ جسٹس محمد حسن سندھڑبہاولپور میں پیدا ہوئے، انہوں نے بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدلیہ میں شمولیت اختیار کی اور 1977ء کو لاہور ہائی کورٹ بنچ کا حصہ بنے، فاضل جج 1981ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ جسٹس میاں نثار احمد مرحوم کے حوالے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ 1979ء کو لاہور ہائی کورٹ کا حصہ بنے لیکن 10جولائی 1980ء کو انہیں اس عہدہ سے سبکدوش ہونا پڑا جب انہوں نے غیر آئینی حکومت کے زیر اثر حلف لینے سے انکار کیا، میاں نثارسپریم کورٹ پاکستان کے نامزد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے والد گرامی تھے۔جسٹس گل زریں مرحوم نے 1963ء میں وکالت شروع کی اور 1984ء سے 1995ء تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے، مرحوم کے بارے مشہور ہے کہ وہ عید کی چھٹیوں میں بھی اپنے دفتر میں بیٹھے کام کرتے نظر آتے اوربطور وکیل وہ بہت کم فیس وصول کیا کرتے تھے۔ جسٹس گل زریں رواں برس 5جون کو انتقال کر گئے تھے۔سابق چیف جسٹس راشد عزیز مرحوم 1987ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے، قبل ازیں وہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تھے، انہیں 1997ء میں چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز کیا گیاجو 4 فروری 2000 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔جسٹس عبد المجید ٹوانہ یکم جنوری 1937ء کو پیدا ہوئے اور 1972ء میں جوڈیشل سروسز جوائن کیا، وہ 1988ء کو ہائی کورٹ کے جج بنے۔ جسٹس میاں غلام احمد1992ء سے 1995ء تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے جبکہ جسٹس شیخ عبد المنان بھی 1992ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے، قبل ازیں وہ ڈپٹی اٹارنی جنرل تھے۔ جسٹس محمد آصف جان 1994ء میں لاہور ہائی کور ٹ کے ایڈیشنل جج بنے اور 2001ء تک اس عہدہ پر فائز رہے، وہ 2012ء میں وفات پا گئے۔ جسٹس امیر عالم خان 1978ء میں لاہو ربار جبکہ 1994ء میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر رہے، وہ 1994ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے تھے۔سابق چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے حوالے سے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے طویل ترین چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہنے والے جسٹس افتخار حسین چودھری 2002ء سے 2007ء تک اس عہدہ پر فائز رہے، چیف جسٹس ہاؤس کی تزئین و آرائش، ضلعی عدلیہ میں کمپیوٹرآئزیشن اور ایئر کنڈیشننگ کا سہرا بھی انہیں کے سر ہے۔فاضل چیف جسٹس 5جون 2015ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس شیخ عبد الرزاق مرحوم 1996ء سے 2002ء تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے، چودھری اعجاز احمد مرحوم نے 1997ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کا حلف لیا، 2012ء میں وفات پانے والے جسٹس محمد غنی مرحوم 2003ء میں اس ادارے کا حصہ بنے جبکہ جسٹس ارشد محمود تبسم نے 2013ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کا حلف لیا اور 27دسمبر 2015ء کو اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔ چیف جسٹس سید منصو رعلی شاہ نے معروف قانون دانوں کے اعزاز میں بھی ریفرنس پڑھے جو اس وفات پا چکے ہیں ان میں ایڈووکیٹ حاکم قریشی، خواجہ سلطان احمد، اعجاز حسین بٹالوی، محمد الیاس خان، میاں اقبال حسین کلانوری، ایس ایم مسعود،خواجہ سعید الظفر اور سردار محمد اسحاق خان شامل ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کا تعزیتی ریفرنس سانحہ کوئٹہ میں شہید وکلاء کو یاد کئے بغیر مکمل نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ مذکورہ سانحہ کے بعد انہوں نے عدالت عالیہ لاہور کے سینئر جج صاحبان کے ہمراہ کوئٹہ کا دورہ کیا اور دکھ کی گھڑی میں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کے شہداء اور زخمیوں کے لئے لاہور ہائی کورٹ اور ضلعی عدلیہ میں فنڈ قائم کیا گیا ، جس میں اسی لاکھ روپے سے زائد رقم ہوئی۔ ۔قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر رانا ضیاء عبد الرحمن، جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن آفتاب احمد باجوہ، پنجاب بار کونسل کے چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی ممتاز مصطفی، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل چودھری محمد حسین، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ڈاکٹر فروغ نسیم، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمان خان،ڈپٹی اٹارنی جنرل عمران عزیز خان اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل خرم خان نے بھی مذکورہ بالا مرحوم ججز اور وکلاء کی یاد میں ریفرنس پڑھے۔

مزید :

صفحہ آخر -